آسٹریلوی انتہا پسند گروپ کا اسلام کے خلاف اعلان جنگ، مسلمانوں کو قتل کی دھمکیاں

03 مئی 2014

سڈنی (آن لائن) آسٹریلیا میں ایک انتہاء پسند گروپ نے اسلام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہو ئے مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق  انتہا پسندوں کی جانب سے اسلام کے خلاف اعلان جنگ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پارلیمنٹ ملک میں موجود اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مروجہ قوانین میں ترامیم کر رہی ہے۔ برطانیہ میں سرگرم انگلش ڈیفنس لیگ کی طرز پر اس گروپ نے آسٹریلین ڈیفنس لیگ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور اسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے یو ٹیوب پر ایک دھمکی آمیز فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے۔ ویڈیو بیان میں آسٹریلوی علماء  کونسل کے سینیئر رکن اور ترجمان الشیخ محمد سلیم، سابق مفتی اعظم تاج الدین الہلالی، آسٹریلیا مسلم فرینڈشپ آرگنائزیشن کے چیئرمین اور سماجی رہنما قیصر طراد، سرکردہ علماء محمد ناجی اور فائز محمد کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے صاف الفاظ میں اسلام کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انتہا پسند گروپ پچھلے کئی ہفتوں سے آسٹریلوی معاشرے میں سرگرم عمل ہے۔ اسی گروپ کی امن مخالف سرگرمیوں کے بعد ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ پارلیمنٹ نے آئین کی دفعہ 18 میں ترامیم کے لیے تجاویز طلب کی ہیں اور ملک کے اعتدال پسند حلقوں کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق شدت پسند گروپ آسٹریلین ڈیفنس لیگ کا سربراہ اطالوی نژاد رالف سرمنارہ نامی ایک سابق فوجی افسر ہے، جس نے سوشل میڈیا پر ملک میں موجود اہم مساجد اور مدارس کی تصاویر بھی پوسٹ کرتے ہوئے ان پر نامناسب الفاظ میں تبصرے کیے ہیں ۔