لاہور کیوں تباہ ہوا

03 ستمبر 2010
قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے پانیوں اور خشکی پر فساد رونما ہو گیا ہے یہ سب ان کے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ آج کا پاکستان اسی کا مصداق ہے۔ ہمیں ایک جانب پانی کے فساد نے لپیٹ میں لے رکھا ہے دوسری طرف زمین پر ہمارے ہاتھوں نے فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات کے شعلے بھڑکا رکھے ہیں۔ دہشت گردی کا بھوت سروں پر ناچ رہا ہے۔ امن و سکون ہے نہ شہریوں کی زندگی محفوظ ہے۔ دریاوں میں آنے والا سیلاب اتنا بڑا اور تباہ کن کہ چشم فلک نے پہلے نہ دیکھا ہو گا۔ 2004ءکا سونامی مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ 2005ءکا شدید ترین زلزلہ تمام تر تباہی کے باوجود ہیچ نظر آتا ہے۔ خیبر سے لیکر کراچی تک پوری ارض پاکستان یلغار میں ہے۔ دو کروڑ افراد کے گھر بار تباہ ہو گئے ہیں۔ ملک کی معیشت جو پہلے ہی زبوں حالی کا شکار تھی کئی دہائیاں پیچھے چلی گئی ہے۔ ایسا عذاب آیا ہے کہ ہم اکیسویں صدی سے لڑھک کر پتھر کے زمانے میں چلے گئے ہیں۔ بھیک منگے مشہور تھے اب بیرونی دنیا رحم کھاتے ہوئے بھی ہمارے کشکول میں کچھ ڈالنے سے گریزاں ہے کہ بدعنوان سمجھے جاتے ہیں۔ اپنے لوگوں میں جو کھاتے پیتے قدرت کا قانون مکافاتِ عمل کا مقدر بن کر ہمارا منہ چڑا رہا ہےں، عقل ہمیں اس کے باوجود نہیں آتی۔ عذابِ شدید کسے کہتے ہیں۔
خشکی پر جو فساد ہم نے برپا کر رکھا ہے اس نے ملک کو انتشار، پراگندگی اور خونریزی سے لبریز سرزمین بنا دیا ہے۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے کہیں فرقہ واریت کے نام پر کہیں لسانی فساد کے شعلوں کو ہَوا دے کر اور کہیں صوبائی تعصب کی آگ بھڑکا کر۔ بدھ یکم ستمبر کی شام جبکہ 21 رمضان المبارک کا آغاز ہُوا چاہتا تھا لوگوں کی ایک بڑی تعداد مساجد کے اندر اعتکاف بیٹھ چکی تھی مذہب کے نام پر فساد برپا کرنے والوں کی شر انگیزی اس طرح فضا پر چھا گئی کہ کراچی میں حضرت علیؓ کے یوم شہادت پر نکالے جانے والے جلوس پر زبردست فائرنگ ہوئی۔ لوگ ہراساں ہوئے۔ آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ کئی ایک زخمی ہوئے۔ معاً بعد لاہور میں ایسے ہی جلوس کو کہ اختتام پر پہنچنے والا تھا، خودکش حملہ آوروں نے آ لیا۔ پھر قریب ہی بھاٹی گیٹ میں یہ واقعہ ہوا۔ تیس سے زائد بے گناہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس سے چند ہفتے پہلے حضرت علی ہجویریؒ کا مزار! اس سے قبل قادیانیوں کی عبادت گاہیں! روز روز کی دہشت گردی سے ہمارا فسادی ذہن کیا رنگ جما رہا ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے خون کی جو ندیاں بہائی جا رہی ہیں اور کوئٹہ و بلوچستان میں صوبائی تعصب کی آندھی نے اس خطے کو مقتل بنا رکھا ہے۔ میں یہاں سانحہ سیالکوٹ کا ذکر نہیں کروں گا جو پتھر دلوں کو بھی ہلاک کر رکھ دینے والا ہے۔ یہ ہمارے ہاتھوں کی کمائی نہیں تو کیا ہے۔
موازنہ کرنا مشکل ہے کہ دریاوں سے اٹھنے والا طوفان بلا خیز شدید تر ہے کہ خشکی پر پروان چڑنے والی درندگی زیادہ تباہ کن ہے۔ سارے کا سارا فساد فی الارض ہے۔ ذرا سوچئے کس کے کرتوت سامنے آئے ہیں۔ منافقت ہمارے اندر رچ بس گی ہے۔ بدعنوانی اکاس بیل کی مانند شجرِ قومی کو لپیٹ میں لے کر اس کا خون نچوڑے جا رہی ہے۔ دوغلا پن ہمارا قومی کردار بن چکا ہے۔ ان بیماریوں کا سب سے زیادہ شکار ہمارا حکمران طبقہ ہے۔ اسی سے گندا پانی نیچے تک سرائیت کر گیا ہے۔ خواجہ حسن سنجری نے ’فوائد الفواد‘ میں لکھا ہے ایک دن خواجہ نظام الدین اولیائؒ نے اپنی محفل میں موجود لوگوں سے کہا تمہیں معلوم ہے لاہور کیوں تباہ ہوا تھا۔ پھر فرمایا لاہور کے تاجروں کا ایک وفد کپڑا بیچنے کے لئے گجرات کاٹھیاوار گیا ہوا تھا وہاں انہوں نے بہت زیادہ نرخ طلب کئے۔ کسی نے کپڑا نہ خریدا تو بھاو بہت کم کر دیا۔ وہاں کے تاجروں نے پوچھا تم نے پہلے تو بہت زیادہ قیمت بتائی تھی اب ایک دم نیچے آ گئے ہو، منافع کیونکر کماو گے۔ لاہوری تاجروں نے جواب دیا ہم اسی طریقے سے مال بیچتے ہیں۔ یہ سُن کر گجرات کے دکاندار بہت حیران ہوئے، انہوں نے پوچھا کیا تمہارا شہر اس کے باوجود باقی ہے۔ لاہور کے تاجر ابھی واپس نہ پہنچے تھے شہر میں تباہی پھیل چکی تھی۔ آج بدقسمتی سے پورا پاکستان زمانہ قدیم کے لاہور کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اے میری قوم! اے میرے ہم وطنو ہوش کے ناخن لو۔ سنبھل جاو، ورنہ تمہاری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں!