ریونیو 3500 بلین روپے ہونے تک پاکستان کوئی ٹیکس نہ گھٹائے: عالمی ادارے

03 مئی 2014

اسلام آباد (عترت جعفری) عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کو رائے دی ہے کہ جب تک اس کا ریونیو 3500 بلین روپے تک نہیں پہنچ جاتا ملک کے اندر جی ایس ٹی سمیت کسی بھی ٹیکس کی شرح کو گھٹانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی بجٹ 2014-15ء میں ملک میں جی ایس ٹی کی شرح موجودہ سطح سے گرا کر 10فیصد سے کم کرنے کی تجاویز وزارت خزانہ کو پیش کی گئیں اور دوبئی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ فریم ورک پر بات چیت جاری ہے اور سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں پاکستانی وفد آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ ان مذاکرات میں قرضہ پروگرام کے تحت ریویو بھی ہو رہا ہے۔ ایف بی آر کو ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ 30اپریل تک انکم ٹیکس کی مد میں 655 بلین روپے‘ سیلز ٹیکس 825 بلین روپے‘ فیڈرل ایکسائز کی مد میں 126بلین روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 188 بلین روپے حاصل کئے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے جی ایس ٹی کی شرح 10فیصد سے کم رکھنے کی تجویز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں معیشت کی دستاویز بندی نہیں اور ایک بڑا حصہ ٹیکس نیٹ میں نہیں۔ ان حالات میں جی ایس ٹی کی شرح  گھٹانے کے نتائج کئی سو بلین ریونیو میں کمی کی صورت میں نکلیں گے۔