متحدہ کے یوم سوگ پر سندھ میں ہڑتال‘ کراچی میں 7 افراد جاں بحق: صوبائی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور

03 مئی 2014

کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف ایم کیو ایم کی کال پر کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں میں ہڑتال اور کاروبار زندگی بند رہا جبکہ جمعہ کو پرتشدد واقعات میں مزید 5 افراد مارے گئے۔ متحدہ کے کارکنوں کے قتل پر سندھ اسمبلی میں بھی مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کی اپیل پر چار کارکنوں کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کے خلاف جمعہ کو کراچی سمیت سندھ بھر میں پرامن یوم سوگ منایا گیا۔ دکانیں بند ہونے کی وجہ سے شہریوںکو اشیائے خورد و نوش کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سوگ کے باعث سڑکوں پر سناٹے کا عالم تھا اور صبح کے اوقات میں جو افراد اپنے دفاتر یا کاموں پر جانے کے لیے نکلے ، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے سبب ان افراد میں سے بڑی تعداد واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئی۔ یوم سوگ کے سبب سرکاری اور نجی دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ فیکٹریوں اور ملوں میں بھی ملازمین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے پیداواری عمل متاثر ہوا۔ کارگو ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث کراچی کی دونوں بندرگاہوں پر خام مال کی ترسیل کا عمل متاثر ہوا جبکہ اندرون ملک سے کراچی اور کراچی سے اندرون ملک مال کی ترسیل نہیں ہو سکی۔ یوم سوگ کے باعث شہر کے تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں حاضری نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر ادارے علی الصبح ہی بند کر دیئے گئے۔ ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو بھی پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم شہر میںشام تک مختلف دکانیں کھل گئیں اور کئی علاقوں میں پٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز کھل گئے اور پبلک ٹرانسپورٹ کم تعداد میں سڑکوں پر چلنا شروع ہو گئی تھی۔ شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ یوم سوگ کے باعث حیدر آباد، میرپور، سکھر، نوا ب شاہ، ٹنڈو الہ یار سمیت دیگر شہروں میں بھی کاروباربند رہا۔ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم تھی۔ مختلف تعلیمی اداروں میں ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے۔ قبل ازیں متحدہ کے مقتول کارکنوں محمد سمیدا اور سلمان قریشی کو نماز جنازہ کے بعد شہداء قبرستان اور جامعہ کراچی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں ڈپٹی کنوینر متحدہ خالد مقبول صدیقی، ارکان اسمبلی اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر کارکنوں نے ٹارگٹ کلنگ کیخلاف نعرے بازی اور احتجاج کیا۔ متحدہ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے نائن زیرو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ کے چاروں مقتول کارکنوں کو سادہ پوش افراد گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کے کچھ اہلکار خود ہی قانون خود ہی منصب بنکر فیصلے کر رہے ہیں، آرمی چیف کور کمانڈر کرچی کو ہدایت کریں کہ وہ اپنی نگرانی میں ہمارے 4 کارکنوں کے قتل کی تحقیقات کیلئے کمشن بنائیں جس میں ہم تمام ثبوت پیش کر دینگے۔ فاروق ستار نے کہا کہ اگر 72 گھنٹوں میں حکومت نے ہمارے لاپتہ کارکنوں کو بازیاب، زیرحراست کارکنوں پر تشدد بند اور کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار نہ کیا تو متحدہ پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیگی اور سندھ بھر میں قومی شاہراہوں پر دھرنے دیئے جائینگے۔ دریں اثناء جمعہ کو ہڑتال کے باوجود شہر میں تشدد جاری رہا۔ لیاری کے علاقے دریا آباد میں شکیل بادشاہ نامی شخص نے ہوٹل پر فائرنگ کر کے اپنے چچا حق داد نیازی اور اسکے 2 بیٹوں کو قتل اور تیسرے بیٹے شہزاد کو زخمی کر دیا۔ قتل کا پس منظر خاندانی تنازعات بتائے جاتے ہیں جبکہ لیاری کے قریب ابراہیم گوٹھ مشرف کالونی کے نالے سے 2 افراد کی مسخ شدہ اور 20  روز پرانی نعلیں ملیں۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا، انکے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، جسموں پر تشدد کے نشانات بھی تھے،  نعشوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دریں اثناء گلبرگ کے علاقے موسیٰ کالونی میں 16 سالہ محمد حسن کو نامعلوم افراد نے اغواء کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ لیاری کے علاقے دریا آباد میں رینجرز کے ساتھ مقابلے میں لیاری گینگ وار کا ایک ملزم مارا گیا جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ فرنٹیر پولیس نے گینگ وارڈان عزیر بلوچ کے ساتھ وسیم بلوچ کو جو ارشد پپو کے قتل میں بھی ملوث ہے، گرفتار کر لیا۔ دوسری طرف پولیس نے بلوچ کالونی سے ٹارگٹ کلنگ کی 40 وارداتوں میں ملوث ٹارگٹ کلر علی اکبر عرف ذاکر کو گرفتار کر لیا۔ ادھر سندھ اسمبلی نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی زیرصدارت جمعہ کو ہوا جس میں تمام حق پرست ارکان بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے۔ مذمتی قرارداد سید سردار احمد نے ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ متحدہ کے 4 کارکنوں کو جس انداز سے اغواء کر کے قتل کیا گیا وہ قابل مذمت ہے، واقعہ کی تحقیقات کرا کر مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔