حکمران تمام اداروں پر ممنون جیسے لوگ بٹھانا چاہتے ہیں: طاہر القادری

03 مئی 2014

لاہور (خصوصی نامہ نگار) عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے ڈی چوک کا دھرنا انقلاب کی اذان تھی،11مئی کو ملک گیر احتجاج کے ذریعے جماعت انقلاب کی اقامت ہو گی۔ صف بندی کے بعد جلد جماعت کھڑی ہو جائے گی، جماعت انقلاب کے قیام کے بعد مذاکرات نہیں ہونگے، سیاسی دہشت گردوں اور ریاستی ڈاکوئوں سے اقتدار لے کر پرامن طریقے سے عوام کو منتقل کر دیا جائیگا۔ 11مئی کا احتجاج پر امن ہو گا اگر ریاستی جبر اور پولیس کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو حکمران اپنی چند ماہ کی سیاسی عمر کا خود خاتمہ کر لیں گے۔کارکن جرات اور حوصلے سے عوام کو احتجاج میں شامل کرنے کیلئے گھر گھر مہم جاری رکھیں اگر بدمعاشوں نے دہشت گردی کی کوشش کی تو کارکن غنڈوں کو مزا چکھائیں۔ موجودہ حکمران ہر محکمے میں اپنا وفادار چاہتے ہیں۔ ناجائز نوٹ چھاپنے پر سٹیٹ بنک کے گورنر کو فارغ کر دیا گیا۔ انتخابی دھاندلی پر پردہ ڈالنے کیلئے نادرا کے چیئرمین کو راتوں رات فارغ کر دیا گیا۔ حکمران تمام اداروں پر ممنون حسین جیسے لوگ بٹھانا اور ملک میں خاندانی بادشاہت کا قیام چاہتے ہیں۔ لاہور میں ورکرز کنونشن سے وڈیو لنک کے ذریعے کینیڈا سے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا موجودہ حکومت 9  ماہ میں ٹیکس کی مد میں 500  ارب کا نقصان پہنچا چکی۔ پاکستان کے پورے نظام کو چلانے والے 58  قومی اداروں کے بارے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا  ان کے سربراہ کی تعیناتی وزیراعظم یا حکومتی افراد نہیں کر سکیں گے بلکہ ایک کمشن قائم کیا جائے گا۔ حکمرانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو روند کر ان میں سے 38  اداروں کو خارج کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک میں جمہوریت ہی نہیں ہے تو اسکا ڈی ریل ہونا کیسا؟۔ آپ کیوں نہیں سمجھتے؟ موجودہ حکمران ایک ایک ڈیل میں 10،10ارب ڈالر حرام کھاتے ہیں۔ آئی این پی کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گیارہ مئی کو میرا ایجنڈا قطعی طورپر 2013 ء سے مختلف نہیں‘ میں ذاتی طورپر تو نہیں آرہا لیکن بہت جلد پاکستان آکر اقتدار سے چمٹے مافیا سے اقتدار چھین کر عوام کو منتقل کردوں گا‘ میں یہاں نہیں رہتا تو میں بتا دوں اگر عوام مجھے پسند نہیں کرتے تو وہ میری کال کو مستردکر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ سپریم کورٹ کی اعلی کرسی پر بیٹھا شخص واقعی جج ہے لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ اس کرپٹ سسٹم کا حصہ ہے اس نے میرے ساتھ دھوکہ کیا اس مرتبہ ہم نے کسی عدالت میں نہیں جانا ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے ہم نے کسی سے مذاکرات نہیں کرنے۔ ایک کروڑ نمازی جب اکٹھا ہوگا تو ہم اس وقت تک اپنا پرامن احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک ان ظالموں سے اقتدار چھین کر عوام کو منتقل نہ کردیں۔