میٹنگ میں کچھ طے ہوتا ہے باہر آ کر کچھ اور کہا جاتا ہے‘ غیر سنجیدہ ماحول میں طالبان سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے: نثار

03 مئی 2014

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کھینچاتانی کی موجودہ صورتحال اور غیرسنجیدگی کے ماحول میں طالبان سے مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حکومتی اقدامات کے باعث دہشت گردی کم ہو گئی ہے۔ پہلے دس، دس دھماکے ہوتے تھے، اب ایک بھی نہیں ہوتا۔ نادرا ہیڈ کوارٹرز میں خیبر پی کے حکومت اور نادرا کے درمیان شہریوں کیلئے سہولت مرکز کیلئے ایم او یو پر دستخط کی تقریب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ جو بھی اٹھتا ہے یہی کہتا ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی سنجیدگی کے باعث ہی معاملات یہاں تک پہنچے ہیں۔ کسی سابق حکومت کو مذاکرات کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔ مذاکرات کے حامی بھی سربازار جلسہ لگانا چاہتے ہیں۔ میٹنگ میں کچھ طے ہوتا ہے، باہر جا کر کچھ اور کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو مذاکراتی عمل روکنے کیلئے پیر کو حقائق پر مبنی رپور ٹ دوں گا، حالات انتہائی گھمبیر ہیں۔ مذاکرات کی معاونت کے دعویدار سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں، طالبان کمیٹی کے بعض ارکان نے طے پانیوالے امور کے برعکس سر بازار تماشہ لگا دیا، مذاکراتی عمل میں تاخیر حکومت نہیں دوسرے فریق کے باعث ہوئی، فیصلہ کرلیا تھا کہ طالبان شوری سے آئندہ ملاقات کن فیصلہ ہوگی۔ تحریک انصاف کو حکومت کی مخالفت کا پورا حق حاصل ہے ، حکومت احتجاج اور تقاریر میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی، نادرا کے جو افراد کرپشن اور غیرقانونی اقدام میں ملوث رہے ہیں انکے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے کارروائی کرینگے۔ نادرا کو قومی ادارہ بنائینگے۔ وزیراعظم سے کہوں گا کہ اس سارے تماشے کے ماحول اور کھینچاتانی کے عمل میں مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں نہ پہلے ڈیڈلاک تھا نہ آج ہے۔ گذشتہ دو مہینوں میں کئی دن گزر گئے اگر کوئی دھماکہ نہیں ہوا اس کا ایک پس منظر ہے۔ قیام امن کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں۔ مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ دہشت گردی میں واضح کمی آئی۔ مذاکراتی عمل میں حکومت اور افواج پاکستان کی جانب سے نہ پہلے کوئی رکاوٹ تھی نہ آج ہے جن کا کام معاونت کرنا تھا وہ روزانہ جلسے کررہے ہوتے ہیں۔ مذاکرات میں دیر حکومت کی طرف سے نہیں ہوئی، حکومت سنجیدہ ہے۔ یہ بہت حساس اور گھمبیر مذاکرات ہیں۔ ایک لفظ آگے پیچھے کرنے سے مشکلات ہوتی ہیں۔ سول ملٹری تعلقات کے نظریہ سے باہر آئیں یوم شہداء سے پہلے بھی حالات ٹھیک تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ فوج اور حکومت میں تناؤ نہیں، ملک اور صوبوں کی بہتری کیلئے ملکر کام کرنا ہوگا۔ فائر بندی سے تشدد میں کمی ہوئی ہے یہ بات کوئی نہیں دیکھتا۔ طالبان کی سوچ اور باڈی لینگوئج کا ادراک ہو گیا ہے۔ آخری اجلاس میں طالبان سے ملاقات میں فائنل چیزوں پر بات کیلئے کہا۔ مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ تشدد میں روزانہ کے حساب سے کمی آئی ہے باقی پلیئرز کے پاس کوئی اور طریقہ ہے تو آزمالیں۔ اجلاس میں بات کچھ اور ہوتی ہے میڈیا میں کچھ اور کہہ دیا جاتا ہے اور جلسہ لگ جاتا ہے۔ مذاکرات کیلئے جگہ اور وقت کا تعین ہونا تھا حکومت اور فوج کی طرف سے مذاکرات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں مذاکرات کی معاونت کے دعویدار سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں، طالبان کمیٹی کے بعض ارکان نے بند کمرے کے اجلاس میں طے پانیوالے امور کے برعکس سر بازار تماشہ لگایا ہے۔ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے مگر طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا سیاسی پوائنٹ سکورننگ اور روز جلسے کرنا درست نہیں پہلے طالبان کی آپس میں لڑائی تھی، ان معاملات کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں حکومت اپنے معاملات میں سنجیدہ ہے۔ مذاکراتی عمل میں تاخیر حکومت کی وجہ سے نہیں دوسرے فریق کے باعث ہوئی ہے، میں نے طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میںگذشتہ اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ طالبان شوری سے آئندہ ملاقات کن فیصلہ ہونی چاہئے۔ تحریک انصاف کی قیادت جو کچھ کررہی ہے اسکی سرگرمیوں پرکوئی قدغن نہیں ہم ایکدوسرے کے دشمن نہیں سیاست اپنی جگہ۔ سیاسی اختلافات یا سیاست الیکشن اور اسمبلیوں میں ہوتی ہے وفاق اور صوبوں کے معاملات اپنی جگہ ہیں  نادرا کے جو افردا کرپشن اور غیر قانونی اقدام میں ملوث پائے گئے انکے خلاف ایف آئی اے کارروائی عمل میں لائیگی۔ نادرا نے خیبر پی کے حکومت کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کئے ہیں، نادرا قومی ادارہ ہے یہ کسی جماعت یا حکومت کا ادارہ نہیں ہے، سب کو اس سے مستفید ہونا چاہئے ، اگر وفاقی ادارے صوبائی حکومتون کی مدد کر رہے ہیں تو یہ مثبت پیشرفت ہے۔ نادرا کو سابق دور حکومت میں سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ہم اسے صحیح معنوں میں قومی ادارہ بنا رہے ہیں، گزشتہ تین ماہ میں نادرا نے 1.3ارب روپے کا ریکارڈ منافع کمایا ہے، ادارے سے 350 گھوسٹ ملازمین کو فارغ کیا، بیرون ملک من پسند اور رشتہ داروں کو پوسٹنگ دی گئی، آئندہ بیرون ملک پوسٹنگ میرٹ اور شفافیت پر ہو گی اور کوئی سفارشی بیرون ملک نہیں جائیگا۔ نادرا بلوچستان، پنجاب اور سندھ حکومت کے اسلحہ لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ کر رہا ہے، آنیوالے دنوں میں نادرا کے منافع میں اور اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ طالبان سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک تھا نہ اب ہے۔ کچھ لوگ جو شروع دن سے مذاکرات کے مخالف تھے ان کی طرف سے تنقید تو سمجھ میں آتی ہے مگر وہ لوگ جو خود کو مذاکراتی عمل کا حمایتی کہتے ہیں انکی طرف سے کچھ ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن سے حیران ہوں کہ کیا وہ مذاکرات کو آگے لے جانا چاہتے ہیں یا سرِبازار تماشہ لگانا چاہتے ہیں، اب بھی سمجھتا ہوں کہ ملک میں قیام امن کا واحد راستہ مذاکراتی عمل ہے اور مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، تشدد میں روزانہ کی بنیاد پر کمی آئی اور دوسرے فریق یعنی طالبان کے خیالات اور مطالبات و سوچ کا بھی اندازہ ہوا۔ چند روز قبل ایک اجلاس کے دوران وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بتایا کہ طالبان کمیٹی کیساتھ ہونیوالے آخری اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ طالبان شوری سے آئندہ مالاقات فیصلہ کن ہونی چاہئے، دونوں طرف سے مکمل ایجنڈے سامنے آنے چاہئے، ایک بار پھر اعادہ کرتا ہوں کہ مذاکراتی عمل میں تاخیر حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسروں کی وجہ سے ہوئی، میڈیا کو سول ملٹری تعلقات کے نرغے سے نکلنا چاہئے۔ چیئرمین نادرا کا تقرر شفاف انداز میں کیا جائیگا اور اسکے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، آئندہ چندروز میں اخبارات میں اشتہارات دیدئیے جائیں گے۔