A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

جاں بحق افراد کے گھروں میں صف ماتم بچھی رہی، ایک گھر سے تین جنازے اٹھے

03 ستمبر 2010
لاہور (لیڈی رپورٹر + نمائندہ خصوصی) خودکش دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کے گھروں میں گذشتہ روز صف ماتم بچھی رہی اور دن بھر تعزیت کےلئے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ کٹری حمید ٹیکسالی میں ایک گھر سے تین افراد 35 سالہ رحمت، اسکے پانچ سالہ بیٹے احسان اور بھتیجے ابرار کے جنازے اٹھے تو دلخراش مناظر دیکھنے میں آئے۔ نوائے وقت سے گفتگو میں کٹری میاں حمید ٹیکسالی کے طبلہ نواز رحمت علی کی رشتہ دار خواتین نازیہ و دیگر نے کہا کہ سکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث ہمارے گھر کے تین افراد لقمہ اجل بن گئے اور مزید 3 افراد ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔ شاہدرہ ٹاﺅن کی 15 سالہ اُم فروا کی والدہ شمیم نے روتے ہوئے بتایا کہ میری بیٹی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی اور اچھے نتائج کی منت کے سلسلہ میں جلوس میں گئی تھی۔ موچی گیٹ کے رہائشی 55 سالہ شیخ مظہر کی اہلیہ شفقت، بیٹیوں محسن اور اسرار نے کہا کہ مظہر علی دہی بھلے بیچ کر ہمارا پیٹ پالتا تھا۔ سکیورٹی اداروں کی غفلت کی وجہ سے ہمارا ہنستا بستا گھر اُجڑ گیا۔ موہنی روڈ کے کاکا برف والا کی بیوی پر غشی کے دورے پڑتے رہے۔ اندرون بھاٹی گیٹ کے 35 سالہ محمد یوسف کے بھائی محمد یونس اور دکان کے مالک طارق نے بتایا کہ یوسف پہلے دھماکے کے بعد پریشان ہو کر بچوں کو دیکھنے کےلئے گھر سے باہر گیا مگر خود تیسرے حملے کی زد میں آگیا۔ اہلیہ کوثر نے کہا کہ دہشت گردوں نے میرا سہاگ ہی نہیں چھینا 7 بچوں کو یتیم بھی بنا دیا ہے۔ جوگی محلہ اندرون بھاٹی گیٹ کا رہائشی متوفی مبارک علی 7 بچوں کا باپ تھا۔