صبر اور تدبر کی ضرورت!

03 ستمبر 2010
بُرے حالات، بدتر ہو رہے ہیں
نتائج ہم بُھلا کر سو رہے ہیں
خدایا، چھڑ نہ جائے خانہ جنگی
کہ ہم صبر و تحمل کھو رہے ہیں
اثاثہ جس کا سارا ڈوب جائے
بتاو صبر اسکو کیسے آئے
کِھلاتا تھا ہمیں گندم جو دہقاں
وہ بھوکا بھیک مانگے اور نہ پائے
سیاست، جذبِ خدمت کب بنے گی
لڑائی یہ اخوت کب بنے گی
بنے امن و اماں کی چھت حکومت
بتائیں حکمراں، چھت کب بنے گی
ہے میدانوں میں سیلابی مصیبت
پہاڑوں اور شہروں میں ہے دہشت
کہاں پائیں اماں ننگے، نہتے
جہنم بن چکی یہ پاک جنت
جو لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں
تباہی کی مذمت کر رہے ہیں
وہ ”ایدھی“ سے سبق لیتے نہیں کیوں
جو خدمت، صرف خدمت کر رہے ہیں
ہے دینی راہنماوں سے گزارش
تدبر کی ہے اُنکے آزمائش
رکھیں زخموں پر مرہم صبر کا وہ
کریں باہم اخوت کی سفارش
کریں ملت کے وہ جذبات ٹھنڈے
جو اب قابو سے باہر ہو رہے ہیں

صبر اور شکر کی اہمیت

ہر انسان کو اپنی زندگی میں کئی طرح کے دکھ و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس میں ...