ورلڈ بنک کا دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے فنڈز دینے سے انکار‘ تعمیر کو بھارت کے این او سی سے منسلک کر دیا

03 مئی 2014

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + عمران علی کندی / دی نیشن رپورٹ) پاکستان کو اس حوالے سے سخت دھچکا لگا ہے کہ ورلڈ بنک نے اگلے پانچ سال 2015-19ء پاکستان کو 4500 میگاواٹ کے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز دینے سے انکار کردیا ہے جس کی پاکستان کو اشد ترین ضرورت تھی جس سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کا امکان ہے۔ ورلڈ بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پاکستان کی امداد کے لئے دو پیکیج منظور کئے تھے۔ ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر راشد بن مسعود نے میڈیا کو بریفنگ دی۔ پاکستان نے ورلڈ بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک سے 14 بلین ڈالر کی رقم دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے طلب کی تھی مگر ورلڈ بنک نے اس کی تعمیر کی منظوری نہیں دی، وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ ورلڈ بنک نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو بھارت سے این او سی لینے سے منسلک کردیا جو پاکستان کیلئے ناقابل قبول ہے۔ راشد بن مسعود نے ویڈیو پریس کانفرنس میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے مدد کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ حکومت پاکستان کو بجلی کا ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار مکمل طور پر نیپرا کے سپرد کرنا چاہئے اور خود اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔ پاکستان میں غربت میں کمی کا رجحان نظر آرہا ہے اور حکومت نے غربت میں کمی کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ عالمی بینک نے پاکستان کے لئے ایک بلین ڈالر کے معاشی پیکج کی منظوری دی ہے۔ اس میں سے 600ملین ڈالر پاور سیکٹر کے لئے ہیں جبکہ 400ملین ڈالر گروتھ بڑھانے کے اقدامات کے لئے ہیں تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ایک بلین ڈالر کا قرضہ رعایتی شرح سود کے تحت ہے۔وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کئے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی بنک کی طرف سے جاری ہونے والا قرضہ رعایتی ہے۔پاکستان کو یہ رقم آئندہ ہفتہ کے دوران مل جائے گی اور اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے۔وزارتِ خزانہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی بینک کی ڈی پی سی نے پاکستان کے بجٹ کو سپورٹ کرنے کیلئے ایک ارب ڈالرکی منظوری دی۔ پاکستانی کرنسی میں 100 بلین روپے کے برابر یہ رقم ملکی قرض سے کم کی جائے گی۔ بجٹ کی مد میں اس سپورٹ سے حکومت مجموعی قرض میں 10فیصد بچائے گی جیسا کہ موجودہ قرض پر سود کی شرح2.5فیصد ہے اس رقم کی وصولی کے بعد اس شرح سود کو دو فیصد پر لایا جائے گا اس طرح قرض پر سود کی مد میں 10فیصد کی بچت ہوگی۔وزارتِ خزانہ کے بیان میں کیا گیا ہے کہ عالمی بینک کے بورڈ کا ایک اجلاس ہوا جس میں انھوں نے پاکستان کیلئے دو ڈویلپمنٹ پالیسی کریڈٹس ( ڈی پی سیز) کی منظوری دی جس میں ایک توانائی اور دوسری ریونیوز سے متعلق ہے۔ ورلڈ بینک کے بورڈ نے مکمل اتفاق رائے سے ان پالیسیوں کی منظوری دی اور ان پالیسیوں کے خلاف کوئی ووٹ پڑا۔ یہ خالصتاً رعایتی قرض ہے جو30 سال میں ادا کیا جائے گا جس میں 25 سال معمول کا عرصہ اور 5 سال گریس پیریڈ ہے۔ یہ قرض25 برس کے بعد قابل ادائیگی ہوجائے گا۔عالمی بینک نے پاکستان کیلئے پانچ سالہ کنٹری پارٹنر شپ سٹرٹیجی پیپر کی بھی منظوری دی جس کے تحت پاکستان2014-19 کے عرصہ میں 11ارب امریکی ڈالر حاصل کرے گا۔بیان میں کیا گیا ہے کہ اس منظوری سے حاصل کردہ رقم حکومتی منشور کے چار نکات معیشت، انتہا پسندی کے خاتمہ، تعلیم اور توانائی پرخرچ کی جائیگی۔ ورلڈ بنک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عالمی بنک نے پاکستان کے لئے پارٹنر شپ سٹریٹیجی تیار کرلی ہے۔ توانائی کے شعبے میں پالیسی اصلاحات اور سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اصلاحات کا مقصد لوڈشیڈنگ میں کمی، سستی توانائی کا حصول اور نقصانات کم کرنا ہے۔ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کیلئے پاکستان کی مدد کی جائے گی۔ عالمی بنک غریب اضلاع، خواتین، نوجوان، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی مدد کرے گا۔ راشد بن مسعود نے بتایا ہے پاور سیکٹر کیلئے 60 کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے، چالیس کروڑ ڈالر پیداوار میں اضافے کیلئے دیئے جائیں گے۔