کیا ہے ؟ کیا نہیں ہے ؟

03 ستمبر 2010
کیا ہمارا میڈیا بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب دے رہا ہے؟ یہ تھا وہ سوال جسے اب اُلٹا ہی دینا چاہیے تھا اور اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے رجوع بھی نشانِ جمہوریت جناب مجید نظامی سے ہی کرنا چاہیے تھا! سو یہی ہوا اور انہوں نے وہی کیا جس کی تصدیق ہمارا مشاہدہ کر رہا ہے! سرکاری ذرائع ابلاغ تو بھارت کا نام آتے ہی بل کھا کے رہ جاتے ہیں کہ یہ ’کام‘ ہم سے ہونے کا نہیں! ذرائع ابلاغ میں ’امن کی آشا‘ اُڑتے اُڑتے ہر سرحد پھلانگ چکی ہے اور اب دور اُفق میں ڈوبتی نظر آنے لگی ہے، ایسے میں جناب مجید نظامی نے جواب دینے کے لئے لب کھولے تو انٹرویورز سراپا گوش تھے!
’نوائے وقت بھارتی پراپیگنڈے کا صرف جواب ہی نہیں دے رہا بلکہ اُسے ’جواب دہ‘ بھی بنا رہا ہے! ادارے کی دیگر مطبوعات اور ’وقت نیوز‘ بھی اسی روش پر عمل پیرا ہے۔ باقی میڈیا اس حوالے سے کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ میں اس کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا! ہمارے میڈیا میں ’امن کی آشا‘ کے علم بردار بھی موجود ہیں! حکومت بھارتی پراپیگنڈے کا جواب نہیں دے رہی! اس کی پالیسی واضح ہونا چاہیے! وہ کھل کر بات کرے، جیسے، پاکستان بھارت کے ساتھ بات کرتا رہا ہے! لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا! انہیں ایک مسلم حکومت کی طرح دشمن کی بات کا جواب دینا چاہیے مگر یہ ایسا کرتے نہیں!‘
ہم نے یہ انٹرویو 18 اگست 2010 کے دن پڑھا اور ہم اب تک بھارت کے ساتھ پاکستان کے رویے اور پاکستان کے ساتھ بھارت کے رویے کے دوطرفہ تجزیے میں غرق رہ گئے! کیا ہم کشمیر کے مسئلے کی موجودگی میں دریائی پانی کا سمجھوتہ کرتے وقت بھول گئے تھے کہ ہم بھارت کے ساتھ یہ معاہدہ کرتے ہوئے اسے ’مقبوضہ کشمیر‘ میں ’راوی ننکل ڈیم پراجیکٹ‘ بنانے کی اجازت دے رہے ہیں؟ ہم اسے پاکستانی دریاوں کے رُخ بدلنے کے حق کے ساتھ ساتھ پاکستانی دریاوں پر پاکستانی آبی اور سیلابی حقوق سے بھی دستبردار ہو رہے ہیں؟ جبکہ یہ بین الاقوامی ’حق‘ ’ناقابل تنسیخ حق‘ ہے، اور یہ دست برداری ’غیر قانونی دست برداری‘ ہے!
ہم اپنے ’قومی وسائل‘ اور ’قومی خزانے‘ کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے ہیںجسے آج کل دیکھنا اور صرف دیکھنا ہماری تقدیر کر دیا گیا ہے! ہم اس حال تک، ایک دن میں نہیں پہنچے! ہم نے یہ کام 1958 میں شروع کیا اور ملک دولخت کر دینے کے بعد بھی اس کام کی رفتار میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دی! جنرل محمد ایوب خان، صرف دریاوں کا سودا کر کے اکھنور میں دشمن کی گردن پر ہاتھ ڈالنے کی تجویز کے پھندے میں آ کر ’ہنگول ڈیم پراجیکٹ‘ کے ساتھ ساتھ اقتدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے مگر جنرل آغا محمد یحیٰی خان قزلباش ملک کے دو ٹکڑے کر دینے کے بعد بھی بطور ’صدر‘ کام کرتے رہنے پر مُصِر تھے!
جنرل محمد ضیاءالحق ایک ایٹمی قوت کے سربراہ ہوتے ہوئے بھی ’کینیڈی ائر پورٹ‘ پر ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کے صدر کی شان و شوکت ریزہ ریزہ کر بیٹھے!
جنرل پرویز مشرف ایک ’ایٹمی قوت‘ کے حامل سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کے محسنین کی ذلت کے کارِ خیر میں مشغول رہے، یہ جانے بغیر کہ نتائج کیا نکلیں گے؟ اور اب اکیلے پھر رہے ہیں یوسفِ بے کارواں ہو کر! ہمیں ان تمام ادوار میں ان تمام حضرات کے ایسے تمام اقدامات پر ’نوائے وقت‘ کے سوا کوئی ’آواز‘ سنائی نہیں دیتی جسے ’نوائے وقت‘ کہا جا سکے! آج سرکاری سطح پر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زبانی تو کوئی ایسی بات کبھی سرزد نہیں ہوئی کہ ہم اسے کوئی ذمہ دارانہ باس سمجھیں! البتہ جناب حسین حقانی نے ایک بات کہی ہے جسے سمجھنا اور سمجھانا ضروری ہے! کاش پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین بھی یہ بات سمجھ سکیں! جناب حسین حقانی جنہیں ہم جناب شاہد مسعود کی درگت بناتے دیکھ چکے ہیں اب جناب محمد مالک سے کہہ رہے تھے ”ہم امریکہ کی ’تزویراتی حکمتِ عملی میں اُس کی مدد کر رہے ہیں! ہم اس کے ’تزویراتی اتحادی ملک‘ ہیں! اور پھر اقبال کا یہ شعر پڑھتے ہوئے کہ
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تُو
مجھ کو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
اور کہا ”دوستی کو حد میں رکھنا ’ہماری‘ ذمہ داری ہے!“ ........ (جاری)