عہد کربلا!

03 ستمبر 2010
یوم شہادت حضرت علیؓ کے جلوس میں خودکش بم دھماکے سے دشمنوں کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔ اب شیعہ سنی فرقہ واریت کے لئے سازشیں مسلمانوں کے لہو میں غرق ہو گئی ہیں۔ ایسے ہی ایک جلوس پر کراچی میں فائرنگ ہوئی ہے۔ علامہ عباس کمیلی کی روح پرور گفتگو ہماری لہولہان آرزو میں گھل گئی ہے۔ ”یہ شیعہ سنی کو لڑانے کی کوشش ہے مگر ہم نہیں لڑیں گے“۔ داتا دربار پر بھی بم دھماکہ کرنے والے یہی لوگ ہیں، دہشت گرد اور ان کے مقامی اور بین الاقوامی سرپرست ہیں۔ وہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں امریکہ اور بھارت کی خواہش اور سازش ایک ہو گئی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
اس کے ساتھ علامہ صاحب نے حکومتوں پر الزام لگایا اور صوبائی وزیر قانون کا نام لے کر کہا کہ وہ دہشت گردوں کو ساتھ لئے پھرتے ہیں۔ یہ بہت سنگین الزام ہے۔ علامہ حسن ظفر نے بھی ان کا نام لے کر مخالفانہ بات کی ہے اس سے پہلے داتا دربار میں بم دھماکے کے بعد سنیوں کی طرف سے صاحبزادہ فضل کریم نے بھی انہی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ کمشنر لاہور خسرو پرویز نے کہا کہ سیکورٹی مزید بہتر کی جا سکتی تھی ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ نے کہا کہ بعض جگہوں پر سیکورٹی کی کوتاہیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ دونوں کا انداز افسرانہ تھا مگر وہ دکھی دل سے بول رہے تھے۔ سیاستدان اور افسران اب جواب دینے کے بجائے لاجواب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیر قانون ان دو ذمہ داران کی باتوں کی تردید کس طرح کریں گے۔ اس کے علاوہ حکومت اور انتظامیہ کا کوئی آدمی نظر نہیں آیا۔
دھماکے سے بڑی دھمکی یہ ہے کہ وہاں مشتعل ہجوم نے فرقہ واریت کے لئے کوئی تاثر نہ دیا مگر پولیس والوں پر حملہ کر دیا۔ پولیس کی گاڑیاں توڑ دیں اور جلا دیں جبکہ بم دھماکے میں پہلا شہید پولیس کانسٹیبل تھا لوگوں کی نفرت پولیس کے خلاف کم ہی نہیں ہوتی یہ بداعتمادی کی انتہا ہے۔ پولیس والوں نے قربانیاں بھی دی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو عوام کی سیکورٹی کا ذمہ دار نہیں سمجھتے وہ اپنے افسروں کے حکم کے پابند ہیں وہ صرف حکام کی سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔ عوام اب حکام کے غیر ضروری پروٹوکول اور غیر قانونی سیکورٹی سے عدم تحفظ اور عدم اعتماد کا شکار ہو گئے ہیں۔ بم دھماکوں میں غریب اور عام لوگ ہی مرتے ہیں سارے عذاب انہی کے لئے ہیں۔ امیروں، وزیروں مشیروں کو کبھی کچھ نہیں ہوتا لوگوں کا اضطراب اب اشتعال بن چکا ہے۔ جنرل حمید گل نے کہا کہ سیلاب کے پیچھے پیچھے انقلاب آ رہا ہے یہ انقلاب حکمرانوں افسروں کرپٹ لوگوں اور ظالموں کے لئے عذاب بن جائے گا۔ وہ لوٹی ہوئی دولت تو کیا بچا سکیں گے جان بھی بچانا مشکل ہو جائے گا۔
مشتعل لوگوں نے تھانے پر بھی حملہ کیا اور پولیس والے کسی طور بھی لوگوں کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکے۔ یہ نہ ہو کہ کوئی اب کالی وردی میں باہر نہ نکل سکے۔ غلام عباس کمیلی نے کہا کہ حکومت کہاں ہے، حکمران اور افسران خوفزدہ کیوں ہیں جس طرح سانحہ سیالکوٹ میں پولیس کو برابر کا شریک قرار دیا گیا ہے ڈی پی او کی سرپرستی میں سب کچھ ہوا ۔ اب علامہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ پولیس افسران اور انتظامیہ کراچی اور لاہور میں اس منصوبہ بندی اور سازش میں شامل ہیں۔ انہوں نے بہت معنی خیز جملے ادا کئے۔ ”یہ سب ڈالر اور ریال کا کھیل ہے“ دہشت گرد جہاں چاہتے ہیں کارروائی کرتے ہیں، پولیس اور انتظامیہ والے صرف کارروائی ڈالتے ہیں۔ کہا گیا کہ خودکش بمبار کا سر مل گیا ہے اب تک تو ان سروں کا ایک عجائب گھر بن گیا ہو گا۔
عراق میں نجف اشرف کے پاس بم دھماکے سے اس بم دھماکے کی نسبت یہ ہے کہ یہ یوم شہادت حضرت علیؓ کے جلوس میں ہوا ہے۔ وہ بھی امریکی سازش تھی یہ بھی امریکی سازش ہے یہاں بھارت بھی ملوث ہے۔ اس دھماکے میں دھماکوں کے لئے یہ دھمکی چھپی ہوئی ہے کہ مسلمان متحد ہیں عقیدے میں کچھ فرق سہی عقیدت میں تو کوئی فرق نہیں۔ کربلا گامے شاہ کے پاس یوم شہادت حضرت علیؓ کے جلوس میں بم دھماکہ.... تو کیا یہ عہد کربلا ہے۔ اس دور کے یزید کون ہیں آج کل مسلمانوں پر ہر طرف کربلائیں قائم کر دی گئی ہیں مگر کیا اس طرح عاشقان رسول اور علیؓ کم ہو جائیں گے۔ یہ جلوس نکلتے رہیں گے، راستے زندہ تر ہوتے رہیں گے لہولہان مسافران عشق کبھی تھکیں گے نہیں اور نہ ڈریں گے
عجیب لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
حسینؓ اور علیؓ پر مسلمانوں میں کوئی تنازعہ نہیں وقت آنے والا ہے کہ پوری انسانیت کو بھی یہ نسبت عزیز ہو جائے گی بس بے قراری اور بیداری کو یکجان ہونے دیں۔ کراچی اور لاہور میں کہیں بھی بھگدڑ نہ مچی نہ جان بچانے کے لئے بھاگ دوڑ ہوئی۔ کراچی لاہور ملتان میں زخمیوں اورمرنے والوں میں شیعہ بھی ہیں سنی بھی ہیں ۔ بھاٹی گیٹ خودکش بم دھماکے کے قریب ہی داتا دربار کے احاطے میں خودکش بم دھماکہ ہوا تھا وہ کسی شیعہ نے نہیں کیا تھا
اے گرفتار بوبکرؓ و علیؓ ہشیار باش!

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...