نتیجہ خود ہی اخذ کر لیں

03 ستمبر 2010
ضلعی حکومتوں کے نظام پر اگر فوجی آمریتوں کی پیداوار کا لیبل نہ لگا ہوا ہو تو لوگوں کے مسائل ان کے گھر کی دہلیز پر حل کرنے کے فلسفہ کو اس نظام کے تحت عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے مگر ہمارا تو ایسا کلچر ہی نہیں ہے کہ کسی اچھی چیز کو اس کے اچھا ہونے کی بنیاد پر قبول کیا جائے۔ ضلعی حکومتوں کے نظام کا بھی یہی المیہ ہے کہ یہ ہمارے کلچر کے پیمانے پر پورا نہیں اترتا۔ چونکہ اس نظام کی پرورش ہی فوجی آمریتوں کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے فوجی ادوار میں تو یہ نظام ایک تناور درخت بنا نظر آتا ہے مگر جمہوری دور شروع ہوتے ہی اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
اب تک ہمارے ملک میں چاہے جس بھی شکل میں ہو، بلدیاتی نظام صرف جرنیل شاہی کا ہی مرہون منت رہا ہے۔ جنرل ایوب نے اس نظام کو بنیادی جمہوریت کی شکل میں متعارف کرایا اور پھر اسے اپنا حلقہ انتخاب بنا لیا۔ اسی حلقہ انتخاب کے ماتحت انہوں نے صدارتی الیکشن کرایا اور اپنے مقابلے میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی جیت کو شکست میں تبدیل کرا دیا۔ یحیٰی خاں تو اپنا وزن ہی نہیں سہار پائے تھے اس لئے انہیں جرنیل شاہی کے خول سے باہر نکلنے کی توفیق ہی نہ ہوئی جبکہ ضیاءالحق نے ایوب خاں کی طرح بلدیاتی نظام کے ثمرات سے خوب استفادہ کیا۔ ہمارے موجودہ قومی سیاسی قائدین کی اکثریت اسی نظام کے پایوں کے ساتھ لٹکتی پروان چڑھی ہے اور فوجی آمریتوں کی پیداوار کے طعنے جھیلتے جھیلتے اب وہ سلطانی جمہور کے سرخیل نظر آتے ہیں۔ مشرف نے تو اپنی ساری اقتداری طاقت ہی ضلعی حکومتوں کے نظام سے حاصل کی اور ”گراس روٹ لیول“ سے قومی تعمیر نو کا نعرہ دے کر نظام نظامت کو رائج کیا جس میں کونسلر سطح کے لوگ یونین، ٹاﺅن اور ضلع ناظم کی سطح پر آ گئے۔ اس سسٹم میں ترقیاتی منصوبوں کے سارے فنڈز ناظمین کے ہاتھ لگے جن کے سہارے مشرف نے اپنے ہاتھ بھی مضبوط کئے۔
فوجی آمروں نے اس نظام کو ہمیشہ اپنے تھیلے کی بلی بنائے رکھا ہے تاکہ جب بھی ضرورت محسوس ہو، بلی کو باہر نکال کر اپنے حریفوں کے لئے ان سے ”میاﺅں“ کرایا جا سکے۔ چنانچہ اس نظام کے وابستگان میاﺅں کی گردان میں خاصے پختہ ہو چکے ہیں۔ فوجی آمروں کو اپنے اقتدار کی طوالت و استحکام اور ریفرنڈم یا کسی اور شکل میں خود کو منتخب کرانے کی جب بھی ضرورت محسوس ہوئی ان کے لئے ”میاﺅں“ کی حاضر جنابی دستیاب ہوتی تھی۔ افرادی قوت بھی اور مالی قوت بھی اور پھر ”ستے ای خیراں“ مشرف نے تو اپنے پپٹ اس نظام کو بیوروکریسی پر بھی حاوی کر دیا تھا چنانچہ آج سیاسی جماعتوں سے زیادہ بیوروکریسی اس نظام کی ناقد اور مخالف نکلے گی۔
اس نظام کی اولین قباحت تو یہی ہے کہ یہ مارشل لاﺅں اور فوجی آمریتوں کی پیداوار ہے اور ان کے لئے ”سٹیٹس کو“ کا سہارا بنا ہے۔ سیاستدانوں کو اس نظام سے یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ جب سارے فنڈز ناظمین کی دستبرد میں رہیں گے تو انہیں گھاس کون ڈالے گا۔ جمہوری سیاسی نظام میں ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹروں تک کو موری ممبر کی سطح پر آ کر اپنے حلقہ کے لوگوں کی خدمت کرنا پڑتی ہے جبکہ بنیادی جمہوریتوں، مقامی حکومتوں اور ضلعی نظامتوں کے نظام میں موری ممبروں کی حیثیت اسمبلیوں اور سینٹ کے ارکان سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے تو مشرف کے دور میں کئی سابق ارکان اسمبلی و سینٹ ناظم بننے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ چنانچہ اگر اب بھی یہ نظام بحال ہوتا ہے تو مفاداتی سیاست میں سینٹ اور اسمبلیوں کے کئی ارکان ضلعی اور ٹاﺅن نظامت کے پیچھے بھاگتے نظر آئیں گے۔ اس سسٹم میں درحقیقت شخصیات مضبوط اور سسٹم کمزور ہو جاتا ہے۔ ضلع ناظم کا حلقہ انتخاب اس ضلع کے تمام قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر مشتمل ہوتا ہے چنانچہ جب ایک ضلع کے تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے فنڈز اور اختیارات صرف ایک اکیلے ضلع ناظم کے پاس ہوں گے اور ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقے کے ترقیاتی کاموں کے لئے ضلع ناظم کے مرہون منت رہیں گے تو انہیں یہ نظام کیسے سوٹ کرے گا۔ اسی وجہ سے سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے نظام سے بدکتی ہیں کہ جب گھر گھر میں حکومت قائم ہو جائے گی تو ان کی مرکزی اورصوبائی حکومتوں کی رٹ کون تسلیم کرے گا۔ اس لئے جیسے ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں اسی طرح جمہوری دور میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا مقامی حکومتوں کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا۔
بلدیاتی نظام کے لئے سپریم کورٹ کی تشویش اپنی جگہ مگر سپریم کورٹ چاہے جتنے بھی جتن کر لے وفاقی اور صوبائی حکمران آگ سے کھیلنے سے باز نہیں آئیں گے چاہے سپریم کورٹ انہیں اس آگ میں جھلسا ہی کیوں نہ دے۔ ہمارے دانشور دوست سلمان عابد بنیادی جمہوریتوں کے نظام کی اچھائیوں برائیوں کا خاصہ ادراک رکھتے ہیں اور انہوں نے خود بھی ”گراس روٹ لیول“ تک جا کر اس نظام کا مشاہدہ و مطالعہ کیا ہوا ہے اس لئے میرے پاس ان کے اس دعوے پر یقین نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں کہ جب تک سلطانی جمہور موجود ہے، سپریم کورٹ چاہے جتنے بھی ڈراوے دیتی رہے، بلدیاتی انتخابات کی نوبت نہیں آئے گی اور جب نوبت آئے گی تو سمجھ لیجئے کہ جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی۔ عدالت عظمیٰ سے الطاف بھائی بھی یہی کام لینا چاہتے ہیں اور بلدیاتی انتخابات کے لئے دباﺅ ڈال کر عدالت عظمیٰ خود بھی سلطانی جمہور کی بساط لپیٹے جانے کی نوبت لا رہی ہے اس لئے مقاصد پر نظر ڈالنا جن کا کام ہے وہ خود ہی بلدیاتی انتخابات کی ”موو“ سے نتیجہ اخذ کر لیں۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...