طاہر القادری اور عمران خان کا حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک چلانے کا منصوبہ‘ نیا سیاسی اتحاد متوقع

03 مئی 2014

 لاہور( فرخ سعید خواجہ) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے موجودہ حکومت کے خلاف  الگ الگ  احتجاجی تحریک شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے جو آگے چل کر دیگر سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے نئے سیاسی اتحاد کو جنم دے گی۔ اس سلسلے میں کام جاری ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری موجودہ انتخابی نظام کے خاتمے کا نعرہ لیکر آگے بڑھیں گے جبکہ عمران خان الیکشن 2013 میں دھاندلی کو اپنی تحریک کا مرکزی نقطہ بنائیں گے۔ تحریک روزانہ کی بنیاد پر نہیں چلائی جائے گی بلکہ   11مئی کو ملک گیر مظاہروں کے بعد احتجاج، سیمینارز کانفرنسوں کا سہارا لیاجائے گا۔ عمران خان اپنے اس مطالبے کو لیکر چلیں گے کہ کم از کم چار حلقوں کو کھولاجائے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ عمران خان الیکشن کے ایک سال کے بعد دیگر اپوزیشن جماعتوںکو دھاندلی کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں کہ نہیں۔ مسلم لیگ (ق )کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے نوائے وقت کو بتایا کہ انہوں نے عمران خان کو تجویز دی تھی کہ دھاندلی کو بے نقاب کرنے کیلئے  قومی اسمبلی کی رکنیت کا نہ خود حلف اٹھائیں اور نہ ہی اپنی پارٹی کے دیگرمنتخب ہونے والے ممبران کو حلف اٹھانے دیں بلکہ آپ سب پارلیمنٹ کے باہر دھاندلی کے خلاف بطور احتجاج دھرنادیں۔ چوہدری شجاعت نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان کو یہ تجویز شوکت خانم ہسپتال میں اس وقت دی تھی جب الیکشن کے فوری بعد وہ وہاںعمران خان کی عیادت کیلئے گئے تھے۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی اب دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک میں شریک ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں تاہم اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اُن کا بھی دھاندلی کو بے نقاب کرنے کا ارادہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام بھی الیکشن 2013 میں دھاندلی کی شاکی ہے۔ ان تمام لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر دھاندلی نہ ہوئی ہوتی تو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم الیکشن کروانے پر تمغہ لیکر جاتے  اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہوتے۔ دریں اثناء حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) اپنے سیاسی مخالفین کی تحریکوں سے نمٹنے کیلئے اپنے سیاسی حریفوں کو اعتماد میں لینے جارہے ہیں۔ تاہم گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث حکومت مخالفت تحریکوں کو عوامی تائید حاصل ہوسکتی ہے۔