سندھ : جاگیرداروں نے فصلیں بچانے کیلئے پشتے توڑ کر غریبوں کو ڈبو دیا : عبداللہ حسین ہارون

03 ستمبر 2010
نیویارک (نیٹ نیوز + آن لائن + اے ایف پی) اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر عبداللہ حسین ہارون نے انکشاف کیا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کے سندھ میں امیر زمینداروں نے فصلیں بچانے کیلئے سیلاب سے بچاﺅ کے حوالے سے بنائے جانے والے پشتوں میں شگاف ڈال کر پانی کا رخ غریبوں کے علاقوں کی طرف موڑ دیا اور غریبوں کو ڈبوایا۔ بی بی سی کے پروگرام ”ہارڈ ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا امیر زمینداروں کی ایماءپر سیلاب کا رخ موڑنے کی تحقیقات ہونی چاہئیں اس بات کے ثبوت ہیں کہ بڑے زمینداروں نے پشتے کو دانستہ طور پر پھٹنے دیا تاکہ پانی ان کے کھیتوں سے دورچلا جائے کئی سال سے سیلاب نہیں آیا تھا جن علاقوں میں سیلاب آتا رہا ہے وہاں اب بڑے زمیندار کاشتکاری کرتے ہیں ایسے اشارے ملے ہیں کہ بعض علاقے جو محفوظ تھے وہاں سے پانی کو دوسری جانب بہانے کی اجازت دی گئی تھی اگر ایسا ہورہا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انکوائری کرے اٹلی کے رقبے کے برابر پاکستان کا علاقہ سیلاب سے متاثر ہوا ہے ملک کا پانچواں حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے سولہ سو افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔