مسلم لیگیوں کے اتحاد کیلئے نوازشریف اور شجاعت کو پیشرفت کرنی چاہئے : نعیم چٹھہ

03 ستمبر 2010
لاہور (سلمان غنی) مسلم لیگ (ق) کے سنیٹر نعیم حسین چٹھہ نے ملکی بقاءو سلامتی اور جمہوریت کی بقاءکیلئے مسلم لیگ کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے نوازشریف اور شجاعت حسین کو پیشرفت کرنی چاہئے ۔ یہ میاں صاحب کے فائدہ میں ہے۔ دونوں طرف کے مسلم لیگی اتحاد چاہتے ہیں۔ اتحاد ممکن نہ بنا تو اتحاد کے خواہاں کوئی اور راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ کالا باغ ڈیم سمیت بڑے ڈیمز کی تعمیر میں اصل رکاوٹ بھارتی لابی اور اسکے ایجنٹ ہیں اور سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال نے ثابت کردیا کہ یہ ڈیمز ملک و قوم کے بہتر مفاد اور ترقی و خوشحالی کیلئے لازم ہیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتریں لہٰذا ایوان میں سے تبدیلی یا عوام سے رجوع کرتے ہوئے مڈٹرم انتخابات پر پیشرفت ہونی چاہئے ۔ پارلیمنٹ کو پانچ چھ لیڈروں نے یرغمال بنا رکھا ہے جو اسے اپنی ڈکٹیشن کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی وردی سے صرف پرویز الٰہی چمٹے ہوئے تھے۔ شجاعت سمیت دیگر رہنماءاسے اپنا عمل نہیں سمجھتے تھے۔ موجودہ ملکی قیادت اپنی کریڈیبلٹی کھو چکی ہے۔ یہ بدنام لوگ ہیں جن کی وجہ سے ملک میں بے چینی اور مایوسی ہے۔ حکومت کو پانچ سال چلانے کی ضد کرنے والے اسکے بھیانک نتائج سے آگاہ نہیں۔ مشرف ناقابل اعتبار ہے، ہمیں کہتے رہے کہ نوازشریف اور بے نظیر بھٹو نہیں آئیں گے، پھر بے نظیر بھٹو، ان کی وزارت عمظیٰ اور اپنی صدارت پر معاہدہ کرلیا اور ہماری قیادت نے بھی کسی لارا پر این آر او کو مان لیا۔ مشرف امریکی اتحادی تھے اور قوم اسکی مخالف تھی، بیڑہ غرق ہمارا ہوگیا۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروفیسر وقار قریشی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جنرل پرویز مشرف پر کالا باغ ڈیم بنانے پر زور دیا لیکن ایم کیو ایم نے دباﺅ دیا تو وہ پھر گئے۔ پرویز مشرف کی دہشت گردی پر پالیسی ان کی فوجی وردی کی حمایت ہماری سیاسی غلطیاں تھیں۔ اس دور میں اکبر بگٹی کے قتل نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلم لیگی ہیں، ہم نے اپنی قیادت کو بھی باور کرا دیا تھا کہ جو پیپلز پارٹی کے ساتھ جائیگا تو پھر وہی جائیگا ہم نہیں جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد چودھری شجاعت حسین نے اتحاد میں سنجیدگی دکھائی اور اگر نوازشریف ہاتھ ملا لیتے تو آج حالات اور ہوتے۔ آج بھی مسلم لیگ کا اتحاد قابل عمل اور ممکن ہے۔ اس کیلئے نوازشریف اور شجاعت حسین کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ وردی کی حمایت چودھری پرویز الٰہی کا فضول عمل تھا۔ انہوں نے اور بھی غلطیاں کیں جو بھگتنا پڑیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انکے دور میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوئے لیکن جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کے باعث ہم کیش نہ کرواسکے۔ انہوں نے مسلم لیگ کے اتحاد کیلئے مجید نظامی کی کوششوں اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا جذبہ پاکستان کیلئے تھا لیکن افسوس میاں صاحب نے بھی انکے مشوروں پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی اناﺅں کا مسئلہ ہے، وہ اسے چھوڑ دیں تو اتحاد عمل میں آسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی آسکتی ہے، پھر ہماری اکثریت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ ہماری نہیں امریکی جنگ تھی اور خوامخواہ ہمارے پلے پڑ گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی اور فرقہ واریت کے واقعات میں بھارت ملوث ہے۔ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ہماری سلامتی کیلئے خطرناک ہے۔ ہمیں اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مفادات کیلئے نہیں بلکہ پیسے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ نوازشریف نے ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کو ایٹمی ملک بنایا۔ بھارت کو کان ہوگئے، وہ اب دھمکیوں کی جرات نہیں کرتا۔ اب بھارتی فوجیں بارڈر پر آکر کھڑی نہیں ہوتیں۔ امریکی ڈکٹیشن سے نجات بھی ایسی قیادت ہی دلا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل بے سود اور بے فائدہ کھیل ہے۔ اس میں سے کچھ نہیں نکلے گا، کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے والا بھارت مذاکرات کیا کریگا۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ یہ دشمن کے پنجے میں ہے۔ ہم اپنے اللوں تللوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور کشمیر پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب پر پیدا شدہ صورتحال میں اتحاد و یکجہتی قائم ہوسکتی تھی لیکن بدقسمتی سے ہماری قیادت نے اسکا فائدہ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں بھی امریکی ڈکٹیشن چلتی تھی لیکن اب تک کوئی حد ہی نہ رہی۔ موجودہ حکومت کا قیام ہی امریکہ کیخلاف عوام کے فیصلہ اور جنرل مشرف کی پالیسیوں کیخلاف ممکن بنا لیکن یہ اسی پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی اور پیپلز پارٹی کا اتحادی پختونخواہ کے نام اور کالا باغ ڈیم نہ بنانے کی بنیاد پر ہوا لیکن سیلاب پر حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ کالا باغ ڈیم اور منڈا ڈیم بنا ہوتا تو اتنی تباہی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت بھارتی ایجنڈا ہے اور پاکستانی ایجنڈا یہی ہونا چاہئے کہ یہ ڈیم بننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جنرل مشرف کہتے ہیں کہ میں نے ڈیم نہ بناکر غلطی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پالیسیاں اور فیصلے جنرل مشرف کے چلتے تھے۔ ہم بھی اس پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت قائداعظمؒ نے ناممکن کو ممکن بناکر پاکستان بنا دیا۔ ہم کیوں ایک ڈیم نہیں بنا سکتے۔ کالا باغ پر قوم کو متحد کرنا حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ مڈٹرم انتخابات میں دوبارہ یہی لوگ برسراقتدار آئیں گے، ایسا نہیں ہوگا۔ میڈیا نے قوم کو باشعور بنا دیا ہے۔ عوام حقیقی قیادت کی تلاش میں ہیں جو اپنے مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دے۔ آج کرپشن ماضی کے مقابلہ میں کئی گنا زائد ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ این آر او پر ہماری قیادت اس لئے مان گئی تھی کہ اسے لارا دیا گیا تھا کہ تیسری دفعہ وزیراعظم کی شرط ختم کریں گے لیکن وزیراعظم آپکو ہی بنائینگے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ این آر او ہی دراصل بے نظیر بھٹو کو وزیراعظم اور خود جنرل پرویز مشرف کو صدر بنانے کیلئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں لوگ جنرل پرویز مشرف کا نام سننے کو تیار نہ تھے۔ وہ ہماری جماعت کو بھی لے بیٹھے۔ مشرف اور امریکہ کی نفرت نے ہماری حکومت کی پانچ سالہ محنت ضائع کردی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے دوران بھی اتحاد کیلئے پیشرفت ہوسکتی تھی لیکن ہمارے بعض لیڈروں نے مسلم لیگ (ن) کی بجائے ایوان صدر کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جب بھی اتحاد کی بات شروع ہوتی ہے، نوازشریف اور پرویز الٰہی تنقید شروع کردیتے ہیں۔ انہیں اپنا دل بڑا کرنا ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ دل بڑا کریں اور قوم کے بہترین مفاد میں ایک دوسرے کو گلے لگالیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی بھارت ملوث ہے۔ نہ جانے ہم کیوں نام لینے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ہمارا معاشی حب ہے۔ یہاں امن نہیں ہوگا تو ہماری سرمایہ کاری نہیں ہوگی۔ اے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم تینوں اتحادی ہیں۔ دہشت گردی پھر بھی ہورہی ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ جن حکمرانوں کے اثاثے بیرون ملک ہوں وہ کرپشن کا سدباب کیسے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ تمام بحرانوں کا حل مسلم لیگ کے اتحاد میں ہے۔ یہ اتحاد عوام کے احساسات کا ترجمان اور قومی مفادات کا نگہبان بن سکتا ہے۔ یہی پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی بھی لاسکتا ہے اور مڈٹرم انتخابات کے ذریعے بھی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔