پیر ‘ 22 ذی الحج 1439 ھ ‘ 3 ستمبر 2018ء

Sep 03, 2018

میرے اور صدر ممنون کے درمیان فرق عوام کو نظر آئے گا، عارف علوی

قصر صدارت میں داخلے کے بعد وہاں مقیم ہر صدر سابقہ مرحوم صدر چودھری فضل الہی بن کر رہ جاتا ہے۔ اب معلوم نہیں عارف علوی صاحب کس خوش فہمی میں ہیں۔ چودھری فضل الہی سے لے کر صدر ممنون حسین تک ہمارے تمام جمہوری صدور صرف صدر الصدور ہی ہوتے ہیں۔ ان کا کام اہم ایام پر عوام کو ٹی وی اور سامعین کو پریڈ گراﺅنڈ میں درشن دینا ہوتا ہے یا حلف برداری کی تقریب میں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام صدور یہ کام نہایت دلجمعی سے انجام دیتے ہیں۔ ویسے بھی پارلیمانی نظام حکومت میں صدر کا کام ایگزیکٹو اتھارٹی کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کرنا اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہی ہوتا ہے تو اب عارف علوی صاحب کس طرح ممنون حسین سے مختلف نظر آئینگے۔ ہمیں تو معلوم نہیں سوائے اسکے کہ ممنون حسین صاحب صحت مند ہیں جس کی وجہ سے ان پر زیادہ بڑھاپا طاری نظر نہیں آتا۔ وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں بھی انہوں نے بنا چشمے کے حلف پڑھا جبکہ وزیراعظم نے چشمہ لگایا ہوا تھا۔ عارف علوی صاحب دھان پان کے نہ سہی بہرحال دبلے پتلے ہیں اور چشمہ ہمہ وقت ان کی ناک پر دھرا رہتا ہے۔ ممنون حسین سنجیدہ بردبار نظر آتے ہیں جبکہ عارف علوی ہنستے مسکراتے رہتے ہیں۔ اگر یہ فرق ہے تو پھر تو انہوں نے بجا کہا ہے کہ ان میں اور ممنون حسین میں فرق عوام کو نظر آئے گا۔ یہ واضح فرق دونوں شخصیات میں نمایاں ہے۔ ہاں اگر پی ٹی آئی کے حکومتی منشور کےمطابق وہ بھی ایوان صدر کی بجائے کسی ملٹری سیکرٹری یا اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کی رہائشگاہ پر جا کر بسیرا کریں تو پھر عوام کو واضح فرق نظر آنے لگے گا۔

٭........٭........٭

ابھی معاملہ ختم نہیں ہوا معلون گیرٹ ولڈرزکا ٹویٹر پر نیا پیغام

جب چیونٹی کے پر نکلتے ہیں تو اس کی موت قریب آ جاتی ہے۔ اسی طرح جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔ اب اس بدبخت ملعون نے ایک بار پھر گستاخانہ خانوں کے حوالے سے بڑھک ماری ہے تو ظاہر ہے اس کا انجام بھی اچھا نہیں ہوگا۔ بار بار مسلمانوں کے صبر کا امتحان لینا اچھا نہیں۔ یہ بات گستاخانہ خاکے بنانے والے، ان کو شائع کرنیوالے اور انکے مقابلہ یا نمائش کی ناپاک جسارت کرنے والے سب جانتے ہیں۔ یہ تو ہالینڈ کے حکومت کی دوراندیشی ہے کہ اس نے فتنہ فساد کے خوف سے اپنے ملعون ممبر پارلیمنٹ کے ایسے مکروہ پروگرام پر پابندی لگادی ہے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے تھے۔ اب بجائے اسکے کہ یہ ملعون شکر کرتا کہ اس کی جان بچ گئی ہے وہ الٹا سوشل میڈیا پر مسلمانوں کوپھر باور کرا رہا ہے کہ وہ نت نئے طریقوں سے اپنی ذہنی خباثت سامنے لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ ہالینڈ کی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے اس موذی رکن پارلیمنٹ کو لگام ڈالے اور اسے ایسے لغو بیانات سے باز رکھے ۔اسی میں عالمی امن کی بھلائی ہے کیونکہ ایک عام ناکارہ بے عمل مسلمان بھی ایسی گھٹیا حرکت پر چپ نہیں رہ سکتا۔ یہ ایمان کا مسئلہ ہے جس کےلئے جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے جس کی تاریخ شاہد ہے۔ یہ وہ روح ایمانی ہے جو ہر مسلمان کے جسد خاکی میں مہد سے لحد تک زندہ و توانا رہتی ہے۔

بشریٰ بی بی کا دورہ دارالشفقت۔ بچوں کے ساتھ کھانا کھایا

پاکستانی خاتون اول نے اپنے دورہ لاہور میں اپنے شوہر وزیراعظم پاکستان کی سرکاری مصروفیات سے ہٹ کر جو اپنا شیڈول بنایا وہ قابل تعریف ہے۔ بشریٰ بی بی نے عام روایات سے ہٹ کر معزز طبقے کی سجی سنوری فیشن ایبل بیگمات کے جمگھٹ میں بیٹھ کر فضول وقت ضائع کرنے ان کی بے سروپا باتیں اور کھوکھلی ہنسی سننے کی بجائے جس طرح یتیم اور بے سہارا بچوں کے ساتھ وقت گزارا ان کے ساتھ مل کر کھانا کھایا وہ قابل تعریف ہے۔ انکے اس طرز عمل سے ان اداروں میں پرورش پانے والے بچوں کو جہاں خوشی کے لمحات میسر آئے ہونگے وہاں ادارہ کے عملے میں بھی اپنے کام کو بوجھ سمجھنے کی بجائے عبادت سمجھ کر کرنے کا شعور بیدار ہوا ہو گا۔ اگر خاتون اول اسی طرح ماہ بہ ماہ نہ سہی گاہے بگاہے مختلف شہروں کے ایسے اداروں کا سرپرائز دورہ کریں تو یقین جانیں اس سے نہ صرف ان اداروں کا معیار بہتر ہو گا بلکہ بچوں کے ساتھ عملے کے حسن سلوک میں بھی اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی نے جہاں شوکت خانم کو مثالی ہسپتال بنا دیا ہے، اب بیگم وزیراعظم اپنی دلچسپی سے زنانہ دارالامان یتیم بے سہارا بچوں کے مراکز کو قید خانے سے محفوظ گھر میں بدل سکتی ہیں۔ یہ ایک کارثواب ہو گا۔ ویسے بھی....

اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

خداکے بندوں سے محبت انکی خدمت بھی ایک عبادت ہے۔ یہ بات بشریٰ بی بی سے زیادہ بہتر کون جانتا ہو گا۔ انہوں نے جس طرح میڈیا کی چکاچوند سے بچ کر نام و نمود سے ہٹ کر یہ دورہ کیا وہ ایک اچھی روایت ہے ورنہ ہمارے ہاں بیگمات تو پہلے میڈیا کو اطلاع کرتی ہیں پھر جا کر نمائشی دورے کرتی ہیں۔

٭........٭........٭

ہارون آباد میں نوجوان کو خواجہ سراءبنانے کی کوشش ناکام

یہ تو قسمت اچھی تھی شیر خان کی کہ وہ خواجہ سراﺅں کے ہاتھوں شیریں خان بننے سے بچ گیا ورنہ ان کے ہتھے چڑھنے والا کوئی بھی نوجوان اپنے آپ کو نئی تبدیلی سے نہیں بچا سکتا اور بعداز آپریشن انہی کے ساتھ مل کر ان کی ساری زندگی گلی کوچوں میں ....

ساڈا کی اے اللہ ای اللہ

ساری دنیا دو دو ہو گئی ساڈا دم اِکلّا

کہتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ بے شک موجودہ ہماری حکومتوں نے خواجہ سراﺅں کو بہت سی سہولتوں سے نوازا ہے ۔ وہ ایم این اے اور ایم پی اے تک بن رہے ہیں۔ مگر کسی کو کم عمر جذباتی نوجوانوں کی جبری جنس تبدیل کرانے کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ عام طور پر زنانہ عادت سے دلچسپی رکھنے والے نوعمر ایسے عناصر کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اورانکے ساتھ کام کرتے ہیں، جن میں یہ ہارون آباد کا شیر خان بھی تھا، اگر وہ شور نہ کرتا تو کوئی نامعلوم خواجہ سراءعطائی اسے بھی اپنے جیسا بناچکا ہوتا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بخوبی معلوم ہے کہ ایسے خطرناک آپریشن کرنے کے یہ اڈے کہاں کہاں واقع ہیں اس لئے نئی حکومت کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں کسی نذیر کو نیلی بننے سے پہلے ہی ان اڈوں کا خاتمہ کرے ورنہ بے شمار ناسمجھ بچے ان اڈوں میں اپنی جنس اور شناخت کھوتے رہیں گے۔ حقیقی خواجہ سرا قدرتی ہوتے ہیں زبردستی نہیں بنائے جاتے۔ یہ بات اس برادری سے تعلق رکھنے والوں کو بخوبی معلوم ہونی چاہئے کہ ایسا کرنا جرم ہے جس کی سزا بھی مقررہے۔

مزیدخبریں