افغانستان: شدید بارشیں‘ تودے گرنے سے 400 گھر تباہ‘ اڑھائی ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ

03 مئی 2014

کابل (اے ایف پی+ رائٹرز + بی بی سی + نوائے وقت رپورٹ) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں شدید بارشوں کے باعث تودے گرنے سے 500 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ گورنر بدخشاں شاہ ولی اللہ نے بتایا کہ بارشوں کے باعث 400 سے زائد گھر پہاڑوں سے بہہ کر آنے والی چٹانوں اور کیچڑ میں دب گئے ہیں۔ ایک گائوں مکمل طورپر صحفہ ہستی سے مٹ گیا۔ امدادی سرگرمیاں اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ امریکی اور اتحادی فوجی بھی امدادی کارروائیوں کیلئے وہاں پہنچ گئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایک ہزارکے لگ بھگ گھر تباہ ہوئے جن میں سے تین سو تو ابتدا ہی میں تودوں کی زد میں آکر دفن ہو گئے۔ واض رہے کہ جمعہ کو افغانستان میں چھٹی ہوتی ہے اور لوگوں کی اکثریت اپنے گھر پر رہتی ہے۔ جب تودے ڈھلان کی طرف پھسلنا شروع ہوئے تو لوگ اپنے گھر پر ہی تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے کے پورے خاندان ٹنوں کیچڑ اور چٹانوں کے نیچے دب گئے۔ مزید سینکڑوں گھر ایسے موجود تھے جنہیں تودے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بدخشاں کے پولیس کمانڈر فضل الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ کم سے کم 200 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 215 خاندانوں کا ہارگو نامی گائوں تمام خاندانوں سمیت مٹی کے تودے تلے دب گیا۔ بارش جاری ہے اور مزید تودے گرنے کا خطرہ ہے۔ اے ایف پی مطابق اقوام متحدہ کے مشن نے 350 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ این ڈی ایم اتھارٹی کے ڈائریکٹر عبداللہ ہمایوں کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑی تباہی ہے۔ لینڈ سلائیڈ نے 1000 خاندانوں کو متاثر کیا۔ تقریباً 300 خاندانوں کے اڑھائی ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ابھی تک 3 لاشیں برآمد‘ 7 سو خاندانوں ک بچا لیا گیا۔ ان کیلئے خیمے اور کمبل کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوںپر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں افغان خاندان کے ساتھ ہیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جرمن چانسلر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اوباما نے کہا کہ ہر قسم کی مدد دینے کو تیار ہیں۔ دریں اثنا گورنر بدخشاں ولی اللہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ مٹی کے تودوں تلے دب کر اڑھائی ہزار افراد کی موت ہو جانے کا خدشہ ہے ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں ۔اس علاقے میں زیادہ تر مکانات کچی اور مٹی کی اینٹوں سے بنائے گئے ہیں جو شدید بارشوں میں خستہ حال تھے۔ پھر مٹی کے تودوں تلے دب گئے۔ صدر حامد کرزئی نے سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فوری امدادی کارروائیوں کا حکم دیدیا۔