گلی محلوں میں آہنی گیٹ لگانے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا

04 فروری 2013

فیصل آباد میں جب سے سنگین جرائم کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوا ہے پوش علاقے تو ایک طرف عام رہائشی علاقوں میں بھی لوگوں نے اپنی گلیوں کے کونوں پر آہنی گیٹ نصب کر کے اپنی گلیوں کو قلعہ کی شکل دے رکھی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ بعض رہائشی علاقوں میں یہ حفاظتی آہنی گیٹ مستقل بند رکھے جاتے ہیں جس وجہ سے لوگوں کوآمدورفت میں شدید دشواریوں کا سامناکرنا پڑتاہے آہنی گیٹ جنہیں حفاظتی گیٹ کا نام دیا جاتا ہے گلیاں اور بازار سرراہ عام ہوتے ہیں اور ان کا کوئی شخص اپنی ذاتی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اس کے ساتھ ہی قانون کے تحت پاکستان کا کوئی شہری اس امرکامجاز نہیں ہے کہ وہ کسی شاہراہ کو اپنی دھونس اوردھاندلی سے بند کرتے ہوئے اسے نوگوایریا میں تبدیل کر دے لیکن فیصل آباد میں پوش علاقے اور عام رہائشی علاقوں میں لوگوں نے آہنی گیٹ نصب کر کے پورے شہر کے اکثرعلاقوں کو نوگوایریا میں تبدیل کر رکھا ہے۔ یہ انسانی اور شہری حقوق اورقانون کی خلاف ورزی ہے۔فیصل آبادمیں سنگین وارداتوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر اہل محلہ یا اہل گلی نے آہنی گیٹ نصب کرتے ہوئے خود حفاظت کا اہتمام کیا ہوا ہے اور فیصل آباد میں آہنی گیٹ گلیوں کے کونے پر لگانے کی رسم کراچی کے نوگوایریا کی تقلید کرتے ہوئے در آئی لیکن ان آہنی گیٹوں کے باوجود نہ جرائم میں کوئی کمی ہوئی ہے اور نہ چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں پر ہی قابو پایا جا سکا ہے۔بلکہ عام آدمی کے لئے یہ آہنی گیٹ وبال جان ضرور بنے ہوئے ہیں اور ان آہنی گیٹوں کی وجہ سے لوگوں کو خاص طور پر جو مہمان آتے ہیں جنہیں درجنوں گلیوں کے چکر کاٹ کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑتا ہے۔ عدالتوں میں ایسے بہت سے مقدمات بھی زیرسماعت رہے ہیں کہ کسی شخص نے اپنی سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس گلی یا راستہ کو بند کر دیا جو شارع عام تھا اور عدالتوں کے حکم پر اس راستہ کو واگزار کیا گیا۔ نوائے وقت کی سروے ٹیم نے جب عوام کی شکایت کے پیش نظرفیصل آبادکے پوش علاقوں پیپلزکالونی، مدینہ ٹا¶ن، بٹالہ کالونی، آفیسر کالونی و دیگر علاقوں کا سروے کیا توعوام کی بڑی تعداد نے ان آہنی گیٹوں کی وجہ سے راستوں کی بندش سے جن مشکلات اور دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، ڈی سی او، ڈویژنل کمشنر اور سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بند راستوں کو فوری طور پر بحال کرانے کا اہتمام کریں اور ان جبری بند راستوں کی وجہ سے عام آدمی کو آمدورفت میں جن مشکلات سے واسطہ پڑاہوا ہے اس سے نجات دلائیں۔ اس وقت فیصل آباد کی صورت حال یہ ہے کہ پوش علاقوں میں تو آہنی گیٹ لوگوں نے لگوا ہی رکھے ہیں لیکن عام رہائشی آبادیوں میں بھی لوگوں نے آہنی گیٹ لگوا کر ایک نئی مصیبت کھڑی کر رکھی ہے اورحیران کن بات ہے کہ بعض آہنی گیٹ تو مستقل بند رہتے ہیں اور ان سے پیدل چلنے والوں کے لئے آہنی گیٹ میں سے گزرنے کے لئے راستہ نہیں ہوتا اورحیران کن بات ہے کہ اصول و قواعد کے مطابق صرف انہیں راستوں پر آہنی گیٹ انتظامیہ کی منظوری کے بعد نصب کرنے کی اجازت ہے جہاں مقامی آبادی یا گلی کے مکینوں نے اپنی کوئی سوسائٹی بنائی ہوتی ہے اور اس سوسائٹی نے گیٹ پر چوکیدار بھی مقرر کیا ہوتا ہے اور چوکیدار کی غیرموجودگی میں کسی کو سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق اورہر جگہ آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قلعہ بند ہونا ماضی کی روایت ہے اور اس زمانہ میں بھی شناخت کے بعد انسان کو قلعہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت ہوتی تھی لیکن اب تو ہر شخص خود حاکم قرار دیتے ہوئے اپنی مرضی کے اقدامات اٹھاتا ہے اور اسے اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کہ قانون نے کون کون سی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور شہری حقوق کی کیا حدود ہیں۔ گلیوں میں جس قدر بھی لوگوں نے آہنی گیٹ لگا کر بظاہر سنگین وارداتوں کے آگے بند باندھنے کی سعی کی ہے وہ قطعی طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے کیونکہ جرائم پیشہ افراد جب کسی ایسی گلی میں واردات کرتے ہیں تو یہ آہنی گیٹ ان کی واردات کی کامیابی میں معاونت فراہم کرتے ہیں اوربڑی آسانی کے ساتھ تمام گلی والوں کو یرغمال بنا کر اپنی واردات کرتے ہیں۔ پھر ایک اور امر بھی بڑا غورطلب ہے اور اکثر ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ اچانک کوئی شخص کسی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے یا اسے کوئی حادثہ درپیش ہوتا ہے تو اسے ایمرجنسی میں ہسپتال لے جانے میں درجنوں گلیوں کا چکر کاٹنا پڑتا ہے جس سے بعض اوقات اس کی زندگی بھی تمام ہو جاتی ہے اور پھر موٹرسائیکل سوار، سائیکل سوار اور کار سواروں کو کئی کئی کلومیٹر کا زائد سفر کرنا پڑتا ہے اور ان آہنی گیٹوں کی وجہ سے حادثہ کی صورت میں ریسکیو1122 کا عملہ بھی جائے حادثہ پر بروقت نہیں پہنچ سکتے۔ لہٰذا ڈی سی او فیصل آباد امین چوہدری اور سی پی او فیصل آباد سے عوام کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ سی پی او فیصل آباد تمام تھانوں کے ڈی ایس پی حضرات کو ہدایت کریں کہ وہ اپنے اپنے تھانوں کی حدود میں رہائشی آبادیوں کا سروے کریں اور جن رہائشی آبادیوں میں آہنی گیٹ قواعد کے خلاف نصب کئے ہوئے ہیں ان تمام کو ختم کیا جائے اور آئندہ کوئی آہنی گیٹ اس وقت تک کسی کو نصب کرنے کی اجازت نہ دی جائے جب تک اہل محلہ یا گلی کی سوسائٹی تحریری طور پر رات اور دن کے لئے الگ الگ چوکیدار رکھنے کی یقین دہانی نہیں کرتے اور دن کے اوقات میں یہ آہنی گیٹ کھلے نہیں رکھتے۔ یہ آہنی گیٹ جو بظاہر خودحفاظتی کے مظہر ہیں یہ الٹا مسائل کا موجب بنے ہوئے ہیں اور ان کا نصب کرنا بھی تجاوزات میں آتا ہے لہٰذا تمام میونسپل ٹاون ایڈمنسٹریشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان تجاوزات کے خلاف آپریشن کرے جو انسانی اور شہری حقوق کی نفی کرتے ہیں اور قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے۔