جنوبی ایشیا میں امن کیلئے ہندوستانی نیلسن منڈیلا کی ضرورت

03 ستمبر 2010
پروفیسر John Briscoe جنوبی افریقہ کا ایک دانشور ہے‘ جس کا 35 سال تک برصغیر کے پانی کے معاملات سے واسطہ رہا‘ 70ء کی دہائی میں وہ بنگلہ دیش اور 2000ء میں دہلی میں تھا۔ 2006ء میں اس نے آکسفورڈ پریس کی وساطت سے دو کتابیں بھی لکھی ہیں‘ ایک کا ٹائٹل ہے:
\\\"India\\\'s water economy facing turbulent future\\\" اور دوسری کا عنوان ہے:
\\\"Pakistan\\\'s water economy: runing dry\\\"
پروفیسر جان برسکو ورلڈ بنک کے پانی سے متعلق معاملات کا اس وقت سینئر مشیر تھا‘ جب ورلڈ بنک نے ہندوستان میں بنائے گئے بگلیہار ڈیم کے پاک و ہند تنازعہ کو نمٹانے کیلئے غیرجانبدار ماہرین مقرر کئے تھے۔ پروفیسر جان کہتا ہے کہ اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ کیا پاکستان ہندوستان میں واقعی کوئی پانی کا تنازعہ ہے تو میرا جواب ہو گا‘ کوئی نہیں۔ پروفیسر جان کے خیال میں انڈس واٹر ٹریٹی میں یہ واضح لکھا ہوا ہے کہ تین مغربی دریائوں یعنی انڈس‘ جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کیلئے ہے‘ لیکن ساتھ ہی ہندوستان کو یہ اجازت بھی ہے کہ وہ چناب اور جہلم کے دریائوں پر پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے بجلی حاصل کرنے کیلئے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ لگا سکتا ہے‘ لیکن اس میں دو بڑی واضح شرائط بھی ہیں اور وہ یہ کہ ہندوستان اپنے کسی بھی پراجیکٹ کی وجہ سے پاکستان کی طرف جانیوالے پانی کی مقدار کو کم کر سکتا ہے‘ نہ پانی کے قدرتی بہائو کے اوقات میں کوئی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اب پانی کی کل مقدار کا تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں چونکہ بجلی پیدا کرنیوالے پراجیکٹ پانی کو پیتے نہیں‘ اس لئے پانی کی مقدار برقرار رہتی ہے۔ مسئلہ صرف پانی چھوڑنے کے اوقات کا ہے۔ جب پاکستان میں فصلوں کیلئے پانی کی اشد ضرورت ہو‘ اس وقت اگر ہندوستان پانی کے بہائو کو عارضی طور پر روک لے اور برسات کے موسم میں جب پانی نہیں چاہیے‘ تو اس وقت پانی کے بہائو کو بڑھا دے تو یہ پاکستان کی زراعت کیلئے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ پروفیسر جان کے خیال میں اگر ہندوستان بدنیتی نہ کرے تو وہ نہ صرف چناب اور جہلم کے پانی کو بجلی پیدا کرنے کیلئے موثر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے بلکہ ایسا تعاون کرنے کی پوزیشن میں بھی ہے کہ جب پاکستان میں فصلوں کیلئے پانی کی ضرورت ہو تو وہ اسکے بہائو میں اگر چاہے تو عارضی طور پر اضافہ بھی کر سکتا ہے۔
پروفیسر جان برسکو کی سوچ کے مطابق پاکستان اور ہندوستان میں بہتر تعلقات کی موجودگی میں سرحد کی دونوں طرف مانیٹرنگ سسٹم لگائے جا سکتے ہیں اور ہندوستان کو زیادہ پانی سٹور کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے تاکہ اس پانی کے بہائو کو پاکستان کی طرف اس وقت بڑھا دیا جائے۔ جب پاکستان میں اسکی شدت سے ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ پاکستان کو بھارت کی نیت پر شک ہے‘ اس لئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مثلاً بگلیہار ڈیم پر ہندوستان نے ڈیم سے مٹی Flush کرنے کیلئے وہ گیٹ لگا لئے ہیں جنہوں نے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کر دی ہے اور ہندوستان نے پانی کا یہ ذخیرہ کیا بھی اس وقت جب پاکستان کے اندر فصلوں کیلئے کسانوں کو پانی کی فوری ضرورت تھی۔ پھر جب پاکستان نے ان غیرقانونی Gates کی تعمیر پر اعتراض کیا تو ہندوستان کا یہ جواب تھا کہ ایسے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ لگانے کا ہندوستان کو کیا فائدہ جو چند سالوں میں ہی مٹی سے اٹ جائیں‘ اس لئے ان کو Desilt کرنے کیلئے ہمیں اضافی گیٹس تو لگانے ہیں تاکہ زائد پانی ذخیرہ ہو جو ان ریگولیٹرز کو ضرورت پڑنے پر Flush کر سکے۔ حالانکہ انڈس معاہدے میں ان گیٹس کا کوئی ذکر نہیں۔
جان برسکو کہتا ہے کہ اگر تو چناب پر صرف ایک بگلیہار ڈیم بنانے کی بات ہوتی تو پھر بھی یہ مسئلہ پاکستان کیلئے اتنا گھمبیر نہ ہوتا‘ لیکن اگر ہندوستان کشن گنگا‘ سوال کوٹ‘ پاکل دل‘ برسار‘ دال ہسٹے اور جسپا جیسے سارے پاور پراجیکٹس لگائے گا تو پانی کا مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا‘ جو پاکستان کیلئے واقعی تباہ کن ہے۔ اس سے پروفیسر جان کی پیشہ ورانہ رائے میں:
\\\"Iindia will have an ability to effect major damage on Pakistan\\\"
یعنی اس سے ہندوستان پاکستان کو بڑا نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں آجائیگا۔ اگر ہندوستان یہ سارے ڈیم برسات کے موسم میں بھرے تو زیادہ نقصان نہیں لیکن اگر فصلوں کی آبیاری کے وقت ہندوستان ایک ماہ کیلئے چناب کا پانی روک لے تو پھر پاکستان میں زرعی تباہی کے مناظر ہونگے۔
جان برسکو کہتا ہے کہ ایک بات پر اسے بڑا تعجب ہے‘ وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت اور پاکستان میں آمریت کے دور میں بھی پاکستانی اخبارات ہندوستان کے نقطہ نظر کو بہت صاف اور مثبت طریقے سے پیش کرتے ہیں لیکن جمہوری ہندوستان کے اخبارات بدقسمتی سے پاکستانی نقطہ نظر کو کبھی بھی مثبت انداز میں صحیح طور پر نہیں پیش کرتے۔ اس لئے ہندوستان میں عام لوگوں کو پاکستان کی جائز شکایت اور صحیح زمینی صورتحال کا بالکل پتہ نہیں۔ جان کہتا ہے کہ جب میں نے اپنے ایک ہندو صحافی بھائی سے اسکی وجہ پوچھی تو اس نے کہا:
\\\"When it comes to Kashmir and Indus water treaty, the ministry of external affairs instructs newspapes what they can and cannot say.\\\"
یعنی جب کشمیر یا انڈس واٹر ٹریٹی کا معاملہ زیر بحث آتا ہے تو ہندوستانی اخبارات کو ہندوستانی دفتر خارجہ ہدایات بھیج دیتا ہے کہ آپ کو کیا کہنا اور کیا نہیں کہنا۔
جان کے مطابق حالیہ پاک و ہند پانی کے مسائل پر مذاکرات کے بعد دی ٹائمز آف انڈیا‘ دی ہندوستان ٹائمز‘ دی ہندو‘ دی انڈین ایکسپریس اور دی اکنامک ٹائمز‘ جیسی ساری چوٹی کی اخباروں میں نہ صرف پیغام وہی تھا جو ہندوستانی حکومت دینا چاہتی تھی‘ ان سب کے دلائل بھی حیرت انگیز حد تک ایک جیسے تھے بلکہ کئی فقرے بھی بالکل وہی تھے اور کسی ایک اخبار میں بھی یہ اخلاقی جرأت نہ تھی کہ وہ یہ لکھے کہ یہ حکومت کا سرکاری نقطہ نظر ہے‘ جو اخبار پیش کر رہا ہے۔ سب نے اپنی رپورٹ کے ذرائع اپنے تجزیہ کار ہی لکھے۔ جان لکھتا ہے کہ مجھے دکھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سی بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی جب اس کا ٹاکرا ہندوستانی تجزیہ نگاروں سے ہوا تو اس نے محسوس کیا کہ پاکستان کے جائز قانونی نقطہ نظر کو سننے کیلئے ان کے دماغوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
آخر میں پروفیسر جان نے لکھا کہ ہندوستان کو لاطینی امریکہ کے معاشی لحاظ سے ایک خوشحال ملک برازیل سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ برازیل کے Paraguay اور Bolivia کے ساتھ ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر سخت اختلاف تھے اور برازیل کی عوام ان دونوں ممالک کو کوئی چھوٹ دینے پر تیار نہ تھی تو برازیل کے صدر Lula da silva نے عوام کے سارے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا:
’’یہ دو ہمارے مقابلے میں معاشی لحاظ سے غریب ممالک ہیں اور پانی کا مسئلہ ان کیلئے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ ہم قانوناً انکے ساتھ سختی بھی کر سکتے ہیں‘ لیکن یہ ہمارے بھائی ہیں‘ ہم انکے ساتھ کشادہ دلی سے پیش آئینگے۔ اس لئے میں یکطرفہ طور پر Paraguay اور Bolivia کو انکے جائز معاوضے کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے انکے معاوضے کو بالترتیب دو گنا اور تین گنا بڑھانے کا بھی اعلان کرتا ہوں۔ برازیل ایک بہت بڑا اور معاشی لحاظ سے خوشحال ملک ہے‘ اس سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہو گا لیکن ان ممالک کو بہت فائدہ ہو گا۔‘‘
اسی طرح جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا نے 27 سال کی قید کے بعد بھی سفید فاموں کو اپنے بڑے دل سے فتح کرلیا۔ پروفیسر جان پوچھتا ہے:
\\\"Who will be the Indian Mandela who will be this -- on the indus\\\".
قارئین! اس میں شک نہیں کہ جنوبی ایشیاء کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے‘ بشرطیکہ ہندوستان میں کوئی ڈاسلوا یا نیلسن منڈیلا پیدا ہو جائے اور وہ اپنی بالغ نظری فہم و فراست اور سیاسی بصیرت سے کشمیر کے مسئلے اور پانی کے تنازعہ کو حل کر ڈالے لیکن بدقسمتی سے 1974ء سے لیکر آج تک بھارت کی نام نہاد قیادت کے جھرمٹ میں ہندو بونے تو کثرت میں نظر آئے لیکن نیلسن منڈیلا کے قد کاٹھ کا ایک بھی لیڈر نظر نہیں آیا جو جنوبی ایشیا کی قسمت بدل سکتا۔ ہندوستانی قیادت یہ سمجھنے سے پتہ نہیں کیوں قاصر ہے کہ جنوب ایشیا میں ہر پڑوسی کے ساتھ جنگی ماحول پیدا کرکے بین الاقوامی سطح پر انکے ابھرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی شکست اور کشمیر میں تحریک آزادی کی چنگاریوں سے اٹھنے والے تازہ شعلے ہندوستان کیلئے پریشان کن ہیں‘ انکے مضمرات سے بچنے کیلئے ہندوستان کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے‘ افغانستان سے پاکستان میں مداخلت کا خاتمہ‘ کشمیر کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت اور پاکستان کے ساتھ پانی کے مسائل کا انصاف پر مبنی حل۔