الطاف حسین کے بیان کا جواب نہ دینا گناہ کبیرہ ہوگا : چودھری نثار علی خان

03 ستمبر 2010
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں + لیڈی رپورٹر) سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ایوان کے اتفاق رائے سے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس وفاقی وزیر جسٹس (ر) عبدالرزاق تھہیم کی وفات کے باعث رسمی کارروائی کے بعد جمعہ تک کیلئے ملتوی کردیا ہے قبل ازیں اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان سے مقدس ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے جب غیر آئینی بات کرکے ملک کو خطرے میں ڈالنے کی بات ہو گی تو ہم اس کی مزاحمت کرینگے اس میں جمہوریت کے مفادات کا مسئلہ ہے اور خاموش رہنا گناہ کبیرہ ہے یہ کراچی نہیں کہ کوئی مجھے دھمکی دے اور میں بات نہ کروں۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم جمہوریت کیخلاف نہیں الطاف حسین نے نظام بدلنے کی بات کی اگر (ن) لیگ کی تحریک پر بحث ہو تو ہماری تحریک بھی زیر بحث لائی جائے ہم تخت لاہور کی رعایا نہیں۔ (ق) لیگ‘ ایم کیو ایم‘ پی پی پی(شیرپاﺅ) اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے لاہور میں خودکش دھماکوں میں ہلاکتوں اور کراچی میں فائرنگ پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی اور بم دھماکوں کی مذمت کیلئے آواز اٹھانے پر ایوان سے عارضی واک آﺅٹ کیا۔ (ق) لیگ کے چیف وہیپ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے قوم کو کسی ادارے پر اعتماد نہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں 4 منتخب ارکان حاجی خدا بخش‘ سردار محمد شفقت حیات‘ اختر خان کانجو اور چودھری مسعود خان نے حلف اٹھایا۔ چودھری نثار نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بارہ دن بعد قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کئے جانے پر حکومت اور سپیکر قومی اسمبلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اجلاس میں تاخیر سندھ میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر کی گئی۔ آفتاب شیرپاﺅ نے کہا کہ عبدالرزاق تھہیم کی وفات پر اجلاس ملتوی ہونا چاہئے جس پر سپیکر نے اجلاس جمعہ کے روز تک ملتوی کردیا۔