یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز کے موبائل ہاسپیٹلز کا خیر مقدم

03 ستمبر 2010
پاکستان میں قدرتی آفات کے دوران یوں تو پوری ملت پاکستان اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد اور بحالی کے لئے میدان میں اتر جاتی ہے مگر پاکستان کی مسلح افواج، میڈیا اور تعلیمی ادارے تو ہر اول دستے میں شامل ہوتے ہیں اور فرنٹ لائن پر اپنی خدمات کو اس طرح جذبہ خدمت کے ساتھ شبانہ روز ادا کرتے ہیں کہ آفات سے متاثرہ لوگ بھی حیران رہ جاتے ہیں۔یہی منظر سیلاب کی حالیہ تباہ کاری کے دوران بھی نظر آ رہا ہے گویا متاثرین کی مدد کے لئے یونیورسٹیز، کالجز اور سکولز کے سٹاف اور طلباءمتاثرین کے پاس پہنچ کر شب و روز ان کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ اس بار دیگر تعلیمی اداروں کی طرح پاکستان کی سب سے بڑی میڈیکل یونیورسٹی یعنی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز نے معرکہ آراءانداز میں متاثرین کی مدد کرنے کا کام جاری رکھا ہوا ہے پہلے اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مبشر ملک نے خود 20 لاکھ روپے سے زیادہ کا سامان چار ٹرکوں میں بھر کر کشتی کے ذریعے ان علاقوں میں پہنچ کر اسے تقسیم کیا جہاں متاثرین امدادی ٹیموں کے انتظار میں تڑپ رہے تھے مگر اس دورے کے دوران وائس چانسلر نے محسوس کیا کہ مظفر گڑھ اور راجن پور اور علی پور کے علاقوں میں جگہ جگہ میڈیکل ایڈ کی سخت ضرورت تھی چنانچہ انہوں نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ریٹائرڈ کرنل جاوید اقبال کی سرکردگی میں یونیورسٹی کی دو ائرکنڈیشنڈ بسوں میں دو موبائل ہسپتال منظم کر کے مظفر گڑھ اور راجن پور کے علاقوں میں بھیج دیئے ہیں۔ موبائل میڈیکل سکوائڈ کے انچارج کرنل جاوید اقبال نے کئی روز تک سیلابی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد واپس لاہور پہنچ کر لاہوریات کو ایک خصوصی ملاقات میں بتایا کہ ہر موبائل ہاسپیٹل میں لاکھوں روپے کی ادویات ہوتی ہیں۔ تین ڈاکٹرز، دو لیڈی ڈاکٹرز اور دو نرسیں ہوتی ہیں ۔ سیلاب سے متاثرہ بیماروں کو ان ائرکنڈیشنڈ موبائل ہاسپیٹل کے اندر ہی ٹریٹ منٹ دیا جاتا ہے۔ انجکشن اور ڈرپ لگانے کا انتظام بھی اندر ہی ہوتا ہے جس کے باعث ایک بیمار حبس، تعفن اور مکھیوں اور مچھروں سے محفوظ ہو کر جب چند لمحات گزارتا اور میڈیسن لیتا ہے تو اس کی حالت قدرتی طور پر سنبھل جاتی ہے۔ میں سیلاب زدہ علاقوں سے کچھ روز کے بعد لاہور آتا جاتا رہتا ہوں تاکہ مظفر گڑھ، علی پور اور راجن پور کے علاقوں میں سارا دن گشت کرتے ہوئے موبائیل ہاسپیٹلز جن چیزوں کی کمی محسوس کریں وہ لاہور سے فوراً ان کو پہنچائی جائیں۔ اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی اس تمام مہم کی نگرانی کر رہے ہیں جب کرنل جاوید اقبال سیلابی علاقوں کی صورت حال اور موبائیل ہاسپیٹلز کی ضرورت و کارکردگی پر روشنی ڈال رہے تھے تو وائس چانسلر ڈاکٹر مبشر حسن بھی ان کے کمرے میں آ گئے اور ”لاہوریات“ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ بلاشبہ کرنل جاوید اقبال کی سرکردگی میں ہماری یونیورسٹی کے موبائیل ہاسپیٹلز سیلاب زدہ علاقوں میں بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ کرنل جاوید اقبال جب فوج میں تھے تو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران انہیں دنیا میں اتنا سفر کرنے کا موقع ملا کہ اب وہ سفر کرتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں چنانچہ کرنل جاوید اقبال بھی اپنے وائس چانسلر کی زبان سے اپنی ستائش سن کر مسکراتے ہوئے لب کشا ہوئے کہ اب تک یونیورسٹی کے موبائیل ہاسپیٹلز نے 10 ہزار سے زائد عورتوں اور بچوں اور مرد مریضوں کو مفت ادویات کے ساتھ طبی امداد فراہم کی ہے اور وہ سلسلہ بڑی سرکوئی سے جاری ہے۔ یونیورسٹی کی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سٹوڈنٹ لیڈی ڈاکٹرز اور ایم ایس سی کی سٹوڈنٹ سینئر نرسز دور دراز علاقوں میں مریض بچوں اور عورتوں کو 24 گھنٹے علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کر رہی ہیں اوراب وہ پروگرام بھی بنایا گیا ہے کہ یونیورسٹی اپنے وسائل سے کام لیتے ہوئے اپنی میڈیکل ٹیموں کی کارکردگی کے دائرے کو ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، بھکر اور لیہ تک بڑھا دے گی اور وبائی امراض مثلاً ملیریا، کالرہ اور گیسٹرو کے خطرات کو بھانپ کر وہاں سے بلڈ سیمپل لے کر یونیورسٹی کی ماڈرن مائیکروبیالوجی اور پتھالوجی لیبارٹریز سے تجزیہ کرا کے قبل از وقت تشخیصی طور پر ان عوارض کے امکانات کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔