اصولوں اور بے اصولوں کی سیاست کی نادر مثالیں

04 فروری 2013

 وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر مشیر سینیٹر سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا ہے کہ اپنے بیٹے سیف الدین کھوسہ کے خلاف خود الیکشن لڑوںگا جبکہ ایم کیو ایم ایک مرتبہ بھی پیپلز پارٹی سے ناراض ہو مزید مراعات کا مطالبہ کرنے لگی ہے۔ سیف الدین کھوسہ نے اپنے خاندان کی کمر میں چھُرا گھونپ کر جس کیمپ میں پناہ لی ہے آئندہ الیکشن میں وہ کیمپ بھی شاید اسے سیٹ نہ دلوا سکے کیونکہ انکے والد ذوالفقار کھوسہ نے اپنے ہی بیٹے کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ذوالفقار کھوسہ کا فیصلہ ان تمام لوٹوں کیلئے باعث عبرت ہے جو وقتی مفادات کی خاطر اپنی قیادت اور جماعت چھوڑ کر سیاسی وابستگی کہیں اور جوڑ لیتے ہیں۔ذوالفقار کھوسہ نے اپنی پارٹی اور اختیارات کے ساتھ وفاداری کی بڑی قربانی دی ہے۔دوست محمد کھوسہ اور حسام الدین کھوسہ نے بھی اپنے والد کے ساتھ ملکر پارٹی قیادت کو اپنی وفاداری کی یقین دہانی کروادی ہے ۔لغاری خاندان کی مسلم لیگ میںشمولیت پر انکو کوئی اعتراض نہیں لہٰذا مسلم لیگ(ن) کیلئے جنوبی پنجاب میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے یہ گولڈن چانس ہے۔دوسری جانب ایم کیو ایم اقتدار کی پانچ سالہ شراکت کی تمام فیوض و برکات سمیٹنے کے بعد اب اپنی اتحادی پیپلزپارٹی کے سامنے سوال اٹھا رہی ہے کہ ہمیں پانچ سال میں آپ نے کیا دیا ہے تو سیاست میں مفاد پرسی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔ایسی مفاداتی سیاست کے باعث ہی تو عوام کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔پیپلز پارٹی نے صوبے کا گورنر اور کراچی میں چودھراہٹ برقرار رکھنے کیلئے ایم کیو ایم کو فری ہینڈ دیا اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تک مقرر نہ ہونے دیا اگر اس کا بدلہ آج ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کا دامن جھٹک کر چکانا چاہتی ہے تو پیپلز پارٹی کی قیادت کو اب خود ہی اپنی اداﺅں پر غور کرناچاہئے۔