پاکستان امریکہ باہمی اعتماد

03 ستمبر 2010
زوبیہ رباب ملک (رکن صوبائی اسمبلی پنجاب).....
دو آزاد اور خودمختار ملکوں کے مابین تعلقات میں باہمی اعتماد ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی ان ملکوں کے درمیان رشتہ زیادہ طاقتور اور دیرپا ہوگا۔ تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی اعتماد اکثر مواقع پر متزلزل ہوتا رہا ہے جسکے نتیجے میں نہ صرف مختلف غلط فہمیاں پیدا ہوئیں بلکہ علاقائی اور عالمی امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے۔ ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ اور پاکستان کے سٹریٹجک مفادات یکساں ہوئے ہیں جسکے باعث اعتماد کے فقدان میں اب کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کا تفصیلی اندازہ مجھے امریکہ کے حالیہ دورہ کے دوران ہوا۔
امریکی وزارت خارجہ کی سرکاری دعوت پر میرا امریکہ کا دورہ خاص اہمیت کا حامل تھا۔ میں نے اس دورے میں امریکہ میں اپنے 15 روز قیام کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترتیب دیئے ہوئے انٹرنیشنل وزیٹر ایکسچینج پروگرام کے تحت وزارت خارجہ اور دوسرے محکموں کی بہت سی میٹنگز اور بریفنگز میں شرکت کرنے کے علاوہ فیڈرل ازم اور گڈگورننس جیسے اہم موضوعات پر اہم امریکی اداروں کے سربراہان و ذمہ داران سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کا سب سے اہم مقصد امریکہ اور پاکستان کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر باہمی اعتماد میں پائے جانیوالے فقدان کا مختلف تناظر میں جائزہ لینا تھا۔ امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ کے دو اہم پارٹنر ہیں اور اس میں کامیابی کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانیوالی اعتماد کی خلیج کو پاٹ کر ایک پرخلوص دوستی کی بنیاد رکھی جائے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وزارت خارجہ میں ہونیوالی ان اہم میٹنگز میں مجھے محسوس ہوا کہ امریکی حکومت اس مقصد کے حصول میں خاصی سنجیدہ ہے۔
امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی تاریخ میں بہت سے اتار چڑھائو آچکے ہیں جس کی وجہ سے ان میں پیچیدگی اور باہمی عدم اعتماد کا عنصر ہمیشہ ہی غالب رہا ہے۔ میں اسی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو کسی رولر کوسٹر سے تشبیہہ دیتی ہوں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں عروج کا دور اس وقت آیا جب پاکستان نے امریکی بلاک کے دفاعی معاہدوں سیٹو اور سینٹو میں شمولیت اختیار کر لی اور بعد ازاں افغان جنگ میں روس کیخلاف امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ اسی طرح پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات اس وقت انتہائی زوال کا شکار ہوئے جب سرد جنگ میں روس کو شکست دینے کے بعد امریکہ نے پاکستان سے نہ صرف بے انتہا سردمہردی کا رویہ اختیار کر لیا بلکہ اس پر بہت سی فوجی اور اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر دیں۔ 11 ستمبر کے واقعات کے بعد حالات امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی تاریخ میں بہت سے اتار چڑھائو آچکے ہیں جسکی وجہ سے ان میں پیچیدگی اور باہمی عدم اعتماد کا عنصر ہمیشہ ہی غالب رہا۔
پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کے حوالے سے ماضی قریب میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت اور انٹیلی جنشیا میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں کو فراموش کر کے طویل المدتی تعلقات کے قیام پر توجہ دینی چاہئے۔ ماضی کے برعکس ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے سٹریٹجک مفادات ایک ہیں۔ دونوں ملک جانتے ہیں کہ ایک دوسرے سے مخلص اور غیر مشروط تعاون کے بغیر دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی دنیا میں دیرپا قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو توقع ہے کہ امریکہ ماضی کی وہ حماقتیں دہرانے کی غلطی نہیں کریگا جب اہم مواقع پر اس نے پاکستان کو حالات سے لڑنے کیلئے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان 18کروڑ آبادی رکھنے والا ایک اہم ایٹمی ملک ہے۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ اگر ایسی ایٹمی طاقت انتشار کا شکار ہوتی ہے تو دنیا کا امن کس حد تک تہہ و بالا ہو سکتا ہے اور یہی وہ اہم نکتہ ہے جس کا امریکی انتظامیہ اور انٹیلی جنشیا کو بھرپور ادراک ہو چکا ہے۔ امریکی حکومت کے پاس اب اس بات کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے کہ وہ پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور خوشحال رستے پر چلنے میں مدد دیں کیونکہ اسی میں پوری دنیا کی بھلائی ہے۔واشنگٹن میں قیام کے دوران وزارت خارجہ میں میری اہم ملاقاتوں میں پاکستان ڈیسک کے سربراہ ٹموتھی لینڈ رکنگ اور ڈائریکٹر کیٹ بیٹ مین کیساتھ اہم بریفنگز بھی شامل تھی جس میں انکی معاونت وزارت کے افسران جوشوا کریزر، پیٹریشیا ماربی ہیریسن اور آرون سٹیرز سمتھ نے کی۔ وزارت خارجہ کے علاوہ دوسرے اہم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں ہونیوالی میٹنگز بھی پاکستانی موقف کے تناظر میں بہت مفید رہیں۔ میرا امریکی دارالحکومت کا دورہ ایک ایسے وقت پر ہوا جب سیلاب نے ملک میں ناگہانی طور پر تباہی برپا کر رکھی تھی۔ ایسے نازک وقت میں امریکی حکومت کا رویہ انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے میری زیادہ تر میٹنگز میں اس سے ہونیوالی تباہی بار بار زیر بحث آئی اور میں نے اعلیٰ امریکی عہدیداروں کو پاکستان کے بارے میں بہت متفکر پایا۔
امریکہ کے حالیہ دورے میں مجھے محسوس ہوا کہ امریکی سوچ میں بہت تیزی سے مثبت تبدیلی آرہی ہے اور بیسویں صدی کے مقابلے میں اکیسویں صدی کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات زیادہ مضبوط ہونگے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ امریکہ میں پاکستان کو جمہوری طور پر ناکام اور امداد پر جینے والے ملک کی بجائے اب ایک پارٹنر دوست کی حیثیت سے دیکھنے کی خواہش تقویت پکڑتی جا رہی ہے کیونکہ وہاں اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ سابقہ امریکی پالیسیوں کا جمع حاصل صفر رہا تھا۔
میں نے اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے جب یہ پوچھا کہ بھارت کی طرز پر امریکہ کو پاکستان سے سول جوہری معاہدہ کرنے میں کیا امر مانع ہے تو اس بات پر ایک بھی منفی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ گویا یہ اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان بھی سول جوہری معاہدہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح میرے اس اصرار پر کہ پاکستان کو ایڈ کی نہیں بلکہ ٹریڈ کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ امریکی حکام کا رویہ کافی مثبت رہا۔پاکستان اور امریکہ تاریخ کے ایک ایسے نئے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سے نکلنے والا راستہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں ہونیوالی غلطیوں کی بھول بھلیوں میں الجھنے کی بجائے باہمی اعتماد اور تعاون کی طرف لے جاتا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون اس کی پہلی منزل ہے۔ اسکے آگے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا سفر ہے کیونکہ اسی میں نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی بقا مضمر ہے۔