کالا باغ ڈیم بقائے وطن کیلئے ناگزیر

04 فروری 2013


مکرمی! قائداعظم نے جب میانوالی (کالاباغ) ہائیڈرو پراجیکٹ کا حکم صادر فرمایا تو پاکستان کے پہلے بجٹ کے اگلے ہی ماہ مارچ1948ءکو پہلی معاشی پالیسی میں اس کا اعلان ہو گیا۔ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے دور حکومت میں اس کی تعمیر کو عملی جامہ پہنانے کا عزم کیا۔ ضیاءالحق نے اپنے دور حکومت میں اے این پی (عوامی نیشنل پارٹی) کے سربراہ عبدالولی خان کو اعتماد میں لے کر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے بارے میں تمام قسم کے تکنیکی اعتراضات اور تحفظات دور کر دیئے تھے۔ اس پر کام بھی شروع ہو گیا اور اس کی فزیبلٹی پر اربوں روپے بھی خرچ ہو چکے ہیں۔ اب اگر اس کی تعمیر شروع کر دی جائے تویہ کم لاگت اور تھوڑے ہی عرصہ میں تیار ہو سکتا ہے۔ اس کی تعمیر سے نہ صرف ہزاروں میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو گی بلکہ آئندہ سیلابوں کی روک تھام کا باعث بھی ہو گا۔ ہمارے بند پڑے کارخانے اور صنعتیں پھر سے رواں دواں ہو سکتی ہیں۔ ڈوبی معاشی ناﺅ کو پھر سے سہارا مل سکتا ہے۔ تاریخ کی بدترین لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی کے عذاب سے عوام کو نجات مل سکتی ہے۔ غیر کاشت اور بنجر ہزاروں ایکڑ اراضی زیر کاشت لا کر ملکی غذائی قلت دور کی جا سکتی ہے۔ ہر طرف ہریالی اور خوشحالی کا سماں پیدا کیا جا سکتا ہے۔ (محمد رفیق قمر ضیاءروڈ شکر گڑھ ، نارووال)