کیا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عمل ہوسکے گا؟

04 فروری 2013

پاکستانی میڈیا نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران فعال اور متحرک کردار ادا کرتے ہوئے کرپشن کو بے نقاب کیا ہے۔ عوام ہر روز کرپشن کی داستانیں سن کر اور عجب کہانیاں پڑھ کر ”نکونک“ یعنی عاجز آئے ہوئے ہیں۔ ان کی زبرست خواہش ہے کہ آنے والے انتخابات میں کرپٹ افراد دوبارہ منتخب نہ ہوسکیں اور قانون ان پر پابندی لگادے۔ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے پہلی بار آئین کی بالادستی کا کلچر متعارف کرایا ہے۔ انتظامیہ اگر قانون شکن نہ ہوتی تو معاشرے میں قانون کی حکمرانی کا کلچر فروغ پاچکا ہوتا۔ انتظامیہ پر اشرافیہ کا قبضہ ہے اور اشرافیہ قانون پر عمل کرنا اپنی توہین سمجھتی ہے۔ قانون تو ”کمیوں“ کیلئے ہوتا ہے اور اشرافیہ کے منہ سے نکلا ہوا لفظ خود قانون ہوتا ہے۔ یہ سب فیوڈل کلچر کے معجزے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے تاریخی اور یادگار لانگ مارچ کرکے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی اہمیت کو اُجاگر کردیا ہے اور اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ آئین کے ان دونوں آرٹیکلز کو انتخابات لڑنے والے اُمیدواروں پر لاگو کیا جائے تاکہ بددیانت اور کرپٹ افراد اسمبلیوں میں دوبارہ نہ آسکیں اور نیک نام افراد کیلئے امکانات اور مواقع پیدا ہوں۔ مستند اور معتبر راوی بیان کرتے ہیں کہ فخر الدین جی ابراہیم نے چیف الیکشن کمشن کا منصب اس شرط پر قبول کیا تھا کہ وہ سیاست کا گند صاف کرینگے خدا کرے کہ وہ اس مقدس مشن میں کامیاب ہوجائیں۔ جب انہوں نے منصب سنبھالا تو یہ ماجرا کھلا کہ الیکشن کمشن کے چار ارکان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ ہیں اور پارلیمانی جماعتوں نے بڑی ہوشیاری بلکہ عیاری سے کام لے کر آئین میں ترمیم کرکے چیف الیکشن کمشنر کی ویٹو پاور ختم کردی ہے اور اب وہ دیگر چار ارکان کی طرح محض ایک رکن ہیں۔ آئینی ترمیم کے مطابق الیکشن کمشن اپیلوں، سکروٹنی اور عذر داریوں کا فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر کرےگا اور چیف الیکشن کمشنر اکیلے کوئی ٹھوس کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔ صاف اور شفاف انتخابات کا پہلا تقاضہ یہ تھا کہ الیکشن کمشن کے باقی چار ارکان بھی فخرالدین جی ابراہیم کے مرتبہ اور معیار کے مطابق دیانتدار اور غیر جانبدار ہوتے۔”امیر المومنین“ جنرل ضیاءالحق نے 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات سے قبل آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں اضافے شامل کرائے تھے ۔پاکستان کے بزرگ صحافی الطاف حسن قریشی راوی ہیں کہ انہوں نے جنرل ضیاءالحق پر زور دیا کہ وہ مذہبی شرائط آئین میں شامل نہ کریں کیونکہ اس طرح کم فہم مولوی پارلیمنٹ میں منتخب ہوکر آجائیں گے جو قائد اور اقبال کے تصور کے خلاف کام کریں گے۔ اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ آئین کا آرٹیکل 62 سیکولر اُمیدواروں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ ریٹرننگ افسر دعائے قنوت سنانے کے لیے کہے گا جو نہیں سنا سکے گا وہ نا اہل قرارپائے گا۔ آرٹیکل 62 کے مطابق کوئی شخص پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہیں ہے ”جو اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو۔ وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نہ ہو نیز کبیرہ گناہوں سے اجتناب نہ کرتا ہو۔ وہ سمجھدار، پارسانہ ہو اور فاسق ہو اور ایماندار و امین نہ ہو۔ کسی اخلاقی پستی میں ملوث ہونے یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں سزا یافتہ ہو۔ اس نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی سا لمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریہ پاکستان کی مخالفت کی ہو“۔ آرٹیکل 63 کے مطابق وہ شخص پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کے لیے نا اہل ہوگا ”جو فاترالعقل ہو اور کسی مجاز عدالت کی طرف سے ایسا قرار دیا گیا ہو، وہ دیوالیہ ہو، وہ پاکستان کا شہری نہ رہے اور کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرلے۔ وہ کسی ایسی رائے کی تشہیر کررہا ہو یا کسی ایسے طریقے پر عمل کررہا ہو جو نظریہ پاکستان یا پاکستان کے اقتدار اعلیٰ، سا لمیت یا سلامتی یا اخلاقیات یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کیلئے مضر ہو یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو۔ وہ کسی مجاز سماعت عدالت کی طرف سے فی الوقت نافذالعمل کسی قانون کے تحت بدعنوانی، اخلاقی پستی یا اختیار یا اتھارٹی کے بے جا استعمال کے جرم میں سزا پاچکا ہو“۔ یہ ہیں وہ اہم شقیں جن کو آنےوالے انتخابات میں سکروٹنی کے دوران زیر بحث لایاجاسکتا ہے۔ اگر آئین کی ان شقوں پر سختی سے عملدرآمد کرلیا جائے تو پارلیمنٹ میں نیک نام افراد آسکتے ہیں جو پاکستان کو سیدھے راستے پر ڈال سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر مکمل عمل کرنا آسان کام نہیں ہے۔ البتہ اگر الیکشن کمشن انتخابات سے پہلے ہوم ورک کرلے تو ان آرٹیکلز کی کافی شرائط پر عمل کیا جاسکے گا۔ الیکشن کمشن اسلامی نظریاتی کونسل سے اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں بیس سوالات اور ان کے جوابات پر مبنی سوالنامہ جاری کرے جو اخبارات میں شائع کردیا جائے۔ ریٹرننگ آفیسر اُمیدوار سے صرف وہی سوال پوچھنے کا مجاز ہو جو سوال نامے میں موجود ہوں۔ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے لہٰذا اراکین اسمبلی کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کا علم ہونا ہی چاہیئے۔ اگر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد نہیں کیا جانا تو پھر منافقت کیوں کی جائے اور ان دونوں آرٹیکلز کو آئین سے حذف کیوں نہ کردیا جائے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق الیکشن کمشن نے اُمیدوار کی نامزدگی کا نیا فارم تیار کیا ہے جس میں اُمیدوار کو انکم ٹیکس، قرضے اور بلوں کی ادائیگی کی تفصیل درج کرنا ہو گی۔الیکشن کمشن ایسے تمام اراکین اسمبلی کی لسٹ شائع کر دے جو ٹیکس نہیں دیتے جنہوں نے قرضے معاف کرائے یا واپس نہیں کیے۔ جو سرکاری واجبات کے نادہندہ ہیں انہوں نے بجلی، پانی، گیس ، فیول کے بل اور پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کئے۔ جن کی بی اے کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوچکی ہیں ایسے افراد کو قوانین کے مطابق انتخابات سے پہلے ہی نا اہل قراردے دیا جائے تاکہ وہ اُمیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی ہی داخل نہ کراسکیں۔مسلم لیگ(ن) سکروٹنی کے لیے تیس روز کی مہلت کی مخالفت کررہی ہے ۔ درپردہ پی پی پی بھی اس کی حامی ہے ان کے خیال میں انتخابی عمل کی مہلت کو طول دینے سے انتخابات کے التواءاور دونوں جماعتوں کے اُمیدواروں کی نااہلی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ افسوس کا مقام ہے کہ کسی سیاسی اور مذہبی جماعت نے آئین پر عملدرآمد کے لیے ڈاکٹر طاہرالقادری کا ساتھ نہ دیا اور نہ ہی ابھی تک کسی سیاستدان نے عوام کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پارٹی ٹکٹ دیتے وقت آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ اسے سیاسی منافقت نہ کہا جائے تو اور کیا نام دیا جائے۔ الیکشن کمشن پاکستان اگر متناسب نمائندگی کے اصول پر انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوجائے تو قوم کی جان پانچ دس کروڑ خرچ کرکے انتخابات جیتنے والے اُمیدواروں سے چھوٹ سکتی ہے۔ عوام اُمیدوار کی بجائے جماعتوں کو براہ راست ووٹ ڈالیں اور جماعتوں کو حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے نشستیں آلاٹ کردی جائیں۔ سیاسی جماعتوں پر یہ قانونی پابندی ہو کہ وہ ممکنہ اراکین پارلیمنٹ کی لسٹ آئین کی روشنی میں صرف اور صرف میرٹ پر تیار کریں جس میں تمام طبقوں کو نمائندگی دی گئی ہو۔ الیکشن کمشن اس لسٹ کی سکروٹنی کرے۔ عوام کا بھی قومی فرض ہے کہ بدنام افراد کو مسترد کردیں اور جماعتی، لسانی، مذہبی اور برادری کی وابستگیوں سے اوپر اُٹھ کر اس بار ایک ووٹ پاکستان کے لیے کاسٹ کردیں۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد سے 60 فیصد نئے چہرے اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے پاکستان کے عوام اگر یقین محکم کے ساتھ ارادہ کرلیں اور کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف اپنے ووٹ کا حق جوش اور جذبے کے ساتھ استعمال کریں تو پاکستان کرپشن جیسے موذی مرض سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔عوام کو اپنا مقدر بدلنے کیلئے نئے انتخابات کی صورت میں سنہری موقع ملنے والا ہے۔ کیا وہ اس بار اپنا مقدر بدلنے میں کامیاب ہوجائیں گے اس سوال کا جواب پولنگ ڈے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔