سیلاب زدہ علاقوں سے قیمتی لکڑی کی سمگلنگ میں حکومتی عہدےدار بھی ملوث

03 ستمبر 2010
اسلام آباد (سکندر شاہ + مقبول ملک / نیشن رپورٹ) حکومتی عہدےداروں کے زیر سایہ ہونے والی لکڑی کی سمگلنگ خیبر پی کے‘ پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھیل چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے کے ساتھ بہہ کر آنے والی لاکھوں کیوبک فٹ قیمتی لکڑی کو طاقتور مافیا نے پنجاب کو سمگل کر دیا۔ دریائے سندھ اور تربیلا جھیل سے لکڑی حاصل کر کے سمگل کرنے والوں میں جے یو آئی (ف)‘ اے این پی‘ مسلم لیگ (ن) اور (ق) لیگ کے ایم این اے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سمگلنگ میں سیاستدانوں‘ پولیس اور محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت شامل ہے‘ بدقسمتی سے حکومتی محکموں اور اقوام متحدہ کے حکام کے پاس سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جنگلات یا لکڑی کے ضیاع کا ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ تربیلا جھیل کو 3 روز تک عوام کے لئے بند رکھ کر لکڑی کو یہاں سے لاہور سمگل کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم پی اے ڈاکٹر فائزہ رشید نے کہا ہے کہ لکڑی کی سمگلنگ کرنے والوں نے اربوں روپے کمائے‘ اس لکڑی کو برآمد کیا جاتا تو حکومت کو امدادی رقوم کی ضرورت نہ پڑتی‘ لڑکی کی اس سمگلنگ میں آزاد کشمیر کی خکومت بھی ملوث ہے‘ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر سے رابطہ نہیں ہو سکا۔