سانحہ کربلا گامے شاہ : لاہور میں مکمل شٹرڈاﺅن ۔۔ کئی شہروں میں مظاہرے

03 ستمبر 2010
لاہور (نمائندہ خصوصی +کامرس رپورٹر +خبرنگار + اپنے نمائندے سے + نیوز رپورٹر + اپنے نامہ نگار سے + نمائندگان + ایجنسیاں) حضرت علیؓ کے یوم شہادت پر کربلا گامے شاہ کے قریب جلوس میں خودکش دھماکوں کے سوگ میں جمعرات کے روز لاہور کی بڑی مارکیٹوں میں مکمل شٹر ڈاﺅن رہا‘ مال روڈ‘ بھاٹی‘ داتا دربار‘ اردو بازار سمیت اہم شاہراہوں پر قائم بنک بھی بند رہے‘ شہر میں مقامی تعطیل کر دی گئی‘ ماتحت عدالتیں بند رہیں‘ خودکش دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے 8 افراد کی ناصر باغ میں اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی‘ اس موقع پر رینجرز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لئے رکھا‘ بعدازاں میتوں کی ان کے علاقوں میں تدفین کی گئی‘ سانحہ کے خلاف کراچی‘ حیدر آباد‘ پشاور‘ سرگودھا‘ نارووال‘ پنڈی بھٹیاں صدر گوگیرہ سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور جلوس نکالے گئے۔ سیالکوٹ‘ حافظ آباد سمیت کئی شہروں میں وکلاءنے عدالتی بائیکاٹ کیا۔ ادھر جاں بحق افراد کی تعداد 37 ہو گئی جبکہ 357 زخمی ہوئے جن میں سے 149 تاحال مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ کربلا گامے شاہ کے سوگ میں شاہ عالم مارکیٹ‘ انار کلی‘ اردو بازار‘ ہال روڈ‘ بیڈن روڈ‘ پینوراما سنٹر‘ سرکلر روڈ‘ اعظم کلاتھ مارکیٹ‘ سوہا بازار‘ لبرٹی‘ حفیظ سنٹر‘ عابد مارکیٹ‘ اکبری مارکیٹ‘ علامہ اقبال ٹاﺅن‘ مین بلےوارڈ‘ مصری شاہ ‘ بادامی باغ مارکیٹ‘ اچھرہ مارکیٹ‘ فیروز پور روڈ سمیت دیگر مارکےٹیں بند رہیں۔ قومی تاجر اتحاد لاہور کے چیئرمین راجہ حامد ریاض‘ انجمن تاجران لاہور کے صدر اشرف بھٹی‘ اکبری منڈی کے تاجر رہنما اصغر بٹ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ سانحہ میں دشمن ملک قوتیں ملوث ہیں۔ پوری قوم متحد ہے‘ حکومت عید کی خریداری کے پیش نظر مارکیٹوں میں سکیورٹی کے موثر اقدام کرے۔ کئی علاقوں میں پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے کھلی دکانیں بند کروا دیں۔ جاں بحق 8 افراد کی نماز جنازہ ناصر باغ کے احاطے میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ علامہ آغا حیدر موسوی نے پڑھائی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ناصر باغ کے اردگرد کے علاقوں کو رینجرز اور لاہور پولیس نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ سکیورٹی کے انتہائی غیرمعمولی انتظامات تھے۔ نماز جنازہ کے بعد وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ نماز جنازہ کے شرکاءسے علامہ جواد نقوی، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ عبدالخالق اسدی، اجمل نقوی، سید احمد اقبال رضوی، علامہ اقبال کامرانی اور آئی ایس او کے مرکزی رہنماﺅں حر حیدر نقوی اور ابو ذر مہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی نااہلی کے نتیجہ میں لاہور کو ایک بار پھر خون سے نہلا دیا گیا ہے۔ سوگواروں نے پنجاب حکومت اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اس موقع پرسید اجمل نقو ی نے مشتعل مظاہرین سے کہاکہ وہ قانون ہاتھ میں نہ لیں بلکہ امن و امان کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں ۔ جاں بحق ہونے والے جن افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ان میں ٹیکسالی چوک کا رحمت علی‘ اسکا بیٹا علی حسن، 15سالہ بھتیجا غلام صابر، ٹیکسالی گیٹ کا مبارک نواز علی، شادباغ کا کاشف، موہنی روڈ کا محمد التجا علی، بکر منڈی کا اصغر علی اور ٹاﺅن شپ کا طیب رضا شامل ہیں۔ اجتماعی نماز جنازہ کے بعد لواحقین میتیں لیکر چلے گئے اور انہیں مختلف قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ دریں اثنا شیعہ رہنماﺅں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ دہشت گردی کیخلاف ازخود نوٹس کیوں نہیں لیتی؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خود ایک دہشت گرد جماعت کی سرپرستی کرتے رہے ہیں‘ انہیں فی الفور عہدے سے برطرف کرنا چاہئے۔ نماز جنازہ میں کوئی سیاسی شخصیت نہیں تھی۔ نماز جنازہ سے قبل علماء کرام نے شرکاءکو پرامن رہنے کی تلقین کی اور اعلان کیا کہ نماز جنازہ کے بعد کوئی جلوس یا احتجاجی ریلی نہیں نکالی جائے گی۔ علماءکرام نے اعلان کیا کہ یوم القدس یوم احتجاج کے طور پر منایا جائے گا اور اس موقع پر نکالی جانے والی ریلی کیلئے حکمت عملی طے کی جائے گی۔ دو افراد کی نماز جنازہ کربلا گامے شاہ میں بھی ادا کی گئی۔ جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ناصر باغ میں ادا کرنے کے اعلان کے بعد ہائی کورٹ کی طرف سے سیشن کورٹ‘ ضلع کچہری اور ایوان عدل کی عدالتیں بند کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آ سکے لاہور بار نے بھی ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ وقائع نگار خصوصی کے مطابق ہائیکورٹ کی پرنسپل سیٹ پر گیارہ بجے کے بعد عدالتی کام نہیں ہوا۔ ادھر گزشتہ روز بھی محکمہ صحت پنجاب نے شہر بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کئے رکھی‘ پروفیسرز سمیت تمام عملہ ڈیوٹی پر حاضر رہے۔ دریں اثنا سوگ میں سارا شہر بند ہو جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے شہر میں مقامی تعطیل کا حکم جاری کردیا جس کے بعد دفاتر آنیوالے افسران اور عملہ نے دفاتر بند کرکے گھر کی راہ لی۔ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے بھاٹی‘ داتا دربار‘ اردو بازار‘ انارکلی‘ مال روڈ سمیت دیگر علاقوں میں ناصرف بنکوں کی برانچیں بند رہیں بلکہ انہوں نے اپنی اے ٹی ایمز کے بھی شٹر گرائے رکھے۔ لاہور میں مارکیٹوں کے ساتھ سڑکیں بھی ویران دکھائی دیں اور ٹریفک معمول سے بہت کم رہی۔ رائٹرز سے گفتگو میں ڈی سی او سجاد بھٹہ نے کہا کہ رینجرز کو آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر طلب کیا جا سکے گا۔ دھماکوں کی تفتیش ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذوالفقار حمید اور ایس پی سی آئی اے عمر ورک کے حوالے کر دی گئی ہے۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء نے لاہور دھماکوں کے خلاف مکمل ہڑتال کی۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق خودکش حملوں کے خلاف شہر میں ہڑتال کی گئی اور شیعہ تنظیموں کے زیر اہتمام احتجاجی جلوس میں بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی۔ جلوس کی قیادت ملت محمدیہ پاکستان کے مرکزی صدر طالب حسین جوہری نے کی۔ سیالکوٹ میں وکلاءنے عدالتی بائیکاٹ کیا‘ سرگودھا میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور خوشاب سرگودھا روڈ بلاک کر دی۔ دو نوجوانوں کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں صدر گوگیرہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ سوگ میں کاروباری مراکز بند رہے۔ بیس سالہ زمان اور اٹھارہ سالہ زاہد حسین محنت مزدوری کے سلسلہ میں لاہور رہائش پذیر تھے‘ آئی ایس او نے احتجاجی جلوس نکالا۔ رحیم یار خان میں وکلاءنے ہڑتال کی۔