جمعۃ المبارک ‘23 ؍ رمضان المبارک‘1431 ھ 3؍ستمبر 2010ء

03 ستمبر 2010
مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے‘ نوجوان علم کا اسلحہ استعمال کرکے دنیا میں اسلام کو غالب کر دیں۔
مفتی صاحب کا کام ہے فتویٰ دینا ہے‘ سو انہوں نے ایک اچھا فتویٰ جاری فرما دیا کہ نوجوان علم کا اسلحہ استعمال کرکے دنیا میں اسلام کو غالب کر دیں۔ گویا ویسے وہ اسلحے کو ہاتھ نہ لگائیں اور نہ ہی چلانے کا طریقہ سیکھیں۔ مثال کے طور پر کیا غاصب بھارت سے مقبوضہ کشمیر کو علمی اسلحہ کے ذریعے آزاد کرایا جا سکتا ہے؟ مفتی صاحب نے اسلامی فتح و غلبہ حاصل کرنے کیلئے صرف ایک پہلو کو پیش نظر رکھا ہے‘ اسلامی تاریخ میں یہ جو تحریر ہے کہ مسلمانوں نے بحرِ ظلمات تک میں گھوڑے دوڑا دیئے تو کیا یہ سارے گھڑ سوار ایم اے‘ ایم ایس سی تھے‘ یا سیاست دان تھے؟
ہمارے ہاں ایسے علماء جن کو سرکار کا قرب حاصل ہو‘ وہ اسلحے سے دور رکھنے اور علم و اخلاق پر زیادہ زور دیتے ہیں تاکہ ان پر انتہا پسندی کا ٹھپہ لگنے سے کہیں انکی دربار سرکار میں پذیرائی متاثر نہ ہو۔ مفتی صاحب اقبال کے اس فتوے پر بھی غور فرما لیں کہ: ’’شمشیر و سناں اول‘‘ کیا امریکہ آج علم کی بنیاد پر سپرپاور بنا ہے؟ یا اسلحہ کے انباروں پر؟ ہمارا مسئلہ کشمیر ہے‘ کیا ہم اس کو علم کے ذریعے فتح کر سکتے ہیں اور غاصب کے پنجے سے اپنی شہ رگ چھڑا سکتے ہیں؟ بہتر ہو گا کہ ضرب اسداللٰہی کو بھی مفتی صاحب نوجوان کے علم میں شامل کر دیں کیونکہ کشمیر بزرگوں نے فتح نہیں کرنا۔
٭…٭…٭…٭
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ جاگیرداروں‘ وڈیروں اور ملکی دولت لوٹنے والوں کو لبرٹی چوک میں لٹکایا جائیگا۔ ایم کیو ایم فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کیلئے عملی جدوجہد کرے۔
الطاف بھائی کے عزائم تو بہت بلند اور ملک کو درکار ہیں‘ اب تک وہ جاگیردارانہ سسٹم کرپشن‘ لٹیروں کیخلاف ایمان افروز بیانات و خطابات کے انبار لگا چکے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انکی باتوں سے جس انقلاب کی خوشبو آتی ہے۔ اسکے برپا کرنے کیلئے لندن میں قیام اور ٹیلی فونک رابطہ ہرگز کافی نہیں وگرنہ پچپس تیس سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ اگر یوں انقلاب آنا ہوتا تو کب کا برپا ہو چکا ہوتا۔
ملک کے تمام لوگ انکے پروگرام کو تحسین کی نظر سے دیکھیں گے بشرطیکہ وہ خود اب پاکستان تشریف لے آئیں۔ قائداعظم نے جو عظیم انقلاب برپا کیا تھا‘ لندن بیٹھ کر نہیں بلکہ لوگوں میں موجود ہو کر۔ اسی انداز کو الطاف بھائی بھی اپنائیں اور جاگیرداروں‘ وڈیروں‘ ملکی دولت لوٹنے والوں کو اپنے دستِ مبارک سے لبرٹی چوک میں لٹکائیں۔ مگر آخر کب؟
وہ اپنے بیانات کے باوجود جاگیردارانہ سسٹم کا حصہ بھی بنتے ہیں‘ اس وقت بھی انکی جماعت جاگیرداروں‘ وڈیروں کے ساتھ مل بیٹھ کر سندھ حکومت میں شامل ہے …؎
میر کیا سادہ ہیں‘ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
٭…٭…٭…٭
اداکارہ وینا ملک نے کہا ہے‘ جان دے سکتی ہوں‘ ملک کی بدنامی کا باعث نہیں بن سکتی‘ یہ الزام جھوٹا ہے کہ میں میچ فکسنگ میں مڈل وومن کا کردار ادا کرتی رہی ہوں۔
اداکارہ جو ہیں تو کوئی نہ کوئی کردار تو میچ فکسنگ میں بھی ادا کیا ہو گا‘ بہرحال یہ جو انہوں نے کہہ دیا کہ جان دے سکتی ہوں‘ ملک کی بدنامی کا باعث نہیں بن سکتی‘ انہوں نے آصف سے دوستی سے پہلے شاید میاں محمد صاحب کا یہ شعر نہیں پڑھا تھا کہ…؎
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا
یہ شعر چاہیں تو آصف اپنی طرف سے بھی پڑھ سکتے ہیں‘ اب یہ فیصلہ تو میاں صاحب کی روح ہی کر سکتی ہے کہ دونوں میں سے نیچ کون ہے؟
مگر وینا ملک جو ان دنوں چتر وینا بنی ہوئی ہیں‘ خوب زمزمہ خواں ہیں‘ کیا وہ یہ بھول گئی ہیں کہ ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے کی وہ یارغار رہی ہیں۔ چونکہ عورت کی گواہی آدھی قبول ہوتی ہے‘ اس لئے ہم انکی آدھی بات سچ مان لیتے ہیں‘ کیونکہ وہ اس آگ کے قریب رہی ہیں‘ جس میں آج ملکی ساکھ جل رہی ہے۔ وینا ملک ایک خاتون ہیں اور وہ ممکن ہے اپنے پیار کے سیلاب میں بہہ کر میچ فکسنگ کے قریب قریب پہنچ گئی ہوں اس لئے انکی بتائی ہوئی تفصیلات پر غور کرنا ضروری ہے۔
٭…٭…٭…٭
امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے‘ دکھ بانٹنے کے رواج سے معاشرہ انتہا پسند ہو جاتا ہے۔
سید صاحب کو معلوم ہو گا کہ انتہا پسند ہونے کیلئے بھی بڑی طاقت اور اسلحہ بارود درکار ہوتا ہے۔ ہمارے عوام کے پاس تو سوائے دکھوں کے اور کچھ بھی نہیں‘ اگر وہ بھی بانٹ لیں گے تو انکے پاس ہانڈی میں ڈالنے کیلئے بھی کچھ باقی نہیں رہے گا۔ بھلا وہ کیسے انتہا پسند ہو سکتے ہیں‘ جس روز عوام انتہا پسند ہو گئے‘ انقلاب آجائیگا اور انقلاب لانا جماعت اسلامی کے منشور میں شاید ہو معمول میں نہیں۔ اسی لئے تو وہ مقبوضہ کشمیر سے دور دور رہتی ہے کیونکہ یہ بھی انتہا پسندی ہے جو انہیں پسند نہیں۔ انتہا پسندی تو دہشت گردی کی طرح ایک امریکی اصطلاح ہے جو اس نے مسلمانوں کیلئے ایجاد کر رکھی ہے۔
بہرصورت سید منور حسن نے اپنے طور پر مثبت انداز میں کہا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں لوگ غمزدہ بھائیوں کے کسی اور کام نہیں آسکتے تو کم از کم ان کا دکھ ہی بانٹیں‘ وگرنہ وہ انتہا پسند ہو جائیں گے اور نفسیاتی مریض بن کر رہ جائیں گے۔ ہماری قوم جو اس وقت سیلاب کی طرح ٹھنڈی ہو چکی ہے‘ اس کیلئے انتہا پسندی ہی اعتدال پسندی ہے‘ ہم جس اعتدال پسندی پر رواں دواں ہیں‘ وہ سستی بزدلی کاہلی ہے‘ جس سے نکلنا ہی وہ انتہا پسندی ہے جو دراصل ایک نمبر اعتدال پسندی ہے۔