A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

سانحہ کربلا گامے شاہ....... دشمن کی سازش یا فرقہ واریت کا شاخسانہ؟

03 ستمبر 2010
صوبائی دارالحکومت لاہور میں حضرت علیؓ کے یوم شہادت کے موقع پر اور ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے پہلے روز بدھ کی شام کربلا گامے گاہ کے باہر یکے بعد دیگرے تین خودکش دھماکوں میں خواتین اور بچوں سمیت چالیس افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج متعدد زخمیوں کی حالت نازک بیان کی گئی ہے‘ اس لئے اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کا امکان ہے۔ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ بدھ کے روز حضرت علیؓ کے یوم شہادت کے سلسلہ میں حویلی نواب شاہ سے زیارت لے کر جلوس کربلا گامے شاہ کیلئے روانہ ہوا تھا‘ جو شام چھ بجے کے قریب بھاٹی چوک سے ہوتے ہوئے کربلا گامے شاہ پہنچا۔ اس دوران افطاری کا وقت ہو گیا اور جلوس کے ہزاروں شرکاء بھاٹی چوک سے کر بلا گامے شاہ تک سڑک پر ہی بیٹھ کر افطاری کرنے لگے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے شام چھ بجکر 40 منٹ پر تھانہ لوئر مال کے سامنے پولیس بیریئر کو پھلانگ کر جلوس میں شامل ہونے کی کوشش کی جسے ایک پولیس اہلکار نے روکنے کی کوشش کی تو اس نے بیریئر کو پھلانگ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ امدادی ٹیمیں ابھی زخمیوں کو اٹھا ہی رہی تھیں کہ اردو بازار کی غزنوی سٹریٹ میں دوسرا خودکش دھماکہ ہوا‘ جبکہ شام سات بجکر 12 منٹ پر داتا دربار کی جانب سے ایک نوعمر لڑکا بھاگتے ہوئے بھاٹی چوک پہنچا اور جلوس کے شرکاء کے درمیان جا کر خود کو اڑا لیا۔ ان خودکش حملہ آوروں نے جن کی عمریں 13 سے 22 سال تک کی تھیں‘ سیاہ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے‘ تاکہ ان پر کوئی شبہ نہ ہو۔
ان خودکش دھماکوں کے بعد جلوس کے شرکاء نے مشتعل ہو کر پولیس تھانہ لوئر مال پر ہلہ بول دیا اور پتھرائو کرتے ہوئے تھانہ کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی جبکہ اس وقت تھانہ میں جلوس کی شرکاء خواتین اور بچوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ مشتعل افراد نے پولیس گاڑیوں سمیت متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے‘ بعض گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا۔ ٹریفک سگنل بھی توڑ دیئے اور پولیس اہلکاروں کے علاوہ وقوعہ کی کوریج کرنیوالے میڈیا کے ارکان کو بھی زدوکوب کیا اور انکے کیمرے اور دوسرا سامان توڑ دیا۔ پولیس کی جانب سے امن و امان کنٹرول کرنے میں ناکامی پر ضلعی انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کرلیا تاہم ہنگامہ آرائی کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا اور اگلے روز سانحہ کربلا گامے شاہ کے شہداء کی ناصر باغ میں نماز جنازہ کے موقع پر بھی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ دو ماہ قبل اسی مقام پر چند سو گز آگے مزار داتا گنج بخشؒ میں بھی عبادت کے دوران تین خودکش دھماکے ہوئے جن میں ایک سو کے لگ بھگ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور دو سو سے قریب افراد زخمی ہوئے جبکہ اب اہل تشیع کے مرکز کو بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے اگست کے دوسرے ہفتے پنجاب کی وزارت داخلہ سمیت تمام صوبوں کے ہوم سیکرٹریوں اور انسپکٹر جنرل حضرات کو دو الگ الگ مواقع پر آگاہ کیا تھا کہ کسی بھی بڑے مذہبی پروگرام پر دہشت گردی کا خدشہ موجود ہے اور اس حوالے سے یوم شہادت حضرت علیؓ کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔ ان اطلاعات کے باوجود سیکورٹی کا کوئی خاص انتظام نہ کیا گیا جس کے باعث دہشت گردوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملا اور یوم علیؓ کے موقع پر کراچی اور لاہور بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا۔ کراچی میں بھی یوم علیؓ کے جلوس کے دوران نامعلوم افراد نے جلوس پر فائرنگ کی‘ جس سے آٹھ افراد زخمی ہوئے جبکہ لاہور میں تو یکے بعد دیگرے تین خودکش دھماکوں نے قیامت صغریٰ بپا کر دی۔ جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے لاہور اور کراچی کے سانحات کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں پر ذمہ داری عائد کی ہے جن کے بقول دھماکے کرنیوالے شیعہ اور سنیوں کے دشمن ہیں۔ دیگر مکاتب فکر کے علماء کرام کے بھی سانحہ کربلا گامے شاہ پر ایسے ہی تاثرات سامنے آئے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ کوئی کلمہ گو مسلمان رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کسی مذہبی عبادت گاہ میں جا کر خودکش دھماکہ کرنے اور اپنے کلمہ گو بھائیوں کا خون بہانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس لئے کربلا گامے شاہ کا سانحہ بھی بادی النظر میں سانحہ داتا گنج بخشؒ کی طرح فرقہ واریت کو ہوا دیکر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی گھنائونی سازش نظر آتا ہے جس میں امریکی اور بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے امریکی مفادات کی جنگ میں اس کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر ملک اور عوام کی تباہی و بربادی کا خود ہی اہتمام کیا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال کے عرصہ میں پاکستان میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی وارداتوں میں ساڑھے تین ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لاہور میں اس سال دہشت گردی کا یہ تیسرا واقعہ رونما ہوا ہے‘ قبل ازیں گڑھی شاہو اور ماڈل ٹائون میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں میں دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں جن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو ماہ قبل یکم جولائی کو مزار داتا گنج بخشؒ میں خودکش حملوں کے نتیجہ میں بھی ایک سو کے لگ بھگ بے گناہ لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں جو لوگ زخمی ہوئے‘ وہ اپنے خاندانوں کیلئے مستقل روگ بن جاتے ہیں‘ اس طرح دہشت گردی نے خاندانوں کے خاندان برباد کئے ہیں اور اب اتنی غیریقینی کی فضاء بن گئی ہے کہ گھر سے نکلنے والے کسی بھی فرد کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ زندہ سلامت گھر واپس آئیگا یا نہیں؟
ملک کے ان حالات سے ہمارے ظالم و مکار دشمن بھارت کو بھی فائدہ اٹھانے کا پورا موقع حاصل ہو رہا ہے چنانچہ ایک جانب امریکی میرینز اور بلیک واٹر کے اہلکار یہاں دندناتے پھرتے ہیں اور دوسری جانب بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی گھنائونی سازشوں کی تکمیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔ اگرچہ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نے سانحہ کربلا گامے شاہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے‘ تاہم کوئی بعید نہیں کہ اس سانحہ کے پس پردہ بھی بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور امریکی بلیک واٹر کے اہلکاروں کا عمل دخل ہو‘ اس لئے اب جہاں حکومت کی ذمہ داری مذہبی عبادت گاہوں سمیت مختلف حساس مقامات کی سیکورٹی مزید سخت کرنے کی ہے‘ وہاں سانحہ داتا دربار اور سانحہ کربلا گامے شاہ کے پس پردہ محرکات کی تہہ تک پہنچنا بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ کیلئے ایسے واقعات کا سدباب کرکے ملک کی سلامتی کیخلاف دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس سلسلہ میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کی فضاء کو مستحکم کرنا انتہائی ضروری ہے‘ جس کیلئے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی صفوں میں گھسے سازشی عناصر پر بھی کڑی نظر رکھیں اور فرقہ واریت کو ہوا دینے سے خود بھی گریز کریں۔ دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کے بعد لوگ مشتعل ہو کر جس طرح سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور گھیرائو جلائو کی نوبت لاتے ہیں‘ اس سے بھی فرقہ واریت کو ہوا ملنے کا خدشہ لاحق رہتا ہے جس سے ہمارے مکار دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔
اس فضاء میں حکمرانوں سے قوم کا بنیادی تقاضہ تو یہی ہے کہ وہ امریکی مفادات کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار اب فی الفور ترک کر دیں‘ امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دیں‘ نہ خود اپنی ہی سرزمین پر فوجی اپریشن کریں‘ کیونکہ جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا‘ ملک میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی روک تھام کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی جبکہ ہماری ایجنسیوں اور انتظامی مشینری میں دہشت گردی کی وارداتوں پر قابو پانے کی کوئی صلاحیت بھی نظر نہیں آتی۔ انہیں دہشت گردوں کی آمد کی تو بروقت اطلاع مل جاتی ہے مگر انہیں ہدف تک پہنچنے سے روکنے میں وہ بری طرح ناکام ہیں۔
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت فرقہ ورانہ ہم آہنگی کی ہے جس کیلئے علماء کو اپنے فروعی اختلافات ختم کرکے ملک و قوم کی سلامتی اور تحفظ کیلئے خود کو وقف کر دینا چاہیے‘ اس وقت ملک انتہائی کٹھن دور سے گزر رہا ہے‘ جسے خدا کی طرف سے امتحان اور آزمائش سمجھنا چاہیے‘ کفار تو مسلم امہ کو مٹانے کیلئے متحد و منظم ہیں جبکہ ہم فرقوں میں بٹ کر اور منتشر ہو کر خدا کی ناراضگی بھی مول لے رہے ہیں اور اپنوں ہی کے ہاتھوں اپنے گلے کٹوانے کا اہتمام بھی کئے جا رہے ہیں۔ اب کم از کم داتا دربار اور کربلا گامے شاہ کے سانحات سے ہی عبرت حاصل کرلی جائے۔
سانحہ سیالکوٹ کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ میں دونوں بھائی ڈاکو تھے‘ نہ مجرم۔ واقعہ میں سابق ڈی پی او ملوث ہیں‘ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ایس ایچ او کو آج تک گرفتار کرنے کا حکم دیا اور ریمارکس دیئے کہ پنجاب میں پولیس نے ہجوم کا انصاف رائج کیا۔
عدالتی تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مقتول دونوں بھائی مجرم نہیں تھے‘ بلکہ انکی زندگی میں کبھی ان کیخلاف موبائل فون چھیننے کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوا‘ تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ سیالکوٹ کا سانحہ پولیس گردی کے باعث رونما ہوا اور پولیس نے جان بوجھ کر ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے کا موقع فراہم کیا اور دونوں بھائیوں کے قتل کا تماشا دیکھا۔ اب جبکہ تمام تر حقائق سامنے آچکے ہیں‘ اس دوہرے سفاکانہ قتل کی وجوہات بھی سامنے آنی چاہئیں۔ غور کیا جائے تو پولیس ہی کی دانستہ کوتاہی کے باعث یہ قتل ہوئے‘ ہجوم سے انصاف کرانے کی جو رسم پولیس نے ڈال دی ہے‘ وہ پولیس کی ناقص کارکردگی کی ایک نئی مثال ہے جس کا سختی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔ عدالت میں پیشی کے دوران پولیس نے ہی اپنے ڈی پی او وقار چوہان کو وی آئی پی راستے سے بغیر ہتھکڑیوں کے ننگے منہ عدالت میں پورے پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا۔ وقار چوہان نے عدالت میں اپنے سی ایس پی ہونے کا حوالہ دیا حالانکہ انہیں ایک ملزم کے طور پر پیش کیا گیا تھا‘ کیا سی ایس پی افسران کوئی آسمانی مخلوق ہوتے ہیں‘ یہ شاہانہ کلچر ختم ہونا چاہیے اور ملزم کو ملزم ہی سمجھا جانا چاہیے‘ چاہے وہ کسی بھی مقام و مرتبے کا مالک کیوں نہ ہو۔ تحقیقاتی رپورٹ سے پولیس اور وہ عوام اس واقعے میں ملوث دکھائی دیتے ہیں جو موقع پر موجود تھے۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ دونوں بھائی مجرم نہ تھے‘ پھر کیا وجہ تھی کہ ہجوم نے پولیس کی موجودگی میں انہیں نہایت ظالمانہ انداز میں قتل کر ڈالا اور پولیس پاس کھڑی تماشا دیکھتی رہی۔ ہجوم کو انصاف کرنے کا کوئی حق نہیں‘ اگر کوئی واضح طور پر مجرم ڈاکو قاتل ہو تو بھی تو اسے مار ڈالنے کا لوگوں کو کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی وہ قانون کو ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ پولیس کو دونوں بھائیوں کو اپنی تحویل میں لے کراور قانونی کارروائی کرکے انہیں عدالت میں پیش کرنا چاہیے تھا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اب حکومت کو مروجہ پولیس سسٹم کی اصلاح کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ آئندہ پولیس کی سرپرستی اس نوعیت کے عوامی انصاف کی نوبت نہ آئے۔
میچ فکسنگ کا ڈرامہ مکمل تحقیق کی جائے
پاکستانی کرکٹرز پر میچ فکسنگ کے الزامات کے بارے میں برطانوی روزنامہ میل کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ سارا ڈرامہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے تیار کیا اور اس میں آئی سی سی کے صدر بھارتی نژاد شردپوار‘ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کیلئے کام کرنے والے بکی مظہر مجید اور برطانوی صحافی کے علاوہ لندن میں بھارتی ہائی کمشنر اور سکاٹ لینڈ یارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔
بھارت کسی بھی میدان میں پاکستان کی عزت خاک میں ملانے کا کوئی بھی موقع جانے نہیں دیتا‘ ابھرتے نوجوانوں کی اچھی کارکردگی اب بھارت سے ہضم نہیں ہو پا رہی تھی کہ اس نے میچ فکسنگ کا نیا شوشہ چھوڑ دیا۔ اس سازش کا مقصد پاکستانی ٹیم پر تین سے پانچ سال تک پابندی عائد کروانا تھا‘ مبینہ بکی مظہر مجید کو ’’را‘‘ کے سپیشل یونٹ ایس او ڈی نے باقاعدہ ٹریننگ دی‘ برطانوی صحافی کو پچاس ہزار پائونڈ دیئے گئے اور یکدم پاکستانی ٹیم پر میچ فکسنگ کا ملبہ ڈال دیا‘ یہ سب بھارت کی کارستانی ہے۔
لیکن اسکے ساتھ واقع کی مکمل طور پر تحقیق ہونی چاہیے اور کسی بھی سازشی پہلو کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی کھلاڑی میچ فکسنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث پایا جائے تو اسکے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تحقیق میں اگر سازش ثابت ہو تو برطانوی ہفت روزہ اخبار اور اس میں ملوث تمام کرداروں کیخلاف برطانوی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو۔