ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور کوچہ سیاست

04 فروری 2013

ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میری نیاز مندی کا سلسلہ دو دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ شاید ایک بار پہلے بھی عرض کیا تھا کہ میں نے طائف‘ سعودی عرب سے ڈاکٹر صاحب کو اپنا سفر نامہ ”کنارے کنارے“ ارسال کیا تھا۔ تو انہوں نے جواباً بڑے محبت بھرے اور شفقت آمیز کلمات کا اظار کیا اور ساتھ ہی ”نوادرات“ کے عنوان سے شعرائے کرام کا منتخب کلام بھی مجھے بھیجا۔ اس عنایت پر یقیناً مجھے بہت خوشی ہوئی اور آرٹ پیپر پر نہایت دیدہ زیب انتخاب کلام شعراءدیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنی اس بیاض میں ولی دکنی سے لیکر پروین شاکر تک اور پھر غلام حسین عزم سے لے کر حمیدہ بانو مخفی تک کا چنیدہ کلام نوٹ کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی عنایات کا سلسلہ بہت طویل ہے کچھ عرصہ قبل میں نے ان سے آئی ایل ایم کالج سرگودھا کے سالانہ میگزین کے لئے انٹرویو کی درخواست کی تو انہوں نے کالج کی انگریزی زبان کی لیکچرار مس تحسین فاطمہ کو تفصیلی انٹرویو دیا اور ہر سوال کا کافی و شافی جواب دیا۔اس انٹرویو سے مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تعلیمی میدان میں انقلابی اصلاحات کا ایک جامع پروگرام نہ صرف اپنے ذہن میں رکھتے ہیں بلکہ اسے مکمل طور پر مرتب کر چکے ہیں۔ اس پروگرام سے میں بہت متاثر ہوا اور میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ڈاکٹر صاحب اگر تعلیم کا قبلہ درست کر دیں تو اس سے پاکستان میں بہت کچھ درست ہو جائے۔ درست سمت کا تعین ہی سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ مگر اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تحریک تحفظ پاکستان قائم کرکے نہ صرف تعلیم کو لیکر زندگی کے ہر شعبے کا درست کرنے اور قومی ترقی کی رفتار کو تیز تر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان قائداعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی محترم شخصیت ہیں۔ لوگ دل کی گہرائی سے ان کا احترام کرتے ہیں اور انہیں پاکستان کا محسن سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر خان نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف ایک عالی دماغ سائنسدان ہیں بلکہ وہ ایک انتھک انجینئر بھی ہیں۔ ایسا انجینئر جو تخلیقی فارمولوں کو تجربات و تجزیات کی بھٹی سے گزار کر اپنا ہدف حاصل کرنا خوب جانتا ہے۔ اعلیٰ درجے کا نفیس شعری و ادبی ذوق رکھنے کے علاوہ ڈاکٹر خان ایک نہایت وسیع المطالعہ انسان ہیں۔ عالمی منظرنامے کے بارے میں وہ گہری نظر رکھتے ہیں۔ اللہ نے انہیں بہترین مشاہدے کی قوت بھی عطا کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ قومی درد مندی اور اخلاص کی دول سے مالا مال ہیں۔ وہ وطن عزیز کے لئے ہر قربانی دینے کو ہمہ وقت اور ہمہ تن مستعد رہتے ہیں۔ تاہم مجھے خدشہ یہ ہے کہ انہیں شاید پوری طرح اندازہ نہیں کہ کوچہ سیاست وادی پرخار ہے اور یہاں رسائی کے لئے آبلہ پائی بہت ضروری ہے۔ دوسرے اس کوچے کا کلچر و کردار ایسا ہے کہ یہاں پگڑی کو بہت سنبھال کر آنا پڑتا ہے....یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیںمجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ملک کے حالات درست کرنے کے لئے کلیمی کے ساتھ ساتھ عصائے موسوی بھی بہت ضروری ہے۔ مجھے ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ اس وقت ملک کا چپہ چپہ لیاری اور چورنگی و کورنگی بن چکا ہے۔ کراچی میں پہلے ایک گروپ کا راج تھا وہ ہی چندہ بھی لیتے تھے‘ بھتہ بھی لیتے تھے‘ بندوق کی نوک پر اغوا بھی کرتے تھے‘ تشدد کے بعد بوری بند نعشیں بھی سڑکوں پر پھینک دیتے تھے۔ انسانیت سوز مظالم ڈھاتے تھے اور کراچی کو انہوں نے مقتل بنا چھوڑا تھا ان کی دیکھا دیکھی اب اور بہت سے گروپ بھی میدان عمل میں کود پڑے ہیں اور انہوں نے کراچی کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ دیکھئے کیسا طرفہ تماشا ہے کہ قوت‘ قبضہ اور بھتہ حاصل کرنے والے گروپوں کے پیچھے وہی تین جماعتیں ہیں جو کراچی میں اقتدار پر قابض ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہتے ہیں کہ وہ طالبانوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کرانے کو تیار ہیں اور ان مذاکرات میں وہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ بلوچستان کے ناراض بلوچ رہنما¶ں اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک پل کا کردار کر سکتے ہیں اور قتل و غارتگری کا خاتمہ کروا سکتے ہیں۔ تاہم بعد ادب ہماری گزارش یہ ہو گی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر پہلے اپنی ترجیحات کے بارے میں یکسو ہو جائیں۔ وہ بیک وقت ایک نئی سیاسی جماعت کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔ اس جماعت کا نام ہے تحریک تحفظ پاکستان‘ یہ جماعت سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی خرابیوں کے خلاف زبردست سیاسی جہاد کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان درد مندی اور اخلاص کے اثاثے سے مالا مال ہیں وہ چاہتے ہیں کہ دردمند پاکستانیوں کی ٹیم کے ساتھ وہ عملی جہاد کریں اور پاکستان کی قسمت بدل دیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پروگرام کے مطابق ان کی تحریک تحفظ پاکستان آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی چاہے انہیں ایک سیٹ ہی کیوں نہ ملے۔ ڈاکٹر صاحب کے سامنے جب دوسری آپشن پیش کی گئی کہ اگر انہیں نگران سیٹ اپ میں وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی گئی تو کیا وہ اسے قبول کر لیں گے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا تین ماہ کی مدت تو تھوڑی ہے البتہ اگر تین سالہ ٹیکنو کریٹ حکومت پیش کی گئی تو وہ اسے قبول کر لیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ ان تین برسوں میں وہ پاکستان کی کایا پلٹ دیں گے۔ پروگرام کے مطابق عام انتخابات اور تین سالہ ٹیکنو کریٹ حکومت دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ تین سالہ غیر دستوری حکومت کے ایوان اقتدار میں جلوہ افروز ہو کر دستور و قانون کا نفاذ کیونکر ممکن ہو گا۔ وسیع المطالعہ شخصیت ہونے کے ناطے اور میدان صحافت میں خامہ سرائی کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے اڑوس پڑوس کے اسلامی ممالک نے جو قابل رشک ترقی کی ہے وہ انتخابی سیاست میں کامیابی اور اپنے ہم وطنوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے کی ہے۔ ملائشیا کے مہاتیر محمد‘ ترکی کے محمد رجب طیب اردگان اور ایران کے احمدی محمود نژاد کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اور یہی ترقی دیرپا ہوتی ہے اور ترقی کے اسی ماڈل سے ملک کی سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی اساس مضبوط ہوتی ہے۔ مستقل بنیادوں پر استوار ہونے والا یہ ترقیاتی ماڈل مضبوط اداروں کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور اسی سے وہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے۔ جو یورپ و امریکہ نے صدیوں کی محنت و ریاضت سے حاصل کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ لوگوں کے دل میں ان کے لئے احترام کے زبردست جذبات موجود ہیں۔ ہمیں اعتراف ہے کہ لوگ ان کے بارے میں سچے دل سے اظہار عقیدت کرتے ہیں۔ لوگ ان کی صداقت‘ دیانت اور امانت کو ہر شک شبے سے بالا سمجھتے ہیں۔ لوگ ان کی علمی ثقافت اور فنی مہارت کے قائل ہیں وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جس طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہے اسی طرح وہ پاکستان کو توانائی کے بحران اور معاشی مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں لیکن ہم ڈاکٹر صاحب سے صدق دل کے ساتھ عرض کریں گے کہ وہ پاکستان کی تاریخ پر ایک بار پھر نظر ڈالیں تو انہیں اندازہ ہو گا کہ جو قوم ایک آمر کے ساتھ ملکر بانی¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی انتہائی واجب الاحترام ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو 1965ءکے صدارتی انتخاب میں شکست سے دوچار کر سکتی ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ پاکستانی سیاست کے دستور نرالے ہیں‘ یہاں کی ترجیحات نرالی ہیں۔ یہاں زبان پر کچھ اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ اس لئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میری نیاز مندانہ درخواست ہو گی کہ وہ جن جماعتوں کو اچھا سمجھتے ہیں ان میں سے کسی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) کے بارے میں انہوں نے اچھے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی یا مسلم لیگ (ن) میں وہ ایک مرشد اور مشیر کی حیثیت سے بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں اور سینٹ کے ممبر منتخب ہو کر فادر آف دی نیشن بن سکتے ہیں۔