طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج جاری‘ تحریک انصاف کے بھی مظاہرے‘ گرمی سے 6 افراد ہلاک

03 مئی 2014

لاہور (کامرس رپورٹر + خصوصی رپورٹر + نمائندگان + ایجنسیاں) صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں گزشتہ روز بھی بجلی کے بحران میں شدت برقرار رہی اور شہروں اور دیہات میں 12 سے 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کیخلاف کئی شہروں میں مظاہرے جاری رہے۔ بجلی کی قلت میں مزید 100 میگاواٹ اضافہ ہوگیا۔ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار شدید متاثر ہوا جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی بھی شدید قلت رہی جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث امتحانات میں مصروف طلبہ کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ شدید گرمی کے باعث مزید 6 افراد دم توڑ گئے جبکہ متعدد بے ہوش ہوگئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف پنجاب کی ضلعی تنظیموں نے لاہور سمیت اپنے اپنے ضلع میں پریس کلب کے باہر بجلی کی بدتدین لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری اور حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اوردھرنے اور ریلیاں نکالیں۔ لاہور میں مظاہرے کی قیادت عبدالعلیم خان نے کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کیخلاف نعرے درج تھے۔ کارکنوںنے بجلی کے بلوں کو نذر آتش کیااور سینہ کوبی کرتے رہے۔ پنجاب کے دیگر اضلاع قصور، شیخوپور، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ، منڈی بہائوالدین، حافظ آباد ، ناروال، گوجرانوالہ میں بھی احتجاج کیا گیا۔ رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ، تحریک انصاف عوام کے حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی۔ ادھر لیسکو نے صوبائی دارلحکومت میں 8 گھنٹے اور مضافاتی دیہی علاقوں میں 16 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول نافذ کر دیا، لیکن نئے شیڈول کے نفاذ کے پہلے ہی روز لاہور میں شہریوں کو 10 سے 12 گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ لیسکو ذرائع کے مطابق اس وقت کمپنی کو تقریباً ساڑھے 3 ہزار میگاواٹ بجلی کی طلب کا سامنا ہے، جبکہ قومی گرڈ سے کمپنی کو تقریباً 2 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی طلب میں اضافے کے نتیجے میں لیسکو کا تقسیم کاری نظام اوور لوڈ ہے۔علاوہ ازیں بجلی کی طویل بندش پر گزشتہ روز بھی شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا۔ شہریوں نے کہا کہ لیسکو نے روزانہ 8 گھنٹے بجلی کی بندش کے نئے شیڈول کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن حقیقت میں گزشتہ روز بھی شہر میں 12 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ریکارڈ کی گئی۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے 90 سالہ محمد لطیف اور کسان اللہ رکھا سکنہ قلعہ کالر وا لا کھیتوں میں کام کرتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ مقامی واپڈا گرڈ سٹیشن میں ڈیوٹی انچارج مولوی محمد مقصود گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران ڈیوٹی بے ہوش ہوگیا جبکہ نماز جمعہ میں دو نمازی بے ہوش ہوگئے۔ گرمی کے باعث لوگ بلبلا اٹھے۔ نماز جمعہ کے بعد شہریوں نے پریس کلب کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جائے۔ کامونکے سے نامہ نگار کے مطابق بجلی کی بندش 10 سے 12 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے تک پہنچ گیا جس کیخلاف لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ رائے ونڈ سے نامہ نگار کے مطابق نواز شریف فارم کے ملحقہ علاقوں سب ڈویژن مانگا میں لوڈ شیڈنگ پر سینکڑوں شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرین نے نواز شریف فارم کے سامنے جاکر احتجاج ریکارڈ کروانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں آگے گیٹ تک نہیں جانے دیا۔ اس موقع پر سات مختلف دیہاتوں مل ،سلطانکے ،سندر ،بھائیکوٹ، دھوپ سڑی وغیرہ کے رہائشی لوگوں نے بتایا کہ شدید گرمی میں ظالمانہ لوڈ شیڈنگ نے نظام زندگی مفلوج کردیا ہے۔ سازش کے تحت عوام کو مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔ مذکورہ دیہاتوں میںچوبیس گھنٹوں میں صرف چار گھنٹے بجلی آتی ہے۔ علاوہ ازیں یقین دہانی پر جلوس کے شرکاء منتشر ہوگئے۔ این این آئی کے مطابق بنوں میں گزشتہ روز بھی بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ شہریوں نے احتجاجاً بنوں کوہاٹ روڈ پر دھرنا دیا اور ٹریفک معطل کردی جس سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی رہیں۔ اس موقع پر بعض مشتعل مظاہرین نے ٹائروں کوبھی آگ لگا دی۔ سرگودھا، گوجرانوالہ، شرقپو رشریف، وہاڑی ،ہری پور، حویلیاں سمیت ملک کے مختلف مقامات پر بھی بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مریدکے ٹاؤن کا 55سالہ شوکت ریلوے سٹیشن کے قریب دوستوںکے ساتھ بیٹھا تھا کہ دم گھٹنے سے چل بسا ، ٹمبر مارکیٹ کا 26سالہ مرگی کا مریض عمران قریبی کھیتوں میں مردہ پایا گیا۔ گاؤں کرول اور مریدکے شہر کے عنائت اور عباس بھی شدید گرمی کی وجہ سے بیہوش ہوئے اور اسی حالت میں دم توڑ گئے۔ بچیکی سے نامہ نگار کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ 12 سے 15 گھنٹوں سے بھی تجاوز کرگیا، کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گئے۔ بجلی بند ہونے سے لوگوں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق غیر اعلانیہ اور بدترین لوڈ شیڈنگ کے سلسلے میں کمی نہ آسکی۔ سخت گرمی کے باعث 5 افراد بے ہوش ہوگئے۔ شہری علاقوں میں دورانیہ 14 جبکہ دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے سے بھی تجاوز کرگیا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے تجاوز کرگیا جس پر شہری حکمرانوں کو کوستے رہے۔ کوٹ رادھا کشن سے نامہ نگار کے مطابق 18 گھنٹے سے زائد غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے اور پانی کی بوند بوند کو ترس گئے جبکہ کاروباری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ گرمی کی شدت کی وجہ سے نہ صرف عورتیں، نوجوان بلکہ بچے بھی تڑپتے رہے۔