رہائشی بستی ریلوے کالونی

04 فروری 2013

پسماندہ رہائشی آبادیاں درجنوں مسائل کا شکار ہیں ان مسائل میں بلدیاتی حوالہ سے صفائی اور سیوریج کا بدترین نظام بھی اپنی جگہ پر ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور ہر بلدیاتی عہد میں بھی ان پسماندہ رہائشی آبادیوں سے بلدیاتی اداروں میں نمائندگی ہونے کے باوجود ان کے بلدیاتی مسائل میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے ان پسماندہ رہائشی آبادیوں میں فیصل آباد کی ریلوے کالونی بھی شامل ہے اور اس ریلوے کالونی کی تعمیر اسی وقت شروع ہو گئی تھی جب فیصل آباد ریلوے کو جنکشن کا درجہ حاصل ہوا تھا اورریلوے ملازمین کو رہائش کی سہولت فراہم کرنے کےلئے ریلوے کالونی کی بنیاد رکھی گئی اس زاویہ نگاہ سے فیصل آباد میں حکومتی سطح پر جو کالونی تعمیر کی گئی ان میں ریلوے کالونی قدیم ترین رہائشی کالونی کا درجہ رکھتی ہے اور جب پاکستان ریلوے ایک منافع بخش ادارہ کا درجہ رکھتی تھی اب بھی اس ریلوے کالونی کے رہائشوں کو رہائش کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے بلدیاتی مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی ریلوے ملازمین کی یونین نے جہاں اپنی تنخواہوں میں اضافہ اوردیگرسہولتوں پر مشتمل ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کئے وہاں کسی بھی ریلوے کے ملازمین کی یونین نے ریلوے کالونیوں کی حالت زار کی طرف چیئرمین پاکستان ریلوے اورریلوے کے دیگر افسران کی توجہ مبذول کرائی اور یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ اب تک جس قدر ریلوے کے وفاقی وزیرہوئے ہیں حتیٰ کہ موجودہ وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلوراپنے حالیہ اورسابقہ دورمیں ریلوے کالونیوں کی حالت تبدیل کرنے کےلئے فنڈز مختص کئے حالانکہ حاجی غلام احمد بلور کا تعلق اس جماعت سے ہے جو اپنے طور پر انقلابی جماعت قرار دیتی ہے اور سوشلزم کے حوالہ سے فلسفہ سیاست پر یقین رکھتی ہے اورجب بھی کسی حکومت کانیشنل عوامی پارٹی جو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قانونی قرار دینے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کہلاتی ہے اور جس پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی جماعت کو خلاف قانون قرار دیا تھا اسی پارٹی کی اس وقت مضبوط اتحادی ہے۔اور اس کے لیڈر اسفند یار ولی کا کہنا ہے کہ اکٹھے آئے تھے اور اکٹھے ہی جائیں گے ہم دوستوں کو راستہ میں چھوڑنے کے حامی نہیں ہیں حاجی غلام احمد بلور اے این پی کے سکّہ بند وزیر ریلوے ہیں اورانہوں نے ہمیشہ ہی ریلوے کی وزارت کو اپنا حق سیاست قرار دیا ہے انہوں نے کبھی ریلوے ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی طرف کبھی توجہ نہیں دی بلکہ جب بےنظیر بھٹو کے عہد حکومت میں ریلوے کی اراضی کی لوٹ سیل شروع ہوئی تو بہت سے جیالوں نے ریلوے کی اراضی کے ساتھ ریلوے کالونیوں پر بھی ہاتھ صاف کئے پریم یونین کے سربراہ اورجماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی حافظ سلمان بٹ جو پاکستان ریلوے کی نجکاری کی بجائے پاکستا ن ریلوے کو یونین کے نام پر ٹھیکہ لینے کی جدوجہد کر رہے ہیں دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ریلوے کو ایک منافع بخش ادارے میں نہ صرف تبدیل کر دیں گے بلکہ کروڑوں روپیہ منافع بھی دیں گے انہوں نے جب بھی فیصل آباد کا دورہ کیا کبھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ ان کی پریم یونین کے ممبروں کی غالب اکثریت جس ریلوے کالونی میں زندگی کے دن بسر کر رہی ہے اس جدید اور ترقی یافتہ عہد میں بلدیاتی مسائل کے حوالہ سے انہیں وہ سہولتیں میسر نہیں ہیں جو ایک صدی قبل ترقی پذیر ممالک کے عوام کو حاصل تھیں ان تمام عوامل اوردرپیش حقائق کی روشنی میں فیصل آباد کی ریلوے کالونی پسماندہ ہی نہیں بلکہ درماندہ رہائشی کالونی ہے اور جو دیہی آبادیوں میں جناح کالونیاں قائم کی گئیں ہیں ان جناح کالونیوں کوفیصل آباد کی ریلوے کالونی سے زیادہ بلدیاتی سہولتیں موجود ہیں ۔بلدیاتی سہولتیں فراہم کرنا چاہے وہ سرکاری ملازمین کی رہائشی کالونیاںہواوران میںصوبائی اوروفاقی حکومت کی کوئی تمیز نہیں ہے انہیں بلدیاتی سہولتیں مہیا کرنا بلدیاتی اداروں کاکام ہے ان میں ٹی ایم ایز بھی شامل ہیں اور ترقیاتی ادارہ جیسا کہ ایف ڈی اے اور واسا ہیں ۔ ریلوے کالونی کے رہائشی گذشتہ پندرہ برسوں سے بلدیاتی مسائل کی چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیںاور ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں حتیٰ کہ فیصل آباد ریلوے کے سپرٹنڈنٹ جو کہ اسٹیشن ماسٹر بھی ہیں انہوں نے ریلوے کالونی کے بلدیاتی مسائل کے حوالہ سے کبھی ڈی سی او اور ڈویژنل کو کوئی میمو تحریر نہیں کیا اس وقت صورت حال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ ایک صدی قبل تعمیر ہونے والی اس رہائشی کالونی کے مکانات بوسیدہ ہو چکے ہیں رہی سہی کسر ریلوے کالونی کے گندے نالے نے پوری کردی ہے رہائشوں کا کہنا ہے کہ گندے نالے کا پانی جب بھی اوور فلو ہوتا ہے تو وہ ریلوے کالونی کے مکانوں کے اندر داخل ہوجاتا ہے اس کے ساتھ ہی مکانوں کی بنیادوں میں داخل ہو کر سیم و تھور کا باعث بن رہا ہے جس وجہ سے ریلوے کالونی کے مکانات بوسیدہ ہوچکے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریلوے کالونی فیصل آباد کے عین وسط میں واقع ہونے کے باوجود مسائل کالونی کا درجہ اختیار کر چکی ہے پل جھال خانوآنہ کے نیچے جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر اور جابجا گندے نالے سے نکل کر پانی مار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے گندے نالے کی واسا والوں نے کبھی صفائی کرانے کی زحمت گوارا نہیں کی حالانکہ متعدد بار واسا کے متعلقہ حکام اور ڈائریکٹر آپریشن کی درخواستوں کے ذریعے اس نازک صورت حال کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی لیکن واسا کے حکام نے کبھی بھی ہماری کسی درخواست کو درخوراعتنا تصورنہیں کیا ۔نوائے وقت اور وقت نیوز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ریلوے کالونی فیصل آباد کی دوبدقسمت رہائشی کالونی ہے جس کے مسائل کی طرف نہ کبھی دونوں بڑی جماتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے توجہ دی ہے البتہ جب کبھی الیکشن کا زمانہ ہوتا ہے تو سبز باغ دکھانے کےلئے ضرور آتے ہیں اور ایسا یقین دلاتے ہیں کہ ریلوے کالونی کے نقشہ کو پوش علاقہ میں تبدیل کر دیا جائے گا لیکن وقت گذرنے کے بعد پوش تو ایک طرف رہا اس بدقسمت کالونی کو کوئی کفن پوش کرنے بھی نہیں آتا۔صفائی کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایم اے نے نظر وٹو کی طرح ایک ٹرالی کھڑی ضرور کی ہوئی ہے لیکن صفائی کا عملہ تو جمعرات کے جمعرات بھی دکھائی نہیں دیتا یہی وجہ ہے کہ ریلوے کالونی کی ہر گلی میں کوڑے کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں اس گندگی اور غلاظت کی وجہ سے مچھروں کی بھرپور انداز میں افزائش ہوتی ہے اور ملیریا کے امراض نے تو اس کالونی میں مستقل ڈیرے جمائے ہوئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ گندے نالے کی ہنگامی طور پر صفائی کرائی جائے چونکہ گندے نالے اور سڑک کا اب لیول ایک ہی ہو چکا ہے اور یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ گندہ نالہ کہاں بہہ رہا ہے اور سڑک کہاں ہے لہذا اگر موٹر سائیکل سوار اور گذرنے والی کاریں گندے نالے میں گر کر حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں ان حادثات پر قابو پانے کےلئے گندے نالہ کی دیوار تعمیر کرائی جائے اور یہ مطالبہ انہوں نے ڈی سی او فیصل آباد سے کیا ہے یہ دیوار تعمیر ہوتی ہے یا نہیں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے البتہ ریلوے کالونی میں موٹر سائیکل سواروں کو اپنی حفاظت خود کرنا ہو گی۔