(ارمغانِ حجاز)

04 فروری 2013

ہر نفَس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں

ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات

مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

(ارمغانِ حجاز) 

ارمغانِ حجاز

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میںپہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ داراحاصل کسی ...

ارمغانِ حجاز

تقدیرِ اُمم کیا ہے‘ کوئی کہہ نہیں سکتامومن کی فراست ہو تو کافی ہے ...