پانی خیر پور ناتھن میں داخل‘ عالمی امداد تقریباً رک چکی‘ بلوچستان سے ہزاروں متاثرین ایران ہجرت کر سکتے ہیں : اقوام متحدہ

03 ستمبر 2010
گولارچی + ٹھٹھہ + لاہور (مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں + سٹی رپورٹر) ایس ایم بند میں شگاف پڑنے سے جاتی اور بڈھ ٹالپر کے 2 سو دیہات زیرآب آگئے جبکہ ہزاروں افراد محصور ہوگئے، سیلابی ریلا خیرپور جوناتھن مےں بھی داخل ہوگیا، دادو مےں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 9افراد جاں بحق ہوگئے۔ گولارچی، کلورواہ، احمد راجو سے نقل مکانی شروع ہوگئی، ریلہ سے دیوان سٹی، وارہ، نصیر آباد کو خطرہ بڑھ گیا۔ لاہور سمیت مختلف شہروں مےں بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ تفصیلات کے مطابق سیلابی ریلے کے سبب بڈھ ٹالپر اور جاتی کے قرب و جوار کے سینکڑوں دیہات زیر آب آگئے ہےں، ضلع ٹھٹھہ کے مختلف علاقوں سے گولارچی مےں 30 سے 35 ہزار متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہےں، متاثرین کو گذشتہ 2 روز سے کھانا پینا بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ زمینی رابطہ منقطع ہونے کے باعث سندھ کے لاکھوں متاثرین ڈیرہ مراد جمالی میں پھنسے ہیں۔ لاڑکانہ مےں گیسٹرو سے مزید 2 بچے جاں بحق ہوگئے۔ گذشتہ روز لاہور مےں آدھے گھنٹے تک 37ملی میٹر بارش ہوئی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ مےں بھی بارش ہوئی، نواب شاہ مےں 52ملی میٹر بارش ہوئی۔
نیویارک + اسلام آباد (ریڈیو نیوز + نوائے وقت نیوز+ رائٹرز) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کےلئے امداد تقریباً رُک چکی ہے، فنڈز کی قلت کے باعث ریلیف سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہےں، 80 لاکھ افراد بھی متاثر ہو سکتے ہےں، یو این ایچ سی آر کے نمائندے نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں مےں فوری طور پر بہتری نہ لائی گئی تو متاثرین مجبوراً سرحد عبور کر کے ایران جاسکتے ہےں۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے سیلاب متاثرین اور دہشت گردی کےخلاف جنگ سے متاثرہ افراد کی امداد کےلئے جاری سرگرمیوں مےں توسیع کےلئے بجٹ مےں 75.5ملین ڈالر اضافے کی اپیل جاری کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی کوارڈینیشن ایجنسی کے سربراہ مینول بیسلر نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو مےں کہا کہ کم از کم 80لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں مےں بارودی سرنگیں اور بغیر پھٹے ہوا بارودی مواد بہہ جانے سے متاثرہ علاقوں مےں خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے نمائندے منگیشا کبیدے نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان مےں متاثرین کی تعداد 20لاکھ ہوگئی، امداد کا بہت کم بلوچستان کے متاثرین کو ملا جس کے باعث صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ ہم نے ایران مےں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کو سٹینڈ بائی کر دیا ہے۔