پاکستان صحافیوں کے لئے خطرناک ممالک میں شامل، حکومت میڈیا کی آزادی کو تحفظ دے: یورپی یونین

03 مئی 2014

اسلام آباد (این این آئی) یورپی یونین نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کیلئے بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ ملک میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں میڈیا آزادانہ اور موثر طورپر بلا خوف اپنا کام کرسکے۔ جمعہ کو عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں یورپی یونین نے کہا کہ حال ہی میں رضا رومی اور حامد میر جیسے معروف صحافیوں پر ہونیوالے حملے اس طرح کے متعدد واقعات میں تازہ ترین ہیں جبکہ 2008ء سے اب تک 34 صحافی جاں بحق ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ یورپی یونین کا وفد اور رکن ممالک کے سفارتخانے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ متعدد واقعات میں حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا اس لئے ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ صحافیوں کیخلاف کی جانیوالی تمام زیادتیوں کی تحقیقات یقینی بنا کر ذمہ داروں کیخلاف ضروری کارروائی کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم حکومت پاکستان کی جانب سے حامد میر کے کیس کی تحقیقات کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ صحافیوں سے متعلق دیگر کیسز پر بھی اسی طرح توجہ دی جائیگی۔ بیان میں حکومت پاکستان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کا مستقل مزاجی سے تحفظ کرے کیونکہ یہ آزادی اظہار کا اہم جزو ہے جس کی صراحت شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کے آرٹیکل 19 میں کی گئی ہے اور جس کا پاکستان بھی ایک فریق ہے اور وہ جی ایس پی پلس سکیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس پر بھرپور عمل کا عہد کرچکا ہے۔ بیان میں حکومت پاکستان سے کہا گیا ہے کہ ملک میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں میڈیا آزادانہ اور موثر طور پر بلا خوف اپنا کام کرسکے۔ اس حوالے سے یورپی یونین ضروری ماحول کی تیاری میں معاونت کیلئے تیار ہے۔