مرحوم اور ریٹائرڈ اعلیٰ افسر میں فرق؟

03 مئی 2014

اتفاق کی بات ہے کہ میں مجید نظامی کے گھر سے نکلا۔ ان کی اہلیہ فوت ہو گئی تھیں تو مجھے گھر سے باہر جاوید قریشی ملے۔ وہ نظامی صاحب کے ساتھ تعزیت کے لئے آئے تھے۔ وہ ایک اعلیٰ بیورو کریٹ تھے۔ ہمارے ملک میں بیورو کریٹ ایسے معاملات کو افسرانہ معاملات نہیں سمجھتے۔ میں بیورو کریسی کو براکریسی سمجھتا ہوں۔ مگر یہاں اچھے لوگ بھی ہیں۔ ان کے لئے لوگ کا لفظ بھی ’’مناسب‘‘ نہیں ہے۔ ریٹائر ہونے کے بعد بھی بہت دیر تک ان کے مزاج میں احترام کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ جب ان کے لئے اپنے احترام کا اہتمام نہیں ہوتا تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں نے بڑے بڑے افسران کو اکیلگی کی قید میں دیکھا ہے۔ ان کی بے بسی اور بے حسی میں پھر بھی فرق نہیں آتا۔
جاوید قریشی چیف سیکرٹری پنجاب کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے۔ وہ ذوق شوق والے آدمی تھے۔ ان کے چہرے پر ملائمت اور کشادگی ہمیشہ موجود رہی۔ انہیں مل کر بالکل نہیں لگتا تھا کہ ہم کسی بڑے افسر سے مل رہے ہیں۔ افسروں سے ملنا مجھے تو کبھی اچھا نہیں لگا۔ جاوید قریشی سے ملاقات بھی کم کم تھی۔ اہتمام نہ کرنے کے باوجود ان سے ملاقات ہو جانا بھی ایک کریڈٹ ہے۔
میں بہت بڑے ڈائریکٹر فلم، شاعر اور اداکار نعیم ہاشمی کی برسی پر برادرم خاور نعیم ہاشمی کے گھر پہنچا ہی تھا کہ مجھے برادرم ذوالقرنین اور نعیمہ بی بی کے بیٹے عزیز غالب نے بتایا کہ جاوید قریشی فوت ہو گئے ہیں۔ یہاں بہت لوگ جاوید قریشی کے جاننے والے تھے۔ وہ آرٹسٹوں کے شیدائی تھے۔ میں نے کسی اعلیٰ افسر کے ساتھ فنکاروں کی طرف سے محبت نہیں دیکھی۔ خاور نعیم ہاشمی کے گھر بہت فنکار آئے ہوئے تھے۔ ایک غم میں ایک اور غم شامل ہو گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آرٹ کے لئے جاوید قریشی کی سربراہی ایک رفاقت میں بدلتی چلی گئی۔ وہی رونق ان کے آس پاس ہمیشہ رہی۔ سب لوگ ان کی چاہت میں راحت پاتے رہے۔
وہ بیمار بھی ہوئے۔ بیماری کے لئے بھی کم کم دوستوں کو معلوم ہوا۔ دوسروں کے دکھوں میں شریک ہونے والا اپنا دکھ کسی کو نہ بتایا کرتا۔ برادرم ذوالقرنین اور نعیمہ جاوید قریشی کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ ان کا گھر دوستوں کی خدمت میں ہمیشہ آباد رہتا ہے۔ یہاں منیر نیازی کی یاد بھی زخمی پرندے کی طرح اڑتی رہتی ہے۔ احمد فراز اور منیر نیازی میں کچھ دوریاں تھیں مگر یہ ان دونوں کی قربتوں پر اثرانداز نہ ہو سکیں۔ میرے ساتھ بھی احمد فراز کا ایک جھگڑا بہت بڑھ گیا تھا مگر اس گھر میں احمد فراز کے ساتھ دوستوں کی طرح ملاقات ہوئی۔ ہم دونوں کو محسوس ہوا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
ایک دن دونوں میاں بیوی مجھے جاوید قریشی کے ہاں لے گئے۔ وہ بیمار تھے۔ مجھے انہوں نے دیکھا تو جیسے وہ صحت مند ہو گئے۔ ایک ایسی خوشی کی چمک ان کی آنکھوں میں تھی کہ میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ آج میں سوچتا ہوں…
انوکھی چمک اس کی آنکھوں میں تھی
مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا
ہم بہت دیر تک اس کے ساتھ رہے۔ اندر سے پیغام بھی آیا مگر وہ خوش تھے۔ ایک ایسا آدمی ان سے ملنے آیا تھا جو کبھی افسر جاوید قریشی سے نہ ملا تھا۔ جب وہ افسر تھے تو بھی چند ملاقاتوں میں جاوید قریشی سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ مگر افسرانہ شاعری ان کی پہچان نہ تھی۔ ان کے ریٹائر ہونے کے بعد ان کی شاعری کی دھوم ہوئی۔
آشیانے کی بات کرتے ہو
دل جلانے کی بات کرتے ہو
ایک ن لیگی نے کہا کہ یہ تو شہباز شریف کی آشیانہ ہائوس کے منصوبے کے خلاف شاعری ہے۔ اسے بتایا گیا کہ یہ تو بہت پہلے کا شعر ہے۔ مگر شاعری ہر حکمران کے منصوبوں پر تخلیقی حملہ ہوتا ہے۔ دونوں اپنا اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔
کیا شہباز شریف کے مداحوں کو بھی معلوم ہوا کہ ان اشعار کا کیا مطلب ہے۔ جاوید قریشی کے جنازے پر سابق حکمرانوں کا ہجوم تھا جو یہ ایک ریٹائر اعلیٰ افسر کی عظمت کی گواہی تھی۔ شاعر، ادیب، آرٹسٹ بہت زیادہ تھے۔
میں  مرے ہوئے دوست کا چہرہ نہیں دیکھا  کرتا۔ مجھے ’’ذوالقرنین نے بتایا کہ اتنا تازہ  دم چہرہ میں نے زندگی میں بھی جاوید قریشی کے وجود پر نہ دیکھا تھا۔
کچھ دن پہلے ذوالقرنین اور نعیمہ کے گھر پر حسب معمول دوستوں کا ہجوم تھا۔ دیر تک جاوید قریشی بیٹھے رہے۔ محفل چلتی رہی دلیر اور دانشور  آرٹسٹ شجاعت ہاشمی نے کہا کہ چیف  سیکرٹری کے طور پر  اپنی شاعری کی کتاب بھی نہ چھپوائی مگر کوئی … شاعر  آرٹسٹ ان کے پاس چلا گیا۔ واپس آیا تو  اس کے ہاتھ خالی نہ تھے۔  اور اس کا دل بھی خالی نہ تھا۔  ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی کتاب ذوالقرنین  اور دوستوں نے چھپوائی۔ ہم ادیب شاعر جاوید قریشی کا  یہ احسان نہیں بھول سکتے کہ وہ ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر تھے اور بے پناہ شاعر درویش فقیر اور عظیم شاعر مجید امجد فوت ہوئے تو وہ سب شاعر برادری کی طرف سے ان کے وارث بنے اور ان کی شخصیت اور شاعری  کو لاوارث  ہونے سے بچایا۔  ساہیوال سے صحافی رانا ریاض نے بتایا کہ جاوید قریشی کا یہ احسان آج بھی ایک گواہی کی طرح  شہر میں موجود ہے۔ مجید امجد  کے حافظ اور محافظ ڈاکٹر پرویز  خواجہ زکریا نے بھی لکھا ہے کہ مجید  امجد  کے مرنے کے بعد جاوید قریشی  کاکردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
جاوید قریشی چودھری شجاعت  اور چودھری پرویز الٰہی کے مداح تھے کہ وہ لوگوں کو عزت دیتے ہیں۔ مگر وہ ان کے جنازے میں نظر نہ آئے مگر حمزہ شہباز  موجود تھے۔ اس نوجوان سیاستدان کے لئے لوگوں  نے دل میں عزت محسوس کی۔  جانے والوں کو عزت دینا اپنے لئے بھی عزت مندی کا سبب بنتا ہے۔  جاوید قریشی کے آخری لمحوں  میں محسوس ہوتا رہا کہ ریٹائر اور مرحوم  اعلیٰ افسر میں ایک فرق ہوتا ہے۔