مسائل کا حل مل جل کر

03 مئی 2014

تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے والے میاں محمد نواز شریف کہتے ہیںکہ ملک کے مسائل کا حل حکومت، فوج اور میڈیا کو مل جل کا تلاش کرنا چاہئے۔سیاسیات اور گورننس کے ماہرین ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ جمہوری نظام میں مسائل کو کس نے حل کرنا ہے ۔جٹکا اصول تو یہ ہے کہ مینڈیٹ حکومت کو ملتا ہے اور موجودہ مینڈیٹ تو دو تہائی سے بڑھ کر ہے، ا سلئے مسائل کو حل کرنے کی مکلف صرف اور صرف حکومت ہے۔اس نے اپنا مینڈیٹ اگر رتی بھر بھی سرینڈر کر دیا تو بدو کا اونٹ سارے خیمے میںگھس جائے گا۔
یا تو منتخب حکومت ہاتھ کھڑے کر دے اور کہہ دے کہ وہ اہلیت اور صلاحیت سے عاری ہے۔پھر باقی طاقتوںکی مرضی ہے کہ وہ ا س سے تعاون کرتی ہیں یا اسے ٹھبی مار کر ایک طرف دھکیل دیتی ہیں۔مگر جو حکومت اس قدر اکڑ خاں ہو کہ وہ سارے میڈیا کو چھوڑ کر صرف ایک میڈیا ہائوس کے نخرے اٹھانے لگے، اس سے باقی میڈیا کیاخاک تعاون کرے گا ، فوج کا بھی جو حال کیا گیا ہے ، اس سے مدد کی امید کیا اور کیسے۔
بہر حال وہ جو کہتے ہیں کہ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ یعنی دیر آید درست آید، چلئے حکومت کو احساس ہو گیا کہ وہ اکیلی افلاطون نہیں ہے۔اور اس نے باقی اداروں کے سامنے دست تعاون دراز کر دیا ہے۔میرا تعلق میڈیا سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ میڈیا حکومتی اقدامات پر تنقید تو کر سکتا ہے، مگر وہ حکومت چلانے کی صلاحیت سے بہرہ مند تو نہیں۔موجودہ میڈیا ویسے بھی شتربے مہار ہے، کھمبیوں کی طرح راتوں رات اگنے والے ٹی وی چینلوں کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔جو اینکر عقل کی بات کرتے ہیں ، ان کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔اسی طرح فوج کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس کودفاع کی تربیت تو دی جاتی ہے مگر حکومت کاری کی نہیں،ہم نے اپنی مارشل لا حکومتوں پر ہمیشہ یہی تنقید کی کہ ان کی وجہ سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ ایوب خان کے ون یونٹ نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب پید اکیے اور یحی خان نے قائد اعظم کے پاکستان کو دو لخت کر دیا۔ ضیا الحق کے مارشل لا میں ہر کسی نے توپ و تفنگ اٹھا لی، ہیروئن مافیانے سر اٹھایا۔اور صوبائیت، علاقا ئیت کے بھوت ناچنے لگے۔ مشرف کی فوجی حکومت نے ملک میں خونریزی کے کھیل کو ہوا دی۔اور رہ گئے سیاستدان ، اگر وہ حکومت چلانے کے اہل ہوتے تو مارشل لا کبھی نہ آتا اور نہ یہ سیاستدان اچھل اچھل کرفوجی جرنیلوںکی گود میں بیٹھتے۔ہماری سیاست کا آخری کھلاڑی عمران خان ہے، وہ ابھی تک یہ الزام نہیں دھو سکا کہ اسے آئی ا یس آئی کے سابق سربراہ کی تائیدو حمایت حاصل تھی۔ ایک نئے سیاسی کھلاڑی جو اکھاڑے میں اترنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہیں ڈاکٹر طاہرالقادری، گزشتہ برس ان کی گھن گرج ہر کسی نے سنی مگر ان پر سبھی نے شک کیا کہ ان کے پیچھے خفیہ طاقتیں ہیں۔ باقی بچی ن لیگ اور پیپلز پارٹی۔ان کے بارے میں شبہ نہیںبلکہ یقین ہو چلا ہے کہ وہ  مک مکا کر چکی ہیں، انہیں عوام کے دکھ درد سے کوئی غرض نہیں۔اب مصیبت یہ ہے کہ ملک میں پارٹیا ںیہی دو ہیں ، ایک کو سیاست اور حکومت کرتے چالیس سال بیت گئے، دوسری تیس برس سے حکومت کے مزے لوٹ رہی ہے، درمیان میں دونوں پر افتاد نازل ہوئی مگر اس میں زیادہ قصور ان کا اپنا تھا۔ ستتر میں بھٹو کی پارٹی دھاندلی نہ کرتی تو اسے کوئی الیکشن میں ہرا نہیں سکتا تھا، حکومت سے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ننانوے میں ن لیگ اداروں سے لڑائی نہ چھڑتی تو وہ دوتہائی اکثریت کے ساتھ کئی ٹرمیں اب تک گزارچکی ہوتی۔
میڈیا‘ فوج اور سیاسی جماعتوں کے پلس پوائنٹس بھی ان گنت ہیں۔ میڈیا نے حق و صداقت کی آواز بلند کئے رکھی‘ فوج نے   65 میںبھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ اسی کے عشرے میں سوویت روس کو پچھاڑا اورپچھلے عشرے میںدہشت گردی کو شکست دی، سیاستدانوں کے کمالات بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں،معیشت، ،مواصلات،تعلیم ، ٹیکنالوجی اور کئی شعبوں میں رونق انہی کے دم قدم سے ہے۔
میں کتابی باتیں کرنے کا عادی نہیں ، حقیقت پسند ہوں، میں جانتا ہوں کہ ملک ابھی تک پنگھوڑے میں ہے۔یہاں کوئی نظام ابھی تک جڑ نہیں پکڑ سکا، ایک چوں چوں کا مربہ ہے۔ پیوند کاری سے کام چلایا جا رہا ہے، ایڈہاک ازم پر انحصار ہے، اس لئے فی الحال ہمیں واقعی مل جل کر گاڑی کو آگے دھکیلنا ہوگا۔ہمیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ ابھی ہم میں پختگی نہیں آئی، کبھی ہم میڈیا کو شکنجے میں کس دیتے ہیں ، کبھی میڈیا مادر پدرا ٓزاد ہو جاتا ہے، کبھی ہم فوج کے واری واری جاتے ہیں اور کبھی ہم فوج کو پراپیگنڈے کی توپوں کے دہانے پر رکھتے ہیں ۔کبھی ہم اپنے محبو ب سیاستدانوں کی جیپ کندھے پر اٹھا لیتے ہیں، کبھی ان کے مغضوب گھر والوں کی کار کرین سے اٹھا کر فضامیںمعلق کر دیتے ہیں۔ کبھی ہم نعرہ لگاتے ہیں ،آگے بڑھو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں اور کبھی دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف، اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی کا منظر نامہ نظر آتا ہے۔
کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کریں۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم ملک اور اس کے عوام کی فکر کریں، اپنے پیٹ کا خیال ترک کر دیں۔کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے جس کسی نے لوٹ مار کی کمائی بیرونی تجوریوں میں دبا رکھی ہے، وہ ملک کو لوٹا دیں، یقین رکھئے کہ نیت ٹھیک ہو تو اس سے بھی دگنا چوگنا کمایا جا سکتا ہے اور حق حلال کا کمایا جا سکتا ہے، کیاایسے ہو سکتا ہے کہ ہم نان اشوز میں سر نہ کھپائیں، شوریدہ سر مسائل کو حل کرنے پر مغز کھپائیں۔ہم غربت کو دور کرنے کی کوشش کریں، جہالت کو مٹانے کے لئے اکٹھے ہوں، بیماریوں کے خلاف جہاد کریں، کشمیر کو آزاد کرائیں، صرف اسے کور اشو قرار دینے پر اکتفا نہ کریں، پانی کے بحران کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی کریں۔
آ تجھ کو بتائوں تقدیر امم کیا ہے، اقبال کے کلام اور قائد کے کردار کا عکس دیکھو اور آگے بڑھو، یہ دنیا اور اس کی ساری نعمتیںتمہاری ہے۔حکومت کی فکر چھوڑو، محکوموں کی خدمت کو شعار بنائو، مخدوم جہاں بن جائو۔میڈیا ،حکومت کے بغیر کچھ نہیں ، فوج عوام کے بغیر کچھ نہیں اور حکومت کارکردگی کے بغیر کچھ نہیں۔ڈھکوسلے چھوڑو ،فریب کی سیاست کاری ترک کرو، ایک بنو، اتحاد، تنظیم ، ایمان کا بھولا ہوا سبق یاد کرو۔
اور اگر کچھ نہیںکرنا چاہتے تو یونہی لڑتے بھڑتے رہو۔میڈیا اپنی لن ترانی میں مست رہے ، فوج اپنے دبدبے کے نشے میں چور رہے اور حکومت اپنے بھاری مینڈیٹ کی گردان جاری رکھے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ خدا ئے لم یزل کائنات کے اس حصے کے نظام کو چلانے کے لئے کوئی متبادل لے آئے جس میں نہ یہ میڈیا ہو گا ، نہ یہ فوج ہو گی اور نہ یہ حکومت، خدا نخواستہ!!

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...

جامعہ کراچی کے مسائل

جامعہ کراچی جو کہ کراچی کی سب سے بڑی جامعہ ہے آج کل تباہ حالی کا شکار ہے۔ہر ...