بنگلہ دیش اور پاکستان کو بنجر بنانے کا بھارتی منصوبہ

04 فروری 2013

امریکی اخبار”نیو یارک ٹائمز“ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے کوہ ہمالیہ کے دامن سے بہہ کر پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کو سیراب کرنے والے دریاﺅں کے دہانوں پر ڈیم کی تعمیر کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس وقت بھارت کا ہدف زیادہ تر پاکستان ہے کہ اس کو سیراب کرنے والے پانچ پانیوں کو جن کے دہانے ریاست جموں و کشمیر کے پہاڑوں میں ہے ۔ ان پر بھارت نہایت تیز ی سے نت نئے ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کی سر زمین کو ان دریاﺅں سے اپنی پیاس بجھانے سے محروم کرنے کے مشن پر کار بند ہے ۔کشمیر کے پہاڑوں سے بہہ کر پاکستان میں بہہ کر آنے والے ان دریاﺅں کی وجہ سے ہی بابائے قوم محمد علی جناح نے ریاست جموں و کشمیر کو مملکت خداداد کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔یہ پانی جو پانچ دریاﺅں سے بہہ کر ہندوستانی علاقوں کو سیراب کرتا ہوا پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے ۔ صدیوں سے ان زمینوں کو سیراب کرتا رہا ہے گویا یہ پانی سر زمین پاک کی رگوں میں دوڑتا ہوا وہ لہو ہے جس سے پاکستان کا زرعی وجود زندگی کی نمو پاتا ہے اگر یہ پانی نت نئے ڈیموں میں ذخیرہ کرکے پاکستان کو پانی سے محروم کر دیا جائے تو پاکستان کی سر زمین آبیاری سے محروم ہو کر بنجر ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بابائے قوم نے ریاست جموں وکشمیر کو پاکستان کا جزو لاینفک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے ریاست جموں وکشمیر1950ءکے عشرے میں ہی بلکہ اس سے بھی پہلے 1940ءکے عشرے کے آخری تین بر سوں میں ہی آزاد ہو سکتی تھی ،جب پاکستان کے مجاہدوں نے افواج پاکستان ( جو اس وقت بھی منظم نہیں ہوئی تھیں اور جن کی باگ ڈور بھی ابھی فرنگی جرنیلوں کے ہاتھوں میں تھی ) کا ہر اول دستہ بن کر پاکستان کے کمانڈر ان چیف کو اعتماد میں لئے بغیر کی گئی ‘ یلغار سے بھارت کو اقوام متحدہ میں جا کر اس یلغار کے خلاف واویلامچانا پڑا تھا۔اگر اقوام متحدہ ریاست جموں وکشمیرکے مستقبل کے فیصلے کو کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے طے کرنے کی قرار دادیں منظور کرکے‘کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے کو معرض التوا میں نہ ڈال دیتی اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان ان قراردادوں کے مطابق جنگ بندی قبول نہ کر لیتے تو ریاست جموں وکشمیرزیادہ سے زیادہ 1950ءتک آزاد ہو جاتی لیکن بھارتی حکمرانوں کے مکرواورفریب کے باعث پاکستان نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو قبول کرکے ریاست کا مستقبل کشمیریوں کے حق خود ارادیت پرچھوڑدیااوراب 65 سال گذر جانے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ بھارت ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور اقوام عالم کو ایٹمی پاکستان سے اس قدر پر خاش ہے کہ وہ ہندوستان کو تو ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھنا قبول کر رہا ہے لیکن پاکستان کو ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھنا یہود و نصاریٰ کے ممالک کو اس لئے قبول نہیں ہے کہ انہیں 21ویں صدی میں پتھر کے بتوں اور مورتیوں کی پو جا کرنے والے پاکستان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان رسول عربی کے پیرو کاروں کا ملک ہے اور جغرافیائی طور پر بھی ایک اہم قطعہ ارض کی حیثیت رکھتا ہے۔اس ملک نے ایٹمی طاقت کا درجہ حاصل کر لیا ہے اوریہ دنیائے اسلام کا واحد ایٹمی ملک ہے ایٹمی پاکستان یہود ونصاریٰ کی طاقت کے مراکز پر ایٹمی جنگ کا خطرہ کھڑا کرکے عالم اسلام کے روحانی مراکز کی حفاظت کر سکتا ہے۔یہی وہ بات ہے جو دنیا بھر کے یہودیوں اور عیسائیوں کو کھٹکتی ہے اور انہوں نے بھارت کو تو دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے لیکن وہ پاکستان کو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے طو رپر تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور اقوام متحدہ میں ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کو کشمیریوں کے مستقبل کے حل کےلئے حق خود ارادیت کے اصول پر حل کرنے کی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر بھارت کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ ایک تو وہ کشمیریوں کی نسل کشی کےلئے جو چاہے ظالمانہ اقدامات اٹھائے اور دوسرے برصغیر کے مسلمان ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کی زراعت کو ضرب کاری لگانے کےلئے ان ممالک کوسیراب کرنے والے دریاﺅں کا رخ موڑ سکتا ہے تو موڑ دے ۔ دریاﺅں کا رخ موڑنا فطرت سے پنجہ آزمانئی کے مترادف ہے لیکن ان دریاﺅں کے دہانوں اور بھارتی پہاڑوں میں ان دریاﺅں کی گذر گاہوں پر ڈیموں کی تعمیر کرکے ان کے ذریعہ بہہ کرآنے والے پانیوں کوذخیرہ کرکے دریاﺅں کو پانی کے سیماب خزانوں سے محروم کر دینے کا کام بالآخر دونوں اسلامی ممالک کو بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر آمادہ کر سکتا ہے ۔ بھارت نے 1960ءکے عشرے میں پاکستان کے ساتھ کشمیر سے نکلنے والے دریاﺅں کے حوالے سے ایک معاہدہ انڈس واٹر ٹریٹی طے کیا تھا جس کی روسے ستلج‘ بیاس اورراوی مکمل طور پر بھارت کے حصے میں آگئے تھے جبکہ چناب‘ جہلم اور دریائے سندھ کو پاکستان کا حصہ قراردیا گیا تھا ان دریاﺅں سے بھارت صرف ان علاقوں کو سیراب کر سکتا ہے جن علاقوں سے یہ دریا بہہ کر آتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتے تھے۔ان دریاﺅں کے پانیوں پر بھارتی تسلط کی اس معمولی سی گنجائش کا فائدہ اٹھا کر بھارت نے ان پر چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرنا شروع کر دیئے اوراب تک بھارت 62 ڈیم تعمیر کر چکا ہے جن کا پانی مختلف پائپ لائنوں اور مصنوعی گذر گاہوں کے ذریعے بھارتی زمینوں کی طرف پہنچایا جا رہا ہے لہذا بھارتی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرنے کےلئے پانی کی کوئی قلت نہیں ہے اوران ڈیموں کے ساتھ تعمیر ہونے والے ہائیڈل پاور پراجیکٹس کے ذریعے بھارت اتنی بجلی پیدا کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کو باقاعدہ اس میں سے وافر مقدار میں بجلی فروخت کر سکتا ہے بھارت نے پاکستان کے حصے کے دریاﺅں پر چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ نہایت سر عت کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے اور اس وقت تک 62 ڈیم تعمیر کرچکاہے اور ایک میگا ملٹی پراجیکٹ دولہ بیراج کے نام سے تعمیراتی مراحل میں تھا کہ پاکستان کے حکمرانوں کو اس کی تعمیر کے مضمرات سامنے دیوار پر لکھے ہوئے نظر آنا شروع ہو گئے اور اس نے عالمی بینک کا در وازہ کھٹکھٹا کر وقتی طور پراس پر تعمیراتی کام رکوادیا تھا عالمی بینک ان دونوں ممالک کے ما بین طے پانے والا دریاﺅں کی تقسیم کے معاہدے کا ضامن ہے ۔ بھارت نے عالمی بینک کے نمائندے کی موجودگی میں 27‘ 28 مارچ2012ءکو دولہ بیراج پر مذاکرات کئے اور اس پر تعمیراتی کام‘ عالمی بینک کے حتمی فیصلے تک روک دیا گیا تھالیکن اب بھارت نے پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر دولہ بیراج پراجیکٹ پر تعمیراتی کام دو بارہ شروع کر دیا ہے ۔ پاکستان نے اس صورتحال کا سنجیدہ نو ٹس لیتے ہوئے بھارت کو سختی سے تعمیراتی کام فوری طور پر روک دینے کو کہا ہے۔ بجلی و پانی کی وزارت کے پاکستانی کمشنر مرزا آصف بیگ نے اپنے بھارتی ہم منصب ارنگا ناتھن کوبا ضابطہ طور پر ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہیں دولہ پروجیکٹ پر تعمیراتی کام کو دو بارہ شروع کرنے پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ دو لہ بیراج پراجیکٹ سے ہٹ کر شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں زیر تعمیر کشن گنگا بجلی پراجیکٹ کا معاملہ بھی پاکستان نے بین الاقوامی عدالت میں اٹھا رکھا ہے پاکستان کی طرف سے دو لہ بیراج پرا جیکٹ پر تعمیراتی کام روکنے کےلئے دباﺅ ڈالے جانے پر بھارت ایک مرتبہ پھر سیخ پا ہو گیا ہے اور اس نے کنٹرول لائن پر پاکستانی چوکی پر حملہ کرکے پاک فوج کے ایک جوان کو شہید کر دیا ہے ۔ بھارت کی طرف سے یہ کارروائی نئے سال کا تحفہ تھا۔ یہ حملہ چوکی ساون پترا پر کیا گیا تھا اور اس حملے میںچکوال سے تعلق رکھنے والے نائیک محمد اسلم جاں بحق ہوئے تھے ۔ اس حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا تو بھارتی فوجی اسلحہ چھوڑ کر پسپا ہو گئے اور جب با قاعدہ سفارتی طور پر احتجاج کیا گیا تو جواباً بھارت کی طرف سے الزام سامنے آیا ہے کہ پاکستانی فوج‘ مقبوضہ کشمیر میں در اندازی کرکے دو بھارتی فوجی سورماﺅں کی گردنیں کاٹ کر لے گئے ہیں بھارت نے پاکستان کی زرعی معیشت کو تباہ کرنے کےلئے کشمیر سے نکلنے والے دریاﺅں پر اس وقت تک 62 ڈیم تعمیر کر لئے ہیں دو لہ بیراج پراجیکٹ کی تعمیر کا کام مارچ2012ءکے مذاکرات میں اس کی تعمیر کو روک دینے کے اصولی فیصلے کے بعد دو بارہ شروع کر دیا گیا ہے اور جنوری 2013ءمیں امریکی اخبار”نیو یارک ٹائمز“ میں یہ رپورٹ چھپ کر سامنے آگئی ہے کہ آئندہ 17 سالوں میں یعنی 2030ءتک بھارت کوہ ہمالیہ کے دیگر سلسلوں سے نکلنے والے دریاﺅں پر بھی ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے گااوراس مدت میں ان ڈیموں کی تعداد292 ہوجائے گی او رپاکستان کے بعد بنگلہ دیش کی سر زمین کو سیراب کرنے والے دریاﺅں پر بھی بھارت کا مکمل کنٹرول ہو جائے گا بھارت کوہ ہمالیہ میں ہر 20 میل کے فاصلے پر ایک ڈیم بنائے گا۔ 2050ءتک براہما پترا میں 20 فیصد اور دریائے سندھ میں 8 فیصد پانی باقی رہ جائے گا ۔ گزشتہ عشرے میں ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے ایک کروڑ64 لاکھ سے چار کروڑ تک لوگ بے گھر کئے جا چکے ہیں بھارتی ڈیموں کی تعمیر سے ایک سو ایکڑ رقبے کے جنگلات زیر آب آجائیں گے ‘ پودوں کی 22اقسام اور ورائٹی بریت کے سات گروپوں کی تمام نسلیں 2025ءتک ختم ہو جائیں گی ان ہائیڈرو پراجیکٹس کے خلاف بنگلہ دیش اور پاکستان میں تو شدیدرد عمل سامنے آئے گا ہی البتہ بھارت میں بھی شدید مزاحمت ہو گی ان ہائیڈرو پراجیکٹس کی تعمیر سے بھارت کی ہائیڈرو پاور صلاحیت7 ہزار سے 11ہزار میگا واٹ اور پھر اس سے بھی دو گنا ہو جائے گی اور 2030ءمیں قومی ضروریات کی چھ فیصدبجلی ہائیڈرو پراجیکٹس کے ذریعے حاصل ہونا شروع ہو جائے گی ایک طرف تو دریاﺅں کے پہاڑی دہانوں پر ڈیموں کی تعمیر کے بھارتی عزائم کا یہ عالم ہے کہ بھارت میں ڈیموں کی تعمیر میں بھارت اس حد تک سنجیدہ ہے کہ اخبار”نیو یارک ٹائمز“ کے مطابق بھارت ڈیموں کی تعمیر کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے اپنے شہریوں کو شائد مناسب معاوضہ بھی نہ دے سکے۔محققین کے مطابق ان منصوبوں کی کوئی سائنسی منطق نہیں ہے اور کمیونٹی پالیسی بھی ندارد ہے لیکن بھارت ڈیموں کی تعمیر میں اس بات کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہے کہ اس کے دو پڑوسی ملک ان ڈیموں کے اثرات سے بنجر ہو جائیں گے اس وقت چین نے دنیا میں سب سے زیادہ ڈیم اپنے ملک میں بنا رکھے ہیں ڈیموں کی تعمیر ملکوں کی معیشت کو مضبوط اور قوموں میں خوشحالی کا باعث بنتی ہے لیکن چین و بھارت کے بر عکس پاکستان میں بر سر اقتدار آنے والے حکمرانوں کو اپنے ملک اور قوم کے مستقبل کے لئے ڈیموں کی تعمیر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ان کی طرف سے کالا باغ ڈیم جیسے قومی مفاد کے بہترین منصوبے پر اس قسم کے تبصرے کہ یہ ڈیم ان کی نعشوں پر بنے گا اور اس ملک کے چار میں سے تین صوبوں کی طرف سے اتنہائی قابل عمل ڈیم منصوبے کی اندھا دھند مخالفت اس امر کی آئینہ دار ہے کہ پاکستان کے موجود ہ حکمران‘ پاکستان کی آئندہ نسلوں کو ورثے میں بنجر زمینیں اور تاریکی میں ڈوبا ہوا مادر وطن دینے کی کوششوں میں مصروف ہےں۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر میں شاہراہ ریشم آڑے آتی ہے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو سیاسی انا کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے آخر پاکستان کا پانی کے ذخائر کے حوالے سے کیا مستقبل ہے ؟۔