آسام میں انتہا پسند قبائل نے مزید 11 مسلمان شہید کر دیئے‘ تعداد 22 ہو گئی

03 مئی 2014

نئی دہلی (نوائے وقت رپورٹ) بھارتی ریاست آسام میں انتہاپسند قبائل نے مزید 11  مسلمان قتل کردئیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایک دن میں قتل کئے جانیوالے مسلمانوں کی تعداد 22 ہوگئی۔ اے ایف پی کے مطابق 10 کے قریب مسلح افراد نے 20 گھروں پر حملہ کیا۔ واقعہ کے بعد فورسز نے علاقے میں آپریشن شروع کر دیا ہے اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کوکھراجھر میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ کو فون کرکے صورتحال پر قابو پانے کیلئے ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ مسلح افراد نے سوتے ہوئے افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ شہید ہونیوالے افراد میں چار خواتین  اور تین بچے  بھی شامل  ہیں۔ واضح رہے کہ آسام  میں مقامی یودو قبائل  اور مسلمان  آباد کاروں کے درمیان ایک طویل عرصے سے  زمینوں  کے جھگڑے چل رہے ہیں۔ اسی علاقے میں جنوری  میں 17 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ  حملوں کے خوف  سے  ہزاروں افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ  مقامات کی طرف چلے گئے تھے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے متاثرہ علاقے میں گشت کیلئے فوج کی مدد حاصل کرلی ہے۔ بودو قبائلیوں کا الزام ہے کہ سرحد پار بنگلہ دیش سے آنیوالے مسلمان غیر قانونی طور پر اس علاقے میں آباد ہوگئے ہیں۔ یہ علاقہ بھوٹان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...