مقبوضہ کشمیر: نوجوان کی شہادت کے خلاف کشمیریوں کی ہڑتال، مظاہرے جاری، بھارتی فورسز کی شیلنگ،16 زخمی

03 مئی 2014

سرینگر (کے پی آئی) بھارتی فورسز کمے ہاتھوں بے گناہ کشمیری نوجوان کی شہادت  کیخلاف جمعتہ المبارک  کو بھی مقبوضہ کشمیر میں غیر معمولی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔  مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کیخلاف زبردست  نعرے لگائے۔  اس  دوران مکمل ہڑتال رہی جبکہ  سرینگر میں کرفیو نافذ رہا۔  ادھر حریت پسند قائدین  سید علی گیلانی،  میرواعظ عمر فاروق سمیت دیگر بدستورگھروں میں نظربند رہے۔ بڈگام میں  بھارتی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس و مرچی کی شیلنگ،  ہوائی فائرنگ اور  پیلٹ فائرنگ کی جس سے 16   افراد زخمی ہو گئے۔  کشمیری مظاہرین نے کئی مقامات پر شدید  پتھرائو کیا جس سے 7 اہلکار زخمی ہو گئے۔  دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی  نے  اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گرٹہ بل  نوکدال  میں بھارتی فائرنگ سے کشمیری نوجوان کی شہادت  انتہائی دلخراش  واقعہ اور بھارتی ظلم  و جبر  کی  منہ بولتی تصویر ہے۔ اب شمالی  کشمیر  کے عوام بھی 7 مئی  کو  بھارتی الیکشن  کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ کشمیریوں کے خون سے بھارت کے چنگل  سے  ضرور آزادی ملے گی۔ پرامن  احتجاج کرنیوالوں پر فائرنگ بھارتی حکمرانوں کی بوکھلاہٹ  کا ثبوت ہے۔  حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظم  عمر فاروق نے بھی اپنے ردعمل  میں کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر  کو ایک بڑے جیل خانے میں بدل دیا۔  بھارتی فوجی  جب اور جس  وقت چاہتے ہیں  نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیتے ہیں۔ انہوں  نے  کہا  کہ وادی میں کرفیو  کا نفاذ  ناقابل قبول ہے۔  بشیر بٹ نامی نوجوان  کی  شہادت  کو فراموش نہیں کیا جائیگا۔  تحریک کے موجودہ مرحلے پر من حیث  القوم  ہمارے لئے بھرپور استقلال کا  مظاہرہ کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل  ووٹنگ کے بعد پائین شہر کے نواکدل  علاقہ میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے  شہید 24 سالہ نوجوان بشیر احمد بٹ  کی شہادت  کے خلاف  متوقع احتجاج کے خدشے  کے پیش نظر بھارتی حکام نے   سختی سے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا اور اس  دوران سڑکوں  اور گلی  کوچوں  میں اضافی فورسز  و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا اور اندرونی گلی کوچوں  کو بھی خاردار تاروں  سے سیل کر دیا گیا تھا۔ شہریوں  کی نقل و حرکت  پر مکمل پابندی  عائد  تھی جبکہ  مکمل ہڑتال  کی وجہ سے وادی  بھر میں کاروباری زندگی مفلوج رہی۔  دکانیں،  کاروباری ادارے اور  سکول  و دفاتر بند رہنے سے سڑکوں  پر ہو کا عالم رہا  جبکہ  گاڑیوں کی آمد و رفت  معطل رہی۔