پیر ،22 ربیع الاوّل ‘ 1434ھ ‘ 4 فروری2013 ئ

04 فروری 2013

100کالجوں کیلئے 2ارب روپے کی بسیں پنجاب کا تحفہ ہے: شہبازشریف۔ پنجاب حکومت کے تحفے سے طلبا وطالبات کے چہرے کھل اٹھے ہیں۔پہلے تو بسوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح طلبا و طالبات کو ” لوڈ“ کیا جاتا تھا اب بیورو کریٹس کی طرح سیٹوں پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھیں گے ۔شہباز شریف نے لاہور میں سڑکوں کا جال بچھا کر شہریوں کو سفری سہولت دی ہے ۔ اب اگر لاہور کو ” سگنل فری“ بنانے کا اعلان کردیاجائے، پھر شہریوں کے چہرے ایسے کھل اٹھیں گے جیسے سرسوں کے پودے کھلتے ہیں کیونکہ دفتر اور بازار کا فاصلہ چٹکی میں طے کرلیاجائیگا ،ٹھوکر نیاز بیگ سے لیکر واہگہ بارڈر تک تو سگنل فری روڈ موجود ہے مال روڈ اور ملتا ن روڈ کو بھی اسی شکل کا بنایا جاسکتا ہے۔گجو متہ سے لیکر شاہدرہ تک تو ویسے بھی ہمارے سروں کے اوپر میٹر وبس دوڑے گی،میٹرو بس کی پرواز شہباز جیسی ہے،ویسے قلیل مدت میں اتنا بڑا منصوبہ مکمل کرنا واقعی بہادری کا کام ہے۔اگلے پانچ سال کیلئے شہباز شریف کو وزیر پانی و بجلی بنادیناچاہئے امید ہے وہ ڈیم بھی بنا ڈالیں گے اور بجلی کے کھمبے بھی سیدھے ہوجائیں گے۔زلف یار کی طرح پھیلی تاریں بھی اپنے کپڑوں میں آجائیں گی۔تمام سیاسی جماعتیں مل کر ایک معاہدہ کرلیں کہ آنے والی حکومت اپنی سابقہ حکومت کے عوامی ترقی کے منصوبے جاری رکھے گی تاکہ حکومت کی تبدیلی سے منصوبے تبدیل نہ ہوں اچھے کام کرنیوالوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنے کاموں کی تعریف اور صلہ کسی سے مت مانگا کریں کیونکہ شاعر نے کہا تھا.... محنت کا صلہ اہل خیانت سے نہ مانگمردے کبھی قبروں سے بولانہیں کرتے٭....٭....٭....٭....٭
” آپ نے بتایا ہی نہیں اورسپریم کو رٹ آگئے،کائرہ کا گیلانی سے شکوہ۔ پہلے آپ لوگوں کو بتا کر انہوں نے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی ماری ہے اس لئے اب کی بار انہوں نے اکیلے ہی آنے میں عافیت سمجھی کیونکہ جب انکے بیٹے کی گرفتاری ہوئی اوروہ ایوان صدر سے اپنی گٹھڑی کو کندھے پر اٹھا کر نکلے تو انہوں نے سیڑھیوں پر آکر یہ کہا تھا.... نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکنبہت بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے جناب تب تو آپ نے حال چال تک نہیں پوچھا تھا گیلانی صاحب کو ایوان صدر کے پچھواڑے میں جگہ دیکر آپ نے انکی جگ ہنسائی کی تھی۔یار لوگوں نے ایسی تصویر کشی کی تھی کہ گیلانی صاحب نے ملتان جاکر سانس لیا تھا اس میں مبالغہ آرائی زیادہ اور حقیقت کم تھی ویسے اگر مبالغہ اور جھوٹ بولنا قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہوتے تو اکثریت کے ہاتھوں میں مستقلاً ہتھکڑی پڑی ہوتی اور بیشتر نقل مجرمانہ میں ساری زندگی حوالات کے جنگلے کے پیچھے منہ پر رومال ڈالے گزارتے۔ ہمارا حال تو اس بگلے جیسا ہے جو ندی کنارے بڑی مچھلی کی دُم چونچ میں دبائے اس انتظار میں ہوتا ہے کہ اسے نگلوں کیسے؟ ایسے انتظار میں چیل اس کی چونچ سے مچھلی اُچک لیتی ہے۔ہمارے ہاں بھی بڑی بڑی چیلیں ہیں جو شکار خوردہ چیز کھانے کیلئے گِدھوں کی طرح اُمڈ آتی ہیں اور جب یہ گِدھ مرتے ہیں تو انکا حال پٹواری جیسا ہی ہوتا ہے کہ جب پٹواری کی بکری مری تو پورا گاﺅں تعزیت کیلئے آگیا لیکن پٹواری نے آنکھ بند کی تو جنازے کو کندھا دینے کیلئے آدمی نہیںمل رہا تھا۔٭....٭....٭....٭....٭
 حد سے زیادہ ایس ایم ایس بیماری اور تھکاوٹ کا شکار کردیتے ہیں۔ نوجوان نسل اس تحقیق کو سنجیدہ لے اور فضول ایس ایم ایس کرکے اپنا وقت بھی ضائع مت کرے۔جوانی میں ہی اگر بیماری نے دبوچ لیا تو پھر زندگی گزارنے کے سہانے خواب کیسے پورے ہونگے؟ آسٹریلوی یونیورسٹی کی تحقیق نے خطرے کا الارم بجادیا ہے موبائل کمپنیوں نے بھی ایس ایم ایس پیکجز کی بھرمارکردی ہے،بعض نوجوان تو فضول ایس ایم ایس کرکے دل پشوری کرتے رہے ہیں حالانکہ انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ وہ کتنے افراد کو خواہ مخواہ تنگ کررہے ہوتے ہیں ایسے افراد ہر در پر دستک دیتے ہیں کہ شاید کہیں سے کوئی ” خیر“ مل جائے اصل میں یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ کسی کو آپ ہزار مرتبہ منع کریں وہ تب تلک باز نہیں آتا جب تک اسے کوئی سخت پیغام نہ ملے۔وزیر داخلہ رحمن ملک ہر ہفتے موبائل سروس بند کرکے اس بیماری کو کم تو کر رہے ہیں دیکھیں انکی گولیوں سے کس کو فرق پڑتا ہے۔موبائل کی سہولت تو اپنی جگہ لیکن سکولز اور کالجز کے طلبا کی پہنچ سے یہ دور ہونے چاہئیں۔ہمارے ہاں پہلی سالگرہ پر تحفے میں موبائل ہی دیا جاتا ہے اب تو موبائلوں میں ایسی ایسی گیمیں آ گئی ہیں کہ معصوم بچے بھی آپ سے پہلے موبائل ہی مانگتے ہیں ۔موبائل کا عشق ایسا ہے اس کے بارے کہاجاسکتا ہے .... تیرے عشق نچایا کرکے تھیّا تھیّا بس ہر کسی کو قیمتی سے قیمتی موبائل خریدنے اور استعمال کرنے کا عشق ہوتا ہے،عشق کی دوسری اقسام سے یہ زیادہ خطر ناک ثابت ہورہی ہے۔٭....٭....٭....٭....٭....٭
پیپلز پارٹی کے ایم پی اے فیاض وڑائچ اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوکر پاکستان عوامی تحریک میں شامل ہوگئے۔ علامہ طاہر القادری نے بھی شکار شروع کردیا ہے انکا پہلا تیر ہی ہدف پر لگا ہے لیکن مولینا کے شکار کرنے سے زیادہ ہمیں تو ایم پی اے فیاض وڑائچ پر ہنسی آتی ہے کہ انہوں نے میر عالم کی طرح کیا چیز دیکھ لی تھی جہاں گرے ہیں۔علامہ صاحب کی جماعت الیکشن کمشن میں رجسٹرڈ ہی نہیں۔فیاض وڑائچ نے آئندہ الیکشن میں شاید تسبیح پڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے یا پھر انہوں نے اندر کھاتے کوئی لمبا چکر چلا کر ہی ہاں بھری ہوگی۔علامہ صاحب اورانکے بچے اگر الیکشن نہ بھی لڑے تو پویا صاحب کوئی نیا چاند ضرور چڑھائیں گے۔وڑائچ صاحب نے سیاسی طورپر تو یہ خودکشی کی ہے کیونکہ جس شاخ پر انہوں نے آشیانہ بنانے کی امید لگا رکھی ہے وہ شاخ تو ابھی اپنا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکتی، بحرحال مقصد کی سچی لگن مشکلات میں بھی مایوس نہیں ہونے دیتی،اس بنا پر ہر کوئی امید باندھنے بیٹھا ہے چند روز تک فیاض وڑائچ خود ہی پکار اٹھیں گے....” انتظار تھا جس کایہ وہ شجر تو نہیں“ علامہ صاحب نے سبز باغ دکھائے ہونگے لیکن وہ باغ تو لانگ مارچیوں کو بھی نہیں ملے بلکہ خالی ہاتھ ہی واپس لوٹ آئے تھے پھر گھر بیٹھ کر اپنے آپ کو ہی کوستے رہے،ایسا ہی وڑائچ صاحب کے ساتھ ہوگا۔