لاہور بورڈ اور ہمارا تعلیمی نظام

04 فروری 2013


مکرمی! لاہور بورڈ نے مارچ میں ہونے والے پیپرز میں بہت سی مثبت تبدیلیاں کی ہیں جن کو ہم ستائش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے باے میں بچوں کو بالکل آخر میں آگاہ کیا گیا ہے۔ سیشن کے شروع میں نہم کی مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کے بارے میں انتہائی بے یقینی کی فضا رہی۔ نئی اسلامیات لگائی گئی جس میں بیشمار اغلاط تھیں پھر مہینے کے بعد پرانی کتاب کو ہی لاگو کر دیا گیا۔مطالعہ پاکستان نہم میں اس سال پہلی دفعہ لگایا گیا جو سیشن شروع ہونے کے دو ماہ بعد کنفرم ہوا۔اسلامیات کے ماڈل پیپر میں آیات کی تشریح کا کہا گیا ہے جس کا کتاب میں وجود ہی نہیں۔ بہت سے گورنمنٹ سکولوں سے رابطہ کرنے پر تاحال بے یقینی ہے کہ آیات کی تشریح آئے گی یا نہیں جبکہ ڈیڑھ ماہ میں پیپرز ہونے والے ہیں۔بورڈ کے نئے ماڈل پیپرز میں پریکٹیکل کو پیپرز کا حصہ قرار دیا گیا جس کے بارے میں سیشن کے اختتام میں بتایا گیا ہے۔ اب بچے پریکٹیکل بھی تیار کریں اور نئے سلیبس کے مطابق تیاری بھی کریں۔آئی کام میں اکاﺅنٹنگ اور Math کے Pattern میں فرق ہے اور اب آکر ہمیں معلوم ہوا ہے جبکہ چند ماہ میں پیپرز ہونے والے ہیں۔ میں ایک سکول اور کالج چلا رہی ہوں۔ بہت سے اساتذہ اور سربراہان سے ملاقات رہتی ہے ہم سب بورڈ سے التماس کرتے ہیں کہ خدارا جو بھی تبدیلیاں کریں اس کے بارے میں بچوں کو شروع سیشن میں آگاہ کریں۔(ایک قاریہ، لاہور )

ہمارا تعلیمی نظام

آج بچے یونیورسٹوں میں داخلہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ جہاں پروہ زندگی کی ...