میڈیا سمیت 51 ادارے کم از کم اجرت کے قانون میں شامل کرنے کا فیصلہ

03 مئی 2014

لاہور (اپنے نامہ نگار سے)حکومت پنجاب نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ، نجی ہسپتالوں ، سکولوں اور کالجوں سمیت51نئی صنعتی و تجارتی کیٹیگریز پر مشتمل اداروں کوکم از کم اجرت کے قانون میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا، محکمہ لیبر نے سفارشات کی منظوری کے لیے سمری  وزیراعلیٰ  شہبازشریف کو ارسال کردی۔ کم از کم اجرت کاقانون 1961میں بنایا گیا تھا تاہم اس کے مطابق لیبر ڈیپارٹمنٹ ہر محکمے کے اندر چیکنگ کا مکمل اختیار نہیں رکھتا ۔جن صنعتی و تجارتی مراکز کی چیکنگ کا اختیار محکمہ لیبر کے پاس ہے ان کی مجموعی تعداد 51 ہے لیکن اس میں بہت سے اہم شعبہ جات شامل نہیںتھے ۔ جس کے پیش نظر اب محکمہ لیبر پنجاب نے مزید51 صنعتی اور تجارتی کیٹیگریز کو اپنے دائرہ اختیار میں شامل کرنے کے لیے سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوا دیں جس کے بعد ان صنعتی اور تجارتی کیٹیگریز کے مالکان اور ان میں کام کرنے والے مزدوروں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد فہرست کو حتمی شکل دی گئی اور اس پر تمام سٹیک ہولڈرز نے اتفاق رائے کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد محکمہ لیبر کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ، نجی ہسپتالوں ، سکولوں،کالجز، بیوٹی پارلر ز،بیکریز اینڈ سویٹس مینو فیکچرنگ سمیت دیگر کیٹیگریزمیں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کے قانون کی چیکنگ کا اختیار حاصل ہوگا۔ سمری کی منظوری کے بعد محکمہ لیبر اب مجموعی طور پر 102اداروں میں کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمدکو یقینی بناسکے گا جس سے کم از کم اجرت کے حوالے سے ورکرزاور مزدوروں میں پائی جانے والی بے چینی میں بھی کمی ہوگی-