عدلیہ سے محاذ آرائی مناسب نہیں

04 فروری 2013

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔ عوام نے عدلیہ سے توقعات وابستہ کر لی ہیں کہ وہ ان کے حقوق کا تحفظ کریگی کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے انہوں نے بالکل درست کہا کہ عدلیہ کا کام ہے ۔ اداروں کو غیرآئینی اقدامات سے روکنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرنے کا ہی ہے۔ اس وقت ملک میں عدلیہ کے بروقت اور شفاف اقدامات سے عوام کو تقویت ملی ہے۔ اور وہ ملک میں قانون کی پاسداری کیلئے عدلیہ کی حمایت میں کمربستہ ہیں تو دوسری طرف حکومتی وزراءنجانے کس کے اشارے پر عدلیہ کیخلاف محاذ آرائی کی فضا بنا رہے ہیں۔انہیں یاد نہیں رہتا کہ جب ان کے پاس اقتدار نہیں ہوتا تو وہ بھی داد رسی کیلئے عدلیہ کا ہی دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ اور مذہبی امور کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے گزشتہ روز جس لب و لہجے میں عدلیہ پر تنقید کی وہ نہایت افسوسناک ہے خورشید شاہ صاحب کا یہ کہنا کہ پارلیمنٹ کیخلاف بات کرنے والے ججوں کو معاف نہیں کیا جائے گااور کائرہ صاحب کا کہنا ہے کہ ہم ججوں کا بہت احترام کرتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹ کی سپرمیسی کا احترام کریں، قانون عوام کے نمائندے بناتے ہیں جج نہیں ۔ ہماری عزت ججوں سے زیادہ ہے۔ ایسے بیانات پارلیمنٹ اور عدلیہ کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے کی کسی حکومتی حکمت عملی کی چغلی کھاتے نظر آتے ہیں۔ قانون سازی بے شک پارلیمنٹ کا کام ہے مگر اس کی تشریح اور اس پر عمل درآمد کرانا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ قانون بنانے والے اگر خود ہی قانون شکنی کریں تو عدلیہ کا کام ہے کہ ان کے خلاف بھی ایکشن لے۔ کوئی ادارہ یا شخصیت قانون سے بالا تر نہیں ہے اور عدلیہ قانون اور آئین کی محافظ ہے۔ اس لحاظ سے جہاں بھی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہو گی عدلیہ کا اختیار ہے کہ وہ اس کا سدباب کرے۔ تاکہ اس کے تمام ادارے اور افراد قانون اور آئین کے مطابق چل سکیں۔