لاہور دھماکے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے‘ بند توڑنے والوں کو سزا ملنی چاہئے : نوازشریف

03 ستمبر 2010
ملتان + مظفر گڑھ (سپیشل رپورٹر + نامہ نگار + ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے وفاقی حکومت متاثرین کو کم از کم ایک ایک لاکھ روپے امداد دے اور پنجاب حکومت عید سے قبل 20‘ 20 ہزار روپے دے‘ لاہور دھماکے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔ سیلاب میں جاںبحق ہونے والے افراد کی زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں‘ تباہی کا سروے کرا رہے ہیں اور اس کی روشنی میں تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے گا۔ آخری خاندان کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وہ یہاں متاثرین سیلاب کے کیمپوں کے دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز بن ابراہیم بھی موجود تھے۔ نوازشریف نے کہا شہباز شریف نے سیلاب کے دوران جس جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت کی وہ اس پر شاباش کے مستحق ہیں۔ انہوں نے راشن کی تقسیم‘ ریسکیو آپریشن‘ خیموں کی فراہمی اور دیگر امور میں ذاتی دلچسپی لی جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام متاثرین جن کے گھر بہہ گئے اور فصلیں تباہ ہو گئی ہیں انہیں کم از کم ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہا ہے جتنا جلد ممکن ہو سکے متاثرین کو عید سے پہلے امداد کی پہلی قسط مل جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا عوام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ لاہور میں ہونے والے خودکش حملوں میں پولیس اہلکار بھی جاںبحق اور زخمی ہوئے۔ پولےس کی گاڑیاں جلانے‘ سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہئے ۔ سانحہ سیالکوٹ کے بارے میں نوازشریف نے کہا انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں‘ ملزمان پکڑے گئے ہیں‘ ایک ایس ایچ او کے بارے میں معلوم ہوا ہے وہ بیرون ملک فرار ہو گیا ہے اسے بھی واپس لائیں گے اور اس ملک کو مجبور کریں گے کہ وہ اسے واپس بھیجے۔ ثناءنیوز کے مطابق انہوں نے کہا لاہور خودکش دھماکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کئے گئے۔ بندوں اور نہروں میں شگاف ڈالنے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمشن بنا دیا‘ ذمہ داران کو قرارواقعی سزا ملنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دورہ کے لئے تیسری مرتبہ آیا ہوں۔ ہم صرف فوٹو سیشن یا سیلاب پر اپنی سیاست چمکانے کے لئے یہاں نہیں آئے بلکہ ہم متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ نوازشریف ملتان سے بائی روڈ مظفرگڑھ اور بھیرہ تک گئے۔ گاڑی سردار ذوالفقار کھوسہ نے چلائی۔ ملتان ایئرپورٹ پر نوازشریف نے مخدوم جاوید ہاشمی کی خیریت بھی دریافت کی۔ بعدازاں نوازشریف خصوصی طیارے کے ذریعے واپس لاہور روانہ ہوئے۔