حکومت خود سب سے بڑی نادہندہ ہے‘ 2 سے 3 ماہ سخت ہیں‘ عوام کو لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا ہو گا: وفاقی وزیر پانی و بجلی

03 مئی 2014

اسلام آباد (خبر نگار+ ایجنسیاں) وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کو ہر ممکن حد تک کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کریں گے‘ حکومت خود سب سے بڑی نادہندہ ہے، عوام کو کوئی غلط امید نہیں دلانا چاہتا لوڈشیڈنگ کے عذاب کو جھیلنے کیلئے تیار رہنا ہو گا‘ پوری قوم کو اگلے 2 سے 3 ماہ تک لوڈ شیڈنگ کا عذاب برداشت کرنا پڑے گا‘ عوام کو 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑے گی۔ ائیر کنڈیشنرز کے استعمال سے شارٹ فال 3200 میگاواٹ تک پہنچا ہے‘ بجلی نادہندگان کے خلاف ہر ممکن کارروائی ہوگی، نادہندہ وفاقی‘ صوبائی اورنجی اداروں کے کنکشن منقطع کررہے ہیں‘ بجلی چوری میں کوئی بھی ملوث ہو کارروائی ہوگی، جو بجلی کا بل نہیں دے گا اسے بجلی نہیں دینگے‘ لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کرنے والوں کی اکثریت بجلی چوروں اور بلوں کی ادائیگی نہ کرنے والوں کی ہے۔ وہ جمعہ کو وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ ہم نے عوام سے کئے گئے اپنے وعدے کے مطابق بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی کی اور سردیوں کے پورے سیزن میں کارخانے اور فیکٹریاں چلتی رہیں لیکن گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ کوشش ہے کہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے اس سال کے جتنے بھی بجلی کے بقایاجات ہیں وہ جون سے پہلے وصول کر لئے جائیں، بجلی کے کنکشنز کاٹنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے اس سے حکومت کو 3.2 ارب روپے کی وصولی ہوئی ہے۔ 2200 میگا واٹ بجلی سسٹم میں آ چکی ہے یا اگلے 2 ماہ نیشنل گرڈ سٹیشن میں آ جائے گی۔ چند لاکھ بجلی چوروں اور نادہندگان کی وجہ سے کروڑوں صارفین کو لوڈ شیڈنگ کا عذاب برداشت کرنا پڑتا ہے، سب پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ بجلی کا بل ادا نہیں کرتے چاہے وہ وفاقی حکومت میں ہوں یا صوبائی حکومت میں انہیں کسی صورت بجلی فراہم نہیں کی جائے گی، اگر ایک فیڈر میں 90 فیصد لوگ بجلی چوری کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے باقی 10 فیصد کو بھی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگتنا پڑتا ہے۔ بل ادا نہ کرنے والے فیڈروں کے نام جلد مشتہر کریں گے۔ بجلی چوری کے خلاف اور وصولیوں میں توقع کے مطابق کامیابی نہیں ہوئی۔ ملک میں کہیں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔ جن علاقوں میں بجی چوری ہو رہی ہے وہاں سے ٹرانسفارمر اتار لیں گے۔ بجلی چوری ہمارے عملے کی ملی بھگت سے ہو رہی ہے۔ جولائی میں لوڈشیڈنگ کم ہو جائیگی۔ 3 سے 5 برس کے عرصے میں ہمارے پاس بجلی وافر ہو گی۔ ٹیوب ویل مالکان کے ذمہ 72 ارب روپے کے واجبات ہیں۔ نادہندگان کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری رکھی جائے گی اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اگلے تین ماہ صارفین کے لئے بہت سخت ہوں گے جن کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گا۔ پانی اور بجلی کی وزارت میں ایک کنٹرول روم بنایا جا رہا ہے جس میں ملک بھر میں آٹھ ہزار سے زائد بجلی کے فیڈرز کا ریکارڈ موجود ہو گا جس سے معلوم ہو سکے گا کہ فلاں فیڈر سے صارفین کو کتنی بجلی فراہم کی گئی اور وہاں سے کتنے فیصد صارفین نے بجلی کے بل ادا کئے۔