انتخاب کا نیا طریقہ آرٹیکل 26 سے متصادم لگتا ہے : چیف جسٹس ۔۔ 30 فیصد سے زائد ارکان پارلیمنٹ نام نہاد عوامی نمائندے ہیں : جسٹس جواد خواجہ

03 ستمبر 2010
اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت ) سپریم کورٹ نے 18ویں ترمیم کے کیس کی سماعت کے دوران مخصوص نشستوں پر 2008ءمیں ہونے والے انتخابات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی سربراہ بن کر کیسے رکن پارلےمنٹ کو نااہل قرار دلا سکتا ہے؟ مخصوص نشستوں سے متعلق نیا طریقہ انتخاب بادی النظر میں آئین کے آرٹیکل 26 سے متصادم ہے۔ اس موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ 30 فیصد سے زائد ارکان پارلیمنٹ نام نہاد عوامی نمائندے ہیں، اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر آنے والے ارکان اسمبلی کو منتخب نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کا چناﺅ پارٹی سربراہ کرتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ اپنے کسی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دلا سکے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی سربراہ کی تعریف آئین میں ہے۔ جسٹس شاکر اللہ جان نے کہا کہ جو پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ تو نہیں بن سکتا۔ کیا ایسے شخص کو کسی رکن پارلیمنٹ کو ہدایت و احکامات دینے کا اختیار سونپنا ٹھیک ہو گا؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ پارٹی سربراہ کو 18ویں ترمیم میں جو اختیارات سونپے گئے ہیں وہ آئین کے مطابق ہیں وہ غیر آئینی نہیں ۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ کوئی خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرے اور ملکی معاملات سے لاتعلق ہو جائے تو کیا پارٹی سربراہ کے طور پر اسے یہ حق مل سکتا ہے کہ وہ اپنے منتخب ارکان کو نااہل قرار دلائے؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ مخصوص نشستیں غیر آئینی نہیں۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک میں انتخاب متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت ہوتا ہے وہاں بھی خفیہ رائے دہی کا طریقہ ہوتا ہے۔ جسٹس شاکر اللہ جان نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر انتخاب بے شک متناسب نمائندگی کے اصول پر ہو لیکن یہ خفیہ رائے کے ذریعے ہونا چاہئے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا ہم کسی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آمروں کے دور میں پارلیمانی لیڈروں کا تصور دیا گیا تھا لیکن اس غیر منتخب طریقے سے کوئی بھی خاتون پارلیمنٹرین وزیر اعظم بن سکتی ہے۔ کیس کی سماعت 6 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔