سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فل کورٹ سماعت؛ 'پارلیمان اور عدلیہ کی اپنی اپنی آئینی حیثیت ہے'

 چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 'سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023' کے حوالے سے دائر درخواستوں پر دوسری فل کورٹ سماعت جاری ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر براہِ راست یہ سماعت نشر کی جا رہی ہے۔منگل کو سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس معاملے پر دلائل دیے جائیں کہ آیا یہ قانون آئین سے متصادم ہے یا نہیں۔انہوں نے مختلف درخواستوں میں پیش ہونے والے وکلا سے کہا کہ وہ دلائل دیں کہ اس سے انصاف کی فراہمی کا راستہ ہموار ہوگا یا دشوار ہوگا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان اور سپریم کورٹ دونوں کی اپنی اپنی آئینی حیثیت ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق 'سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے معاملے پر فل کورٹ کی پہلی سماعت 18 ستمبر کو ہوئی تھی اور اس میں تمام فریقین کو تین اکتوبر تک جوابات جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔گزشتہ سماعت کی طرح منگل کو ایک بار پھر عدالتی کارروائی کو سرکاری ٹی وی پر لائیو نشر کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں اور ملک کے بیشتر نیوز ٹی وی چینلز یہ کارروائی براہِ راست دکھا رہے ہیں۔فل کورٹ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں جب کہ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد وحید فل کورٹ کا حصہ ہیں۔اس سے قبل 'سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023' پر پانچ سماعتیں ہو چکی ہیں۔ یہ تمام سماعتیں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں ہوئی تھیں۔ 13 اپریل کو پہلی سماعت میں ہی قانون پر حکم امتناع جاری ہوا تھا جب کہ دو اور آٹھ مئی اور پھر یکم اور آٹھ جون کو بھی کیس کی سماعت ہوئی تھی۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے اسی کیس کی سماعت کی جس کے لیے انہوں نے فل کورٹ تشکیل دیا تھا۔اس قانون کے تحت ازخود نوٹس لینے اور کسی بھی بینچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس سے لے کر سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پر مشتمل کمیٹی کو دیا تھا۔'سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت ازخود نوٹس کے فیصلے سے متاثر ہونے والے فریق کو ایک ماہ میں اپیل کا حق دیا گیا ہے جب کہ متاثرہ فریق کو وکیل تبدیل کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق ایکٹ میں ون ٹائم پرویژن کے تحت سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے علاوہ جہانگیر ترین کو اپیل کا حق مل گیا تھا۔ ازخود نوٹس کے مقدمات میں ماضی کے فیصلوں پر بھی اپیل کا حق دیا گیا ہے۔