معیشت درست سمت میں گامزن ہے، ٹیکس وصولی 17 فیصد بڑھی: اسحاق ڈار

03 مئی 2014

لندن (اے پی پی + نوائے وقت رپورٹ) وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قومی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، حکومت کی ٹیکس اصلاحات کے نتیجہ میں ٹیکس کے حوالے سے جی ڈی پی کی شرح میں مناسب اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ محصولات کی وصولی 17 فیصد بڑھی ہے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز لندن سٹاک ایکسچینجز کے چیئرمین ڈاکٹر کرسٹوفر گبسن سمتھ کی قیادت میں برطانیہ کے ممتاز فنڈ منیجرز پر مشتمل وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں اقتصادی شعبے میں پاک برطانیہ تعلقات کو مزید تقویت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4.1 فیصد تک بڑھی ہے جو گزشتہ برس 3.4 فیصد تھی۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کر رہے ہیں اور دوبارہ پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔ لندن سٹاک ایکسچینج کے چیئرمین ڈاکٹر کرسٹوفر گبسن سمتھ نے وزیر خزانہ کو تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسا وزیر خزانہ پہلے کبھی نہیں دیکھا جو اپنے اعداد و شمار پر اتنی مضبوط گرفت اور اس قسم کا واضح وژن رکھتا ہو۔ بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارت کے بارے میں سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ دونوں حکومتیں دوطرفہ بنیاد پر زیادہ آزادانہ غیر امتیازی مارکیٹ رسائی دینے کے حوالے سے ملکر کام کر رہی ہیں۔ علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے ایک اور وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجہ میں ملک کے اقتصادی اشاریئے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر تک بڑھ چکے ہیں، 30 ستمبر 2014ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ جائیں گے، یورو بانڈ کے اجراء سے پاکستان 7 سال کی عدم موجودگی بعد دوبارہ بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں واپس آیا ہے۔ اس موقع پر لندن سٹاک ایکسچینج (ایل ایس ای) پاکستان کے کارپوریٹ شعبہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شراکت داری مواقع کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان یورو بانڈ کی بین الاقوامی مارکیٹ میں زبردست پذیرائی پر وزیرخزانہ کو مبارکباد بھی دی۔ اسحق ڈار نے زیویئر رولٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ حکومت کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجہ میں ملک کے اقتصادی اشاریئے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں سرمائے کی منڈی 40 فیصد بڑھی ہے۔