جنگ اور جیو نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا‘ ان کے معافی مانگنے تک بائیکاٹ کرینگے: عمران

03 مئی 2014

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ ایجنسیاں) عمران خان نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی ہے اور آر اوز نے ان انتخابات میں شرمناک کردار ادا کیا ہے۔ ملکی کی تاریخی میں پہلی مرتبہ چیف جسٹس نے آر اوز سے خطاب کیا۔جس حلقے کے رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد ہی 1500ہو وہاں پر 8 ہزار ووٹ کاسٹ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے اور تاریخی دھاندلی ہے۔ جنگ اور جیو نے 18 فیصد رزلٹ چلا کر دھاندلی میں حصہ ڈالا، جنگ اور جیو نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ طالبان کیساتھ مذاکرات پر اس وقت تک بات نہیں کرونگا جب تک اس حوالے سے بریفنگ نہیں لے لیتا، جب بھی ملک کے میں کوئی حق کی بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے جمہوریت ڈی ریل ہونے لگی ہے مگر پاکستان عوام نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ اس ملک کیلئے واحد نظام جمہوریت ہی قابل قبول ہوگا کوئی دوسرا نظام یہاں ہرگز نہیں چل سکتا تاہم جمہوریت میں موجود خامیوں کو اگر دور نہ کیا گیا تو یہاں ووٹ کارکردگی کی بنیاد پر نہیں دھاندلی میں مہارت کی بنیاد پر ملیں گے اور ہمیشہ عوام کا مینڈیٹ چرایا جائیگا۔ این اے 118 میں دھاندلی کے شواہد مل گئے ہیں، سپریم کورٹ اس معاملے پر ازخود نوٹس لے، پاکستان کی خاطر الیکشن قبول کیا، دھاندلی قبول نہیں کی۔ جنرل پاشا کے حوالے سے انکوائری کے لئے تیار ہیں، آئی ایس آئی سے آج تک پیسہ نہیں لیا ، 11 مئی کو اسلام آباد میں لائحہ عمل کا اعلان کرینگے، جنگ اور جیو کا معافی مانگنے تک بائیکاٹ کرینگے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا حکومت گرانا ہوتی تو الیکشن کو قبول نہ کرتے، ہمارا مقصد حکومت گرانا نہیں ہے، جمہوریت میں خرابی کا مطلب مارشل لاء نہیں ہے۔ ہم تو چیف جسٹس سے کہتے ہیں کہ وہ اس دھاندلی کیخلاف ایکشن لیں اور اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیکر اصل حقائق سامنے لائیں اور پوری انکوائری کروائیں۔ این اے 118 میں تحریک انصاف کے امیدوار نے 57 لاکھ روپے خرچ کرکے انصاف حاصل کیا۔ اس حلقے میں ایک لاکھ 70 ہزار ووٹ کاسٹ کئے گئے، 90 ہزار ووٹوں کا کوئی ثبوت نہیں، ایسا لگتا ہے فرشتے  لے گئے ہیں، صرف 69 بیگ سیل تھے۔ ریٹرننگ افسر دھاندلی میں ملوث تھا ریٹرننگ افسران کا احتساب کون کریگا۔ ریٹرننگ افسروں کا کردار شرمناک پلس تھا۔ الیکشن ٹربیونل میں 60 سے زیادہ کیسز پڑے ہوئے ہیں اور اس کے باوجود ہمارا مطالبہ صرف چار حلقوں کا ہے کہ وہاں پر انگوٹھوں کے نشان سے تصدیق کروائی جائے مگر ایک سال گزر گیا اسکے باوجود اگر مطالبات منظور نہ کئے جائیں تو احتجاج کے سوا کون سا راستہ بچتا ہے۔ عام انتخابات میں ہونیوالی دھاندلی کیخلاف ہر جماعت نے الزامات عائد کئے ہیں۔ طاہر القادری کے علاوہ جماعت اسلامی، شیخ رشید و دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے مگر تحریک انصاف گیارہ مئی کو اپنے لائحہ عمل کا آغاز ڈی چوک اسلام آباد سے کریگی۔ جنگ اور جیو کے حوالے سے تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ  جنگ اور جیو کا معافی مانگنے تک بائیکاٹ جاری رہے گا۔ جنگ اور جیو 2013ء کے انتخابات کے نتائج پر بھی اثرانداز ہوئے۔ ہمارا کوئی نمائندہ  جنگ اور جیو کے پروگرام میں نہیں جائیگا ۔ انتخابات کے 18 فیصد نتائج پر نواز شریف کا خطاب انہوں نے کروا دیا، نوازشریف کے خطاب پر تمام نتائج رک گئے تھے، رات ساڑھے 11 بجے نواز شریف نے پیغام کس کو دیا، نوازشریف کے خطاب کے بعد دھاندلی شروع ہوئی، جنگ کے نمائندہ کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا کر کرکٹ کو تباہ کردیا گیا۔ جیو اور جنگ گروپ کی جانب سے وصول کی جانیوالی غیرملکی رقوم کی جھلک اسکے دوہرے معیار سے واضح ہوتی ہے کیونکہ مشرقی سرحد پر یہ گروپ امن کی آشا کا پرچار جبکہ مغربی سرحد پر جنگ کی آشا کی تشہیر کرتا ہے۔